بھارت میں مسلم کشی پر عالمی خاموشی کیوں؟

بھارت میں مسلم کشی پر عالمی خاموشی کیوں؟
 بھارت میں مسلم کشی پر عالمی خاموشی کیوں؟

  



آج کا بھارت میں متنازعہ بل کے حوالے سے مظاہروں اور جلسوں کا زور چل رہا ہے۔ اس احتجاج کو روکنے کیلئے پولیس اور دیگر سرکاری ادارے مظاہرین پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے ہیں۔ کہیں تو مار پٹائی اور کہیں گولی بھی چلی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ہندوستانی حکام متنازعہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف غیر ضروری طور پر مہلک ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ 12 دسمبر یعنی جب سے یہ احتجاج شر وع ہوا ہے، کم از کم 25 افراد ہلاک، بیسیوں زخمی اور سینکڑوں گرفتار ہو چکے ہیں مگر یہ احتجاج ہے کہ روکنے میں ہی نہیں آرہا۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اصل اعتراض یہ ہے کہ ان مظاہرین کے خلاف جو مہلک ہتھیار استعمال کئے جا رہے ہیں وہ کسی طرح بھی درست نہیں۔ ایک تو پولیس نے ضرورت سے زیادہ ان مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جن میں اکثریت طلبا کی ہے اور خاص طور پر مظاہرین میں اموات ان علاقوں میں زیادہ ہوئیں جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے۔ مثلاً اتر پردیش میں 18، آسام میں 5، کرناٹک میں 2 افراد ہلاک ہوئے۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ ہلاک شدگان میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ جن میں ایک 8 سالہ لڑکا بھی شامل ہے جو اتر پردیش میں ہلاک ہوا۔ اب بتائیے بھلا اس لڑکے کا کیا قصور، اس کو تو یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ احتجاج کیوں ہو رہا ہے مگر وہ اپنی جان سے گیا۔ بھارتی حکام نے پرامن احتجاج کو روکنے کیلئے برطانوی قوانین کا استعمال کیا۔ انٹرنیٹ، موبائل بندش، آمدورفت پر پابندی لگائی گئی۔ یوں احتجاجیوں کو للکارا گیا۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں ہندو بستے ہیں۔ ان میں اکثر مسلم ممالک ہیں جہاں ہندو بڑے پرامن اور مہذب زندگی گزار رہے ہیں۔ جہاں ان کی مذہبی آزادی پرکوئی پابندی نہیں۔ مثلاً 6.3 ملین ہندو سعودی عرب میں رہتے اور کام کرتے ہیں، 1.6ملین ہندو عمان میں اور 1.1ملین کویت میں رہتے ہیں۔ اسی طرح 0.9 ہندو مذہب کے لوگ بحرین، 1.3 ملین قطر، 9.0 ملین متحدہ عرب امارات میں بستے ہیں۔ اس کے علاوہ ملائیشیا، انڈونیشیا میں بھی ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے۔ جبکہ پاکستان میں 5 ملین اور تقریباً5 ملین ہی بنگلہ دیش میں ہندو بستے ہیں۔

دنیا کے دیگر مسلم ممالک میں بھی ہندو بستے ہیں مگر یہاں کو ئی انہیں اللہ اکبر کہنے پر مجبور نہیں کرتا اور نہ ہی بھارت واپس جانے کا کہنا ہے۔ کسی ایک ہندو کو بھی مذہب کے حوالے سے یا ہندو ہونے کے حوالے سے کوئی تکلیف نہیں۔ بلکہ خلیجی ممالک میں تو بعض ہندو خاندان مساجد کے بالکل قریب رہتے ہیں اورانہیں کوئی پریشانی بھی نہیں ہوتی۔ آج تک کوئی واقعہ نہیں ہوا کہ کسی ہندو ہجوم یا گروہ پر غیر ضروری تشدد کیا گیا ہو اور ان کی ماورائے قانون ہلاکت ہوئی ہو۔ مگر یہ انتہا پسند ہندو بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ کیا بھارتی حکومت نے اس تشدد اور بربریت کو روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی۔کیا مودی سرکار نے اس کے ذمہ دار لوگوں کو کسی قسم کی سزا دی۔ کیا یونیسکو یا اقوام متحدہ اس وحشیانہ برتاؤ کو روکنے کیلئے کوئی قانون بھارت پر لاگو کر سکتی ہے۔ مسلم مخالف متنازع شہریت قانون کے خلاف بھارت کے کئی شہرمیدان جنگ بن گئے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران ہلاکتیں 26ہو گئیں جبکہ سیکڑوں افرادزخمی ہو چکے اور سینکڑوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

