نیا سال، نیا عزم اور اللہ پر توکل! کیسے کریں، نئے سال کا استقبال؟

نیا سال، نیا عزم اور اللہ پر توکل! کیسے کریں، نئے سال کا استقبال؟

  



2020ء ہم پر طلوع ہو چکا ہے، دُنیا بھر میں اس کے استقبال کے حوالے سے خوب ہنگامہ ہاؤ ہو کا ماحول دیکھنے کو ملا،مسلمانوں کا اسلامی ہجری کیلنڈر بھی بہترین اور متبرک ہے، مگر مروجہ کیلنڈر زندگی کا حصہ بن چکا ہے، تمام دنیوی معاملات اور کارِ حیات اسی کے مطابق چلتے ہیں، اسلامی ممالک میں بھی اسی کی بنیاد پر امورِ مملکت سرانجام دیئے جاتے ہیں،اس لئے اس کے آغاز پر دُعائیں اور نیک تمنائیں ضروری ہیں۔

پوری دُنیا میں اس نئے سال کی آمد پر نئے نئے پلان بنائے اور نئے ارادے باندھے جا رہے ہوں گے۔کامیاب اقوام آنے والے وقت کی پیش بندی کرتی ہیں اور ناکام لوگ نشہ و غفلت میں بدمست پڑے رہتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے ”تلک الایام نداولھابین الناس“ کے فلسفے کے ذریعے، اُمت مسلمہ کو وقت گزرنے اور وقت گزارنے کے فلسفے سے خواب آشنا کر دیا کہ عسر و یسر دائمی نہیں اور جدوجہد کا اپنا ثمرہ ضرور ہوتا ہے۔ ایک مسلمان اللہ پر توکل رکھ کر جو عزم وارادہ کر لے اور عمل کی راہ پر چلے تو کامران ٹھہرتا ہے۔

امام کعبہ شیخ عبدالرحمن السدس نے نئے سال کے حوالے سے ایک خطبہ میں کہا تھا:”اے مسلمانو!اے غفلت شعارو!

نیا سال آیا ہمیں بھی نیا بن جانا چاہئے۔

اُمت کو ہر طرف سے گھیرے میں لے لینے والے چیلنجوں کے درمیان زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے اور اس کے سالوں میں سے ایک سال اپنا دورانیہ پورا کر کے رخصت ہوگیا ہے۔ اس کے دن بہت گئے اور اس کے خیمے اکھڑ چکے اور اللہ تعالیٰ کا اپنی کائنات میں یہی قانون ہے، دن گزرتے ہیں مہینے پلٹتے ہیں، سال پر سال بیتتے ہیں۔”اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔“ (الاحزاب: 62)

نیا سال لوگوں پر طلوع ہو رہا ہے، زمین پر ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، جب وہ طلوع ہوتا ہے تو لوگوں کی امیدیں اس کا استقبال کرتی ہیں، کتنی چیزیں ایسی ہیں جن کی وہ مشتاق ہوتی ہیں اور وہ ناممکن ہوتی ہیں۔

اے گروہ مسلماناں! یہ دیکھئے اُمت مسلمہ نے ایک سال کو الوداع کہا اب اس کی صرف یادیں باقی رہ گئی ہیں اور ہم نے ایک سال کو ایسے الوداع کہا جب کہ ہم ایک دن کو اس کے اختتام پر الوداع کہتے ہیں۔ صبح سے شام تک ہم میں سے کوئی بھی اسے طویل نہیں سمجھتا۔دُعا ہے کہ ہمارے اس نومولود، روشن سال کے آغاز ہی میں اللہ اسے فتح و نصرت اور خود مختاری کا پیغام بنا دے۔ ضروری ہے کہ ہم امید اور نیک شگونی قائم رکھیں۔ اگرچہ ہماری امت اسلامیہ اندوہناک حوادث و مصائب اور آلام سے دوچار اور افتراق کا شکار ہے،اس کا جسم زخموں سے لہو لہو ہے، ڈھٹائی کے ساتھ متعدد علاقوں میں اس کے فرزندوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور انتہائی رعونت اور بے رحمی سے ان کے جسم اڑائے جا رہے ہیں، جس سے پہاڑ ریز ریزہ اور جگر چھلنی ہو رہے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود یہ مناسب نہیں کہ یہ احوال ہمیں مایوسی کے غاروں میں دھکیل دیں اور ہم نامرادی کے اندھیروں میں ڈوب جائیں اس لیے کہ مایوسی سے تاریک اندھیروں کی تہیں اور مضبوط ہو جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ الواحد العلام اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے منع کیا ہے، فرمایا، ”اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو کہ اللہ کی رحمت سے بے ایمان لوگ نا امید ہوا کرتے ہیں۔“ (یوسف: 87) اور فرمایا، ”اللہ کی رحمت سے میں مایوس کیوں ہونے لگا؟ اس سے مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے۔“ (الحجر: 56)

