پنجاب میں سبزیوں کا قحط کیوں؟

پنجاب میں سبزیوں کا قحط کیوں؟

  



ابتدایہ: منظور احمد صاحب نے کینال ویو، ویسٹ ووڈ، ویلنشیاء اور ازمیر جیسی کامیاب ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائی ہیں۔ اُنہوں نے آج سے نو سال پہلے ہی محسوس کر لیا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور لاہور شہر کے چاروں اطراف ہاوسنگ سوسائٹیوں کی بھر مار کی وجہ سے شہر کو سبزیوں کی رسد دور دراز کے علاقوں سے مہنگی میّسرہوگی۔منظور صاحب نے کواپریٹو کی بنیاد پر سبزیوں کی پیدا وار بڑھانے کا منصوبہ 2011ء میں بنایا تھا۔ لاہور شہر کے گرد و نواح میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں زمین کے بڑے بڑے قطعات خالی پڑے ہیں۔ اگر اُن خالی قطعات کو سوسائٹیوں سے عارضی پٹہ پر لے کر سبزیوں کی کاشت کی جائے اور حکومتی اداروں کے ایکڑوں پر پھیلے ہوئے خالی قطعات کو 5 یا 10 سا ل کے پٹہ پر حاصل کر کے Tunnel Farming کی جائے تو لاہور میں سبزیوں کی سپلائی 10 گنُا زیادہ ہو جائے گی۔ رسد کے بڑھنے سے سبزیاں ارزاں بھی ہوں گی۔ 2011ء میں کواپریٹو سوسائٹیاں بنانے پر پابندی لگی ہوئی تھی اور یہ پابندی ابھی بھی قائم ہے۔ موجودہ حکومت چونکہ مہنگائی کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر لڑ رہی ہے، اس لئے منظور صاحب نے Punjab Vegetables & Furits Coop. Society بنانے کا اِرادہ کیا ہے۔ منظو ر احمد صاحب سینئر کواپریٹو Activist ہونے کے علاوہ 38 سال بینکنگ کے شعبے سے منسلک رہے ہیں۔ 27 سال بیرونِ ملک تعینات رہے ہیں۔ بینک جوائن کرنے سے پہلے منظور احمد صاحب 6سال تک CSS کے آفیسر رہے ہیں۔ اِن کی تعلیم M.A. انگریزی اورM.A. معاشیات ہے۔ روزنامہ ”پاکستان“ کے مستقل لکھاری ہیں۔ اس پیرانہ سالی میں بھی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ حکومت کو اِن کے مشورے سے مستفید ہونا چاہئے۔

٭٭٭

سوال:منظور صاحب 9 سال پہلے آپ کو سبزیوں کی پیداوار بڑھانے کا خیال کیسے آیا؟

جواب:ایثار صاحب، انسان میں اگر مسائل کو Identifyکرنے کی اِستعداد ہو اور وہ سوچ کا مادہ بھی رکھتا ہو تومعاشرے میں بڑ ی آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں،چونکہ میں 4 ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا چکا تھا اور دیکھتا تھا کہ سوسائٹی مکمل ہو جانے کے باوجود ایکڑوں کے حساب سے ممبروں کے پلاٹ خالی پڑے رہتے ہیں۔ اُن پلاٹوں پر مکان تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے جنگلی گھاس اُگتی رہتی ہے۔ اگر اِن خالی پلاٹوں کو سوسائٹی سے یا پلاٹوں کے اجتماعی مالکان سے اِن کی اراضی کو کچھ عرصے کے لئے لیز پر لے کر سبزیاں کاشت کر کے ممبران جو سوسائٹی میں رہائش پذیر ہوں اور باہر کے صارفین کو ارزاں قیمت پر فروخت کی جائیں تو مہنگائی پر کافی قابو پایا جا سکتا ہے۔

سوال:آپ نے ہاؤسنگ سوسائٹیاں بھی مکانوں کی قلّت کے سلسلے کا سوچ کر بنائی تھیں؟

جواب:جی بالکل۔ اُس وقت میں سوِل سروس چھوڑ کر بینک میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہو چکا تھا۔ میَں نے اپنے بینک کی بزنس بڑھانے کے لئے اور مکانوں کی قِلت کو دیکھتے ہوئے، اپنے بینک سے کینال ویو ہاؤسنگ سوسائٹی میں سرمایہ کاری کروائی۔ یہ 1974ء کا سال تھا۔ پاکستان بننے کے بعد تمام پنجاب میں یہ پہلی کواپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی تھی جو آج ایک Elite سوسائٹی کہلاتی ہے۔ تما م کواپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیاں کینال ویو کے بعد بنی ہیں۔پاکستان بننے سے قبل صرف ماڈل ٹاؤن سوسائٹی لاہور کواپریٹو سیکٹر میں موجود تھی۔

