چینی کی پیداواری لاگت 82روپے فی کلوسطح تک پہنچ چکی، حنیف گجر

چینی کی پیداواری لاگت 82روپے فی کلوسطح تک پہنچ چکی، حنیف گجر

  



لاہور(پ ر) پاکستان کسان موومنٹ کے صدر حنیف گجرنے ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں وسطی پنجاب کے اضلاع سرگودھا، خوشاب، جھنگ، فیصل آباد، گجرانوالہ اور مظفر گڑھ کے کسانوں کے علاوہ متعلقہ اضلاع کے عہدیداران نے بھی شرکت کی۔ کسانوں نے شوگر ملوں کی بندش پر غم و غصے کا اظہار کیااور کہا کہ ہم حکومت کے مقرر کردہ 190روپے فی من نرخ پر گنا شوگر ملوں کو دے رہے تھے۔لیکن کچھ لالچی کالی بھیڑیں 230سے240 روپے فی من نرخ پر گنا ملوں کو فراہم کرنا چاہتی ہیں۔کسانوں نے گنے کی قیمت 180سے 190روپے فی من بڑھانے کے  وزیرِاعلیٰ پنجاب کے اقدام کو بے حد سراہا اور کہا کہ اس سے کسانوں کو بہت فائدہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ لالچ کی کوئی حد نہیں ہوتی ورنہ یہ قیمت بہت مناسب ہے۔حنیف گجر نے ایک اخباری خبرکے حوالہ سے بتایا کہ گنے کی قیمت میں 10روپے فی من اضافہ کی وجہ سے چینی کی پیداواری لاگت 81سے 82روپے فی کلوسطح تک پہنچ چکی ہے۔ اور اگر گنے کی قیمت 230سے 240روپے فی من تک پہنچ جائے تو اندازہ کریں کہ چینی کی پیداواری لاگت کیا بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب میں چینی اور گنے کا بحران پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام سٹیک ہولڈرز گنے کے کاشتکار، صارفین اور شوگر ملوں کے لیے مساوی مواقعے ہوں۔حنیف گجر نے ایک خبر جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومت چینی کے نرخ 70روپے فی کلو تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔

تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر چینی کی پیداواری لاگت 81 سے 82روپے فی کلو ہو اور ملوں کو چینی 70روپے فی کلو بیچنے پر مجبور کیا جائے تو ملیں دیوالیہ ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ملیں دیوالیہ ہوں کیونکہ ملوں کا چلنا ہی کسانوں کے مفاد میں ہے۔ شوگر ملیں گنا فروخت کرنے کی مارکیٹ ہیں۔حنیف گجر نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مداخلت کی اپیل کی ہے اورکہا ہے کہ ملوں کی تیار کردہ چینی کی پیداواری لاگت کا تخمینہ لگایا جائے اور چینی کی قیمت کو طلب و رسد کی بنیاد پر کیا جائے۔ کسانوں کے مفاد کی خاطرمارکیٹ کے اس طریقہء کارمیں دخل اندازی نہ کی جائے۔

مزید : کامرس


loading...