ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی، 2019کے دوران عوام گرانفروشوں کے ہاتھوں لٹتے رہے 

      ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی، 2019کے دوران عوام گرانفروشوں کے ہاتھوں لٹتے ...

  



ملتان (نیوز رپورٹر) ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی و سست روی اور ڈنگ ٹپاو پالیسیوں کے باعث سال 2019ء  کے دوران ضلع بھر میں گرانفروشی کے سدباب اور متعدد اعلانات پر پیشرفت نہ ہونے کے باعث کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے میں نہ آسکی ہے خود ساختہ گرانفرش مافیا عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنے میں مصروف رہا پرائس کنٹرول مجسٹریٹس دفاتر کی فائلوں اور اعلانات تک محدود رہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہر بھر کے اشیائے خورونوش کی دکانوں پر ریٹ(بقیہ نمبر12صفحہ12پر)

 لسٹ آویزاں کرنے کا دعوی بھی ہوا ہوکر رہ گیا اسی طرح سال 2019ء  کے اوائل میں مسافروں کے لئیے چار پناہ گاہوں کا قیام جس میں نشتر ہسپتال، کینٹ ریلوے سٹیشن، جنرل بس سٹینڈ اور قلعہ کہنہ قاسم باغ شامل تھا اس پر بھی مکمل عملدرآمد نہ ہوسکا ڈی سی او نسیم صادق کی ایک سالہ نمایاں کارکردگی کے بعد متعدد ڈی سی اوز اور ڈی سیز ملتان تعینات ہوئے لیکن ملتان شہر کی بہتری کے لیئے عملی اقدامات اٹھانے سے قاصر رہے ہیں اندرون شہر کی سڑکیں دہائی دیتی نظر اتی ہیں ایک لاکھ سے زائد غیر قانونی رکشے اور موٹر سائیکل لوڈرز نہ صرف شہر کی سڑکوں پر دندناتے پھر رہے جن کے باعث ایکسیڈنٹس میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوکر رہ گئی ہے قبضہ مافیا، زخیرہ اندوز، گرانفروش اور منشیات فروشوں کی آزادانہ نقل و حرکت ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی اور رٹ پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے غلہ و فروٹ منڈی کی زبوں حالی بھی دیدنی ہے جنوبی پنجاب کی ان بڑی منڈیوں میں مخصوص مافیا کے ہاتھوں متعدد بیوپاریوں سے کروڑوں روپے کے فراڈ ہونے کے باوجود انتظامیہ بیوپاریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے انتظامیہ کی اسی عدم توجہی کے باعث ان منڈیوں سے نہ صرف غیر رجسٹرڈ اشیائے فوڈ اور جعلی مصالحہ جات پورے خطے کو سپلائی کیئے جارہے ہیں بلکہ ان مصالحہ جات کی چکیاں بھی منڈی کی حدود میں انتظامیہ کی ناک کے نیچے جعل ساز مافیا دھڑلے سے جعلی مصالحہ جات اور چائے کی پتی پورے جنوبی پنجاب کو سپلائی کررہا ہے لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی ہے۔    

گرانفروشی 

مزید : ملتان صفحہ آخر