پنجاب سی این جی سٹیشنز 15روز بعد بھی بند، وفاقی وزیر کا وعدہ وفاہو نہ سکا 

پنجاب سی این جی سٹیشنز 15روز بعد بھی بند، وفاقی وزیر کا وعدہ وفاہو نہ سکا 

  



ملتان (سٹاف رپورٹر)ملتان سمیت صوبہ پنجاب کے سی این جی سٹیشنز 15روز بعد بھی کھل نہ سکے‘ وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل کی یقین دہانی بھی باتوں کی حد تک رہی۔ بتایا گیا ہے کہ سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ بڑھنے کے ساتھ ہی سوئی گیس ناردرن پائپ لائنز لمیٹڈ(ایس این جی پی ایل)نے19دسمبر کو صوبے بھر کے سی این جی سٹیشنزکو گیس کی فراہمی بند کر دی تھی۔ ایم ڈی ایس این جی پی ایل کے حکم کے مطابق سی این جی سٹیشنز کو گیس کی فراہمی بند کرنے (بقیہ نمبر37صفحہ7پر)

کا یہ جواز پیش کیا گیا کہ سوئی گیس لائنوں میں پریشر کم ہو گیا ہے‘ اس لئے سی این جی سٹیشنز کو گیس فراہم نہیں جا سکتی۔ اس حوالے سے آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے حیرت اور تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی این جی سٹیشنز تو ایل این جی بیسڈ سی این جی فروخت کر رہے ہیں جو قطر اور دیگر ممالک سے امپورٹ کی جاتی ہے اور اس میں حکومت بھاری ٹیکس بھی وصول کررہی ہے‘ اس کی بندش کیوں کر کی گئی ہے۔یہ سی این جی سٹیشن مالکان اور صارفین کو تنگ کرنے کا نیا بہانہ ہے‘ بعد ازاں آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے وفد نے وفاقی وزیر پٹرولیم کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کی جنہوں نے ایل این جی بیسڈ سی این جی کی فراہمی 2جنوری تک بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی مگر وہ اپنے وعدے اور اعلان پر عملدرآمد نہ کرا سکے۔ اس صورتحال میں آج آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن صورتحال پر غور کے بعد آئندہ کے لئے لائحہ عمل طے کرے گی۔دوسری جانب صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت صارفین کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی‘ پہلے کہا جاتا تھا کہ ملک میں سوئی گیس کی قلت ہے‘ اس لئے سی این جی سٹیشنز بند کئے ہیں اور اب جبکہ ایل این جی امپورٹ کرکے بھاری قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے تو پھر بھی سی این جی پمپ مالکان اور صارفین کو بے جا تنگ کیاجارہا ہے۔صارفین نے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیاہے کہ فوری طور پر سی این جی سٹیشنز کھولنے کا حکم جاری کریں اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کریں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...