جب دلوں میں مایوسی جگہ بنا لے وسیع اور فراخ سینے اس کی وجہ سے تنگ ہو جائیں اللہ نامطلوب احوال مستقل ڈیرے ڈال لیں اور مصائب پے در پے آتے چلے جائیں، سو ایسے حالات میں مایوسی کی ایسی کیفیت، میں تیرے لیے مدد آتی ہے اور دعائیں قبول کرنے والا اپنے لطف و کرم سے احسان فرماتا ہے“۔

امام کعبہ نے فرمایا:”اُمت اسلامیہ! ناامیدی اور مایوسی کی گھڑیوں میں امید کی تیغ آبداء اور نیک شگون کی ڈھال سے کارآمد چیزکوئی نہیں۔ امید سے عمل کی مشقت کم ہوجاتی ہے، مایوسی اور اکتاہٹ کا ازالہ ہوتا ہے،رات کے شدید اندھیرے کے بعد نئی صبح کاتاباں سورج طلوع ہوتا ہے“۔

اگر گزرا ہوا دن واپس نہیں آیا تو کیا ہوا ہمارے سامنے ایسا دن ہے جس سے ہم دنیا کو روشن اور حمد سے معمور کر دیں گے، رات کے راستے ہمارے لئے شبہ اور خط ملط ہو جاتے ہیں، تاہم فجر کے وقت تروتازہ نسیم کے جھونکے ہمیں ترو تازہ کر دیتے ہیں۔امید اور نیک شگونی سے عزیمت کی روح پھوٹتی ہے۔ خود اعتمادی انگڑائی لیتی اور آگے بڑھنے کے ولولے بیدار ہوتے ہیں اور یہی شریعت ربانی کا نور اور رسولِ ہدایت حضرت محمدؐ کی سیرت طیبہ سے حاصل ہونے والی نورانی فوت ہے۔

آپ ؐ پر میرے ماں باپ قربان۔ آپ ؐ کی حیاتِ طیبہ مصائب و آلام کے شدید اندھیروں میں نیک شگونی کی ڈھال سے مستفید ہونے کا عملی نمونہ ہے۔ چنانچہ آپ ؐ اپنے رفقاء کو بشارت دیا کرتے تھیا ور کہتے تھے کہ یہ دین پھیلتے ہوئے وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات اور دن ہیں۔ کوئی گھر مٹی سے بنا ہو یا اون سے، اللہ تعالیٰ اس میں دین داخل کرے گا، کوئی عزت پائے گا اور کوئی ذلیل ہو گا۔ عزت ایسی کہ اس کے ذریعے اللہ اسلام کی عزت دوبالا کرے گا اور ذلت ایسی کہ اللہ کفر کو ذلیل کر دے گا۔ اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا۔

وہ نبی کریم ؐ ہمارے درمیان اس وقت مبعوث ہوئے جبکہ رسولوں کی بعثت میں وقفہ آگیا تھا اور مایوسی کی فضا تھی اور زمین میں بتوں کی پرستش ہو رہی تھی تو وہ روشن چراغ اور ہادی بن کر اور ہمیں دین اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرائے۔ ہم اس پر اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ دُکھوں کی اندھیری راتوں، ظلمت اور ظلم سے معمور فضا میں جہاں راستہ سجھائی نہ دیتا تھا، اہل ایمان کے گروہ فتح و نصرت کی ابتدائی شعاؤں کی طرف لپکے اور روشنیوں کے پھوٹنے اور غم کی رات چھٹنے کی خوشخبریاں حقیقت بن گئیں اور ہماری موجودہ حالت بھی اس بارے میں سچی خبر اور پختہ ترین دلیل ہے۔