سوال:آپ نے کواپریٹوکا ماڈل کیوں سوچا۔ بزنس ماڈل میں کیوں نہیں آئے؟

جواب:دیکھئے میَں بینک ملازم تھا۔ میَں یا بینک بھی اُن دِنوں ہاؤسنگ کے بزنس ماڈل میں نہیں آسکتے تھے۔ کیونکہ اُن دِنوں اسٹیٹ بینک کی پابندیاں تھیں۔میَں انفرادی طور پر تو بالکل ہی نہیں آسکتا تھا۔ میرے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی بطور Developer کے، لیکن سب سے اہم بات یہ کہ کواپریٹو ماڈل ایک باعزت NGO کی طرح ہے۔ کراچی کا ہاؤسنگ کا مسئلہ سب سے پہلے کواپریٹو کی بنیادوں پر حل ہونا شروع ہوا تھا۔

سوال:اِسی لئے آپ سبزیات کی کاشت کو اپریٹو کی بنیاد پر کرنا چاہتے ہیں؟

جواب:دیکھئے، بطور ایک کواپریٹر کے میَں نے کامیابیاں حاصل کیں ہیں۔ اس حوالے سے مجھے ہزاروں لوگ جانتے ہیں۔ کواپریٹو کی Projects کو ایک بزنس ہاؤس کی طرح چلایا جا سکتا ہے۔ حصہ داروں کی مستقل آمدنی کا زریعہ بن سکتا ہے۔ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی طرح کسی پھڈے یا دھوکا بازی کا ڈر نہیں ہو گا۔ ہر چھ ماہ بعد سبزیوں کی کاشت اور فروخت سے حصہ د اروں کو مالی فوائد ساتھ کے ساتھ ملتے رہیں گے۔ سب سے اہم بات یہ کہ 46 سال تحریک امداد باہمی سے منسلک رہنے کی وجہ سے میَں مکمل طورپر قائل ہوں کہ ناجائز منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں اور دونمبر بزنس کرنے والے لوگوں سے بچنے کا طریقہ تحریک ِ امداد ِ باہمی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے عوام بوگس ہاؤسنگ سوسائٹیو ں، کریڈٹ سوسائٹیوں، زرعی سوسائٹیوں اور کواپر یٹو بینکوں کی نا اہلی کی وجہ سے خائف ہیں کچھ کواپریٹو ایکٹ 1925 کا بھی قصور ہے جو بالکل فرسودہ ہو چکا ہے اور آج کی بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کا ساتھ نہیں دے سکتا۔

سوال: Vegetable سوسائٹی کے خد و خال کیا ہوں گے اور اس کے آئندہ پروگرام کیا ہوں گے۔حصہ داروں کو کیا فائدہ ہوگا۔ صوبہ پنجاب کو کیا فائدہ ہوگا؟

جواب:آپ نے ایک سوال میں کئی سوال کر دئیے۔ دیکھئے جی Vegetable & Fruit Coop. Society کے قوانین (Bye-Laws) تیار ہو چکے ہیں یہ قوانین 1925 کے ایکٹ کے مطابق بنائے گئے ہیں۔اِن قوانین کی رجسٹریشن کے فوراً بعد، ہم خیال احباب اور عزیز و اقارب کو سوسائٹی میں شامل ہونے پر مدعو کیا جائے گا۔ ضروری سرمایہ ممبران سے Shares کی صورت میں مل جائے گا۔ خوش قسمتی سے ہمارے ایک ممبر کمرشل زراعت میں امریکہ سے Phd ہیں، اور ورلڈ بینک سے ریٹائر ہو کر ہمیں مشاورت دیں گے۔ ہمارے ایک اور ممبر Tunnel Farming کے ماہر ہیں، کئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہمیں اپنی خالی اراضی مختصر لیز پر دینے کے لئے تیار ہیں۔ یعنی ویجی ٹیبل سوسائٹی کی رجسٹریشن کے بعد فوراً کام شروع ہو سکتا ہے اور اس سوسائٹی کے حصہ داروں کو مارکیٹ سے ارزاں سبزیاں مل سکیں گی اور منافع بقدر Investment مل سکے گا۔

