جون تک فارن ایکس چینج پراسسز کی آٹومیشن کی جائے‘ ارشد محمود 

جون تک فارن ایکس چینج پراسسز کی آٹومیشن کی جائے‘ ارشد محمود 

  



اسلام آباد (کامرس ڈیسک) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے تاجر برادری کیلئے فارن ایکس چینج ادائیگیوں کے معاملات کے بارے میں ایک آگاہی پروگرام کا انعقاد کیا جس میں سٹیٹ بینک کے فارن ایکس چینج پالیسی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ارشد محمود بھٹی، فارنس ایکس چینج آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کے سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر شکیل ایم پراچہ، جوائنٹ ڈائریکٹر محمد عماد انصاری اور دیگر نے شرکت کی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے افسران نے تاجر برادری کو ایک تفصیلی پریزینٹیشن دی جس میں ایس بی پی کے آن لائن پورٹل سمیت ٹریڈ، ایکسپورٹ، امپورٹ،کمرشل ترسیلات زر، نجی ترسیلات زر اور انشورنس کے معاملات میں غیر ملکی زرمبادلہ میں ادائیگیوں کیلئے دستاویزی ضروریات کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کے فارن ایکس چینج پالیسی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ارشد محمود بھٹی نے کہا کہ تجارتی خسارے میں بے تحاشا اضافے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی سمیت دیگر وجوہات کی وجہ سے ملک کی معیشت میں عدم توازن پیدا کر دیا تھا جس وجہ سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو بزنس کمیونٹی کیلئے غیر ملکی زرمبادلہ میں پیشگی ادائیگیوں پر کچھ پابندیاں لگانا پڑی تاہم انہوں نے کہا کہ پیداواری شعبے کو اس وقت بھی خام مال اور سپیئر پارٹس کی درآمد کیلئے ایل سی کا پچاس فیصد تک ایڈوانس پیمنٹ کی سہولت موجود ہے جبکہ دس ہزار ڈالر تک کی ایڈوانس ادائیگی کا اختیار بینکوں کو دے دیا گیا ہے۔

انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ معیشت کا عدم توازن کم ہونے کے ساتھ ساتھ تاجر براردی کو درآمدات و برآمدات کے معاملات میں بتدریج ایڈوانس ادائیگی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاجر برادری ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے ادائیگیوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے کیونکہ یہ غیر اخلاقی ہے اور معیشت کیلئے نقصان دہ ہے اور قانونی طریقوں سے غیر ملکی ادائیگیاں کرنے کی کوشش کرے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے فارنس ایکس چینج آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کے سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر شکیل ایم پراچہ اپنے خطاب میں بینک کے آن لائن پورٹل اور آٹومیشن کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ فارن ایکس چینج کے کیسوں میں تاخیر سے بچنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ تاجر برادری دستاویزی ضروریات کو مکمل کر کے کیس فائل کرے۔ انہوں نے ان دستاویزات کی تفصیل بھی بتائی جو فارن ایکس چینج ادائیگیوں کیلئے ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ مینول طریقے سے فارن ایکس چینج کیسوں میں 5تا7دن لگتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ایسے کیسوں کے پراسس کی آٹومیشن کی جا رہی ہے جس کی تکمیل جون 2020تک متوقع ہے جس کے بعد ان کیسوں کی جلد پراسسنگ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ آٹومیشن کے بعد جو بھی فارن ایکس چینج کیس آن لائن فائل کیا جائے گا اس کا بذریعہ امیل ایک مخصوص نمبر دیا جائے گا جس سے گاہک کو تمام مراحل میں کیس کا سٹیٹس معلوم کرنے میں آسانی ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک نے ایک سہولتی ڈیسک قائم کیا ہے لہذا فارن ایکس چینج کیسوں سے متعلق کوئی بھی شکایت اب ای میل کے ذریعے ای میل ایڈریس facilitation.fx@sbp.org.pk پر بھیجی جا سکتی ہے یا فون نمبر021-32455387پر کال کر کے درج کرائی جا سکتی ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ سٹیٹ بینک اس کو بروقت حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر سیف الرحمٰن خان نے اپنے خطاب میں تاجر برادری کیلئے فارن ایکس چینج معاملات پر آگاہی پروگرام منعقد کرنے پر سٹیٹ بینک کے افسران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کو درآمدات و برآمدات کے معاملات میں ایڈوانس پیمنٹ میں کافی مشکلات کا سامنا ہے جس وجہ سے ان کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سٹیٹ بینک ان مشکلات کو حل کرنے اور ایڈوانس ادائیگیوں کا عمل مزید آسان بنانے پر غور کرے۔ تاجر برادری کے نمائندگان نے اس موقع پر فارن ایکس چینج ادائیگیوں میں درپیش مختلف مشکلات کی نشاندہی کی اور ان کے حل کی ضرور ت پر زور دیا۔ انہوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے افسران سے بہت سے سوالات بھی کئے جن کے تفصیلی جوابات دیئے گئے۔  

مزید : کامرس


loading...