کتنی ہی کمزور قومیں ہیں جنھوں نے زوال کے بعد عروج پایا۔ بے نام ہونے کے بعد پھر سے نامور ہو کر اٹھیں۔ یہ دیکھئے شام میں ظلم و طغیان کے شکست خوردہ لشکر اپنی زندگی کی آخری گھڑیاں گن رہے ہیں۔ اگرچہ وہ مضبوط قلعوں میں بند ہیں، خوشخبریاں آ رہی ہیں کہ ان کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا اور یہ خبری کس قدر اچھی ہیں، ”یہ (نعمتیں تو فرماں برداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے۔“ (ص: 55)

ہاں اللہ ہمارا مولیٰ ہے، جس کی رحمت کی ہم امید رکھتے ہیں۔ ہم آسائش میں  ہوں تب بھی اور جب شدید آزمائش میں ہوں تب بھی وہ رب اپنے بندوں کے لئے غضب میں آتا ہے اور وہ جس کو سزا دینا چاہے اس کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں۔ فلسطین میں ثابت قدم ہمارے بھائی بندو! اے دشمنوں کے قبضہ میں آئی بیت المقدس!تمہیں خوشخبریاں ہوں کہ ٹھوس مدد آ پہنچی، محاصرہ کمزور ہو چکا، راستے کھل چلے جس سے نیک شگونی اور بشارات کو تقویت ملتی ہے اور ہمیں اس تنگیا ور شدت کے بعد آسانی اور آسائش اور کشائش کی بھرپور امید ہے۔ ”تمہارے خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے اور وہ لوگ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ انکے قلعے انکو اللہ (اللہ کے عذاب) سے بجا لیں گے، مگر اللہ نے ان کو وہاں سے آلیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی“۔ (الحشر: 2)

اور ہم نیک شگون لیتے ہیں کہ ہر مقام پر فتح مبین کی صبح طلوع ہونے جا رہی ہے، ہر پہاڑ اور ٹیلے پر فلسطین و شام میں اور برما و اراکان میں، فتح اسلام کا مقدر ہے خواہ کمینے دشمن جمع ہو جائیں اور ظلم، دہشت گردی اور جرائم کا دائرہ کتنا ہی وسیع کر لیں۔ یہ اللہ کا قانون ہے۔ تاہم یہ ایک امتحان ہے امتحان ”اور ہم تم لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں انکو معلوم کریں اور تمہارے حالات جانچ لیں۔“ (محمد: 31)

مایوسی میں کوئی خبر نہیں، خبر تو امید میں ہے، شجاعت اور پیش قدمی کی جڑیں تو انسان کے دل میں ہوتی ہیں۔ ہم ان امیدوں سے خود کو تسلی دے لیتے ہیں جن میں انتظار ہے، اگر امید کی وسعت نہ ہو تو زندگی کس قدر تنگ ہو جائے۔ اے وہ امت جس سے نصرت کا وعدہ کیا گیا ہے، یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ امید اور خوش گمانی اور نیک شگونی کا دارومدار تجدید و ترقی کو اپنانے اور کاہلی اور اندیشہ ہائے دور دراز سے مکمل اجتناب کرنے پر ہے کہ نکما پن اور بے کاری انہی اسباب سے پیدا ہوتی ہے۔ تاہم تجدید و ترقی کے ساتھ ساتھ اپنے اصول و مبادی کے ساتھ مکمل وابستگی لازم ہے اور اللہ کے حکم سے اسی راستے پر چل کر قوم منزلِ مراد پا سکتی ہے۔