بھارتی حکومت نے توڑ پھوڑ کا الزام لگا کر مظاہرین کی جائدادیں ضبط کرنا شروع کر دیں۔ مظفر نگر میں 50 دکانیں سیل کر دی گئیں، جن کے مالکان پر بھارتی حکام کی جانب سے مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ احتجاج میں شدت سے پریشان مودی حکومت نے بھارتی ٹی وی چینلز کو مظاہروں کی کوریج سے روکنے کے لیے ایڈوائزری جاری کردی۔ قانونی امور کے بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت ریاست شہریوں اور غیر شہریوں دونوں کو قانون کے تحت مساوی حقوق کے تحفظ سے انکار نہیں کرے گی۔ آئین مذہب کی بنیاد پر کسی بھی طرح کے امتیازی سلوک اور درجہ بندی کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے مہاجر مسلمان بھی آرٹیکل 14 کے تحت محفوظ ہیں۔

اس میں اسلام اور یہودی مذہب کے ماننے والوں کو چھوڑنا آئین کی اصل روح کے خلاف ہے۔ یعنی ایک شخص اس کے خلاف عدالت میں جاسکتا ہے اور اسے وہاں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ یہ قانون کس طرح آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرسکتا ہے۔ راجیہ سبھا میں شہریت کے ترمیمی بل کی منظوری سے قبل ہی انڈین یونین مسلم لیگ اسے چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ پہنچی۔ اس کے علاوہ پیس پارٹی نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی کرتا ہے اور یہ آئین کے بنیادی ڈھانچے یا تجویز کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر شہریت نہیں دی جاسکتی۔اپنی درخواست میں انھوں نے اس قانون کو غیر آئینی ہونے کی حیثیت سے منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون مذہب اور مساوات کی بنیاد پر امتیاز برتا ہے اور سپریم کورٹ کو مسلم برادری کی جان، ذاتی آزادی اور وقار کا تحفظ کرنا چاہئے۔ یہ قانون ہمارے آئین کی بنیادی شکل سیکولرازم کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے، لیکن عدالت میں ان درخواستوں کا کیا ہو گا؟ کیا وہ یہ ثابت کرسکیں گے کہ یہ آئین کی بنیادی شکل کے خلاف ہے؟ بی جے پی وزیر نے بھارت کے احتجاجی طلباء کو دھمکی دی ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیاست برداشت نہیں کی جائیگی۔ دو ہفتے قبل جامعہ ملیہ دہلی میں پولیس کے غنڈہ راج، تشدد کو جلیانوالہ باغ سے ملاتے ہوئے جامعہ والا باغ کا نام دیا ہے۔

پولیس مسلمانوں کے علاقوں میں گھروں میں گھس گئی بچوں اور خواتین پر تشدد املاک کو نقصان پہنچایا گاڑیاں، توڑ دیں۔ انتظامیہ نے کرفیو لگا کرمسلمانوں کو گھروں تک محدود کر دیا۔ ایک وائرل ویڈیو میں بڑی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ کے ایس پی(سٹی) اکھلیش سنگھ یہ کہتے نظر آئے کہ یہ جو کالی اور پیلے رنگ کی پٹی باندھے ہوئے ہیں، ان سے کہہ دو پاکستان چلے جائیں۔ اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا تھا کہ اگر یہ بیان واقعی دیا گیا ہے تو ان کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں جبکہ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی کیشیو پرساد موریہ اس معاملے پر اکھلیش سنگھ کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ بھارت میں اپوزیشن رہنما پریانکا گاندھی نے کہا ہے کہ شہریت بل پر احتجاج کرنے الوں کیخلاف پولیس ایکشن غیر قانونی ہے۔ پہلے تحقیقات ہونی چاہئیں کہ ملک کو نقصان کس نے پہنچایا۔ تحقیقات سے پہلے پولیس کارروائیاں غیر قانونی ہیں۔ یو پی پولیس مظاہرین کیخلاف طاقت کا ناجائز استعمال کر رہی ہے۔ متنازعہ شہریت بل نافذ ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ بھارتی عوام ایسا نہیں چاہتی۔ کانگریس کسی صوبے میں شہریت بل نافذ نہیں ہونے دے گی۔ یو پی پولیس مظاہرین کیخلاف طاقت کا ناجائز استعمال کر رہی ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...