مہنگائی کو دُور کرنا اس وقت حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ سبزی مافیہ کو کنٹرول کرنے کا،حکومت ِ پنجاب کے لئے تمام ملک میں یہ پہلا تجربہ ہو گا۔۔ سبزیوں کو ارزں کرنے کا پنجاب کا تجربہ دوسرے صوبوں میں بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔

سوال:ارزاں سبزیوں کے علاوہ یہ سوسائٹی اور کیا کیا کام کرے گی؟

جواب:ذرا سوچئے کہ سبزیاں مہنگی کیوں ہوئیں؟ سبزیوں کی ڈیمانڈ بڑھی کیونکہ دال، گوشت اور مچھلی مہنگے ہو چکے تھے۔ Law of substitution کے تحت، عوام کا رُخ سبزیوں کی طرف ہوا۔ سبزیوں کی مانگ سے مہنگائی آئی۔ بڑے شہروں کے پھیلاؤ سے سبزیوں کے لئے قابل ِ کاشت اراضی کم ہوتی گئی۔ موسمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار بھی کم کر دی۔ ہمارے زمیندارنے کمرشل فارمنگ کے جدید طریقے نہیں اپنائے اِن سب عناصر کی وجہ سے سبزیوں کا قحط پڑا۔

جب سوسائٹی کے ممبران کو Tunnal Farming سے زیادہ مالی فائدہ ہوگا تو سوسائٹی پنجاب کے مختلف حصوں میں رقبہ خریدے گی اور اُس میں زیتون، گوار گندم (Alu vera) اور Short duration کے باغات لگائے گی۔ یہ Cash crops ہونگی یعنی مقامی فروخت کے علاوہ ایکسپورٹ بھی ہو سکیں گی۔ سبزیوں کی فروخت میں ہم Middleman کا کِردار ختم کرنا چاہتے ہیں۔ کواپ سٹور کی طرح ہم اپنی تازہ سبزیوں کے لئے Sale Point بنائیں گے۔ اتوار بازارکی جگہ ہم منگل بازار لگائیں گے،جو Exclusive ہماری سبزیوں کے ہوں گے، جو فالتو سبزیاں بچیں گی ہم اُس کو خشک کر نے کے بعد جدید Dehyderation پلانٹ لگائیں گے۔ جدید Packing کے ساتھ مقامی فروخت بھی ہو گی اور Export بھی۔ جوں جوں کام بڑھے گا، ہماری سوسائٹی کی کوشش ہو گی کہ گوشت کی کمی کو پورا کرنے کے لئے، ہم Calf Fattening کے کاروبار میں بھی جائیں۔ اپنے جانوروں کا گوشت حکومتی مذبح خانے سے تیار کروا کر ایکسپورٹ بھی کر سکتے ہیں۔ یہ سب کام ممبران کے بھروسے اور تعاون سے ہی ممکن ہو گا۔ ہمارے ملک میں اتنے دو نمبر اور دھوکا دھی والے کام ہوتے ہیں کہ عوام اجتماعی کاروبار کرنے سے ڈرتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ چھوٹے سرمایہ کاروں کے لئے کواپریٹو بہترین ماڈل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کامیابیاں دیں تو ہم مکانوں کی چھتوں اور Lawns میں لکٹری کے کریٹ (Crates)میں سبزیاں اِتنی پیدا کر سکتے ہیں کہ گھر والے بھی سبزیاں کھائیں اور فالتو سبزیاں سوسائٹی کو فروخت کر سکیں۔ اس ماڈل کو Kitchen Gardening کہتے ہیں۔ سبزیاں حاصل کرنے کا یہ طریقہ یورپ میں چھوٹی چھوٹی کمپنیاں کاروبار کے طور پر کرتی ہیں۔ 2011ء میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ نے کچن گارڈن کے بارے میں مجھ ہی سے سُنا تھا۔ میَں نے اس انٹرویو میں بڑے مختصر کاروبارکا ذکر کیا ہے۔ دراصل یہ Multi-Billion کا کاروبار ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس سوسائٹی کے زیرِ اثر تمام کاروبار Labour Incentive ہیں۔ میَں لاکھوں غیر ہنر مند اور ہنر مند لوگوں کو اس سوسائٹی کے تحت ملازمت کرتے دیکھ رہا ہوں۔

٭٭٭

مزید : کھیل اور کھلاڑی