اللہ کی رحمت تم پر سایہ فگن ہو، نیا سال شروع ہوتے ہی تم بھی اپنی جدوجہد کا آغاز کر دو، فتح و نصرت اور امت کی عزت کی امید اور نیک شگونی رکھتے ہویے پوری قوت سے قدم آگے بڑھاؤ، اس لیے کہ بلند مقاصد اور منفرد مفادات کاہلی اور بیہمتی سے حاصل نہیں ہوتے۔ کم فہمی اور کم ہمت عالی مرتبہ کیسے پا سکتا ہے۔ عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہما کا قول ہے جو شخص اللہ کے ہاں سے کسی چیز کا طالب ہو وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا، تاہم اپنے فعل سے اپنے قول کی تصدیق کرنا لازمی ہے اس لیے کہ قول کی قوت عمل سے ہوتی ہے۔

اللہ تمھارا نگہبان ہو! اس امر کا خیال رکھیں کہ وقت سانسوں سے عبارت ہے جو دوبارہ نہیں آئیں گے، خواہ آپ اس پر نگران بٹھا دیں اور یہ جلد گزرنے والابہت خود سر ہے جو از خود ختم ہو جاتا ہے۔ جو اس سے غافل ہوا اس کا وقت ختم ہوا، اور اس کی حسرتوں کا تب ٹھکانا نہیں رہتا جب ضائع ہونے والی چیز کی حقیقت اس پر کھلتی ہے تو یہ اسے لوٹائے جانے کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن اسے لوٹانا محال ہے، انسان تو اپنی عمر کے گھوڑے پر سوار ایسے سفر پر رواں دواں ہے جو دنوں اور مہینوں کی صورت فنا ہو رہا ہے۔وہ صبح و شام کرتا ہے اور ہر لمحہ دنیا سے دور اور موت سے قریب تر ہوتا جاتا ہے۔

اللہ سے ڈرو! اللہ سے ڈرو! عقیدہ توحید، التزام سنت، جماعت سے وابستگی اور شریعت کے احکام کی پابندی کو اپنا شعار بناؤ، نوجوانوں پر توجہ دو، نئی نسلوں کو سنبھالو۔ میانہ روی اعتدال اختیار کرو۔ باہم رابطے کے لیے بہترین وسائل استعمال کرو اور ذرائع ابلاغ کو خدمت اسلام کے لیے بروئے کار لاؤ۔ ”اور جو شخص اللہ کی مدد کرتا ہے اللہ اس کی ضرور مدد کرتا ہے بیشک اللہ توانا اور غالب ہے۔“ (الحج: 40)

مومنو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جیسے اس کا حق ہے۔ اس کا تقویٰ مضبوط ترین ذریعہ اعتماد اور تنگنائیوں میں یہی کارآمد سامان ہے اور اسی سے حقائق منکشف ہوتے ہیں۔

اللہ سے ڈرو! اور نیکیاں کرو تمہیں اس کا بدلہ ضرور ملے گا اپنے اس سال کا آغاز سچے دل سے سخت محاسبے اور تمام برائیوں  سے پکی توبہ کر کے کرو، نیک اعمال پر ہمیشگی کرواللہ تعالیٰ کی فرنبرداری اور اطاعت والے اعمال زیادہ کر و اور اپنے اس سال کے اعمال ناموں میں وہ کچھ درج کراؤ جو تمہاری دنیا و آخرت کے لئے بہتر ہو۔”اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو معمولی فائدے کے سوا کچھ نہیں اوریقینا آخرت، وہی رہنے کا گھر ہے۔“ (غافر:39)

بشیر و نذیر او رسراج منیر پردرودوسلام بھیجو جیسا کہ تمہیں لطیف و خیر نے حکم دیا ہے، چنانچہ اللہ نے فرمایا، ”بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔“ (احزاب:56)

اور نبی کریم ؐ نے فرمایا،جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درودوسلام پڑھے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔

اے اللہ! خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، علی، تمام صحابہ کرام، تابعین، پاکباز امہات المومنین سے قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے بھی راضی ہو جا اے ارحم الراحمین اور اپنی رحمت ہم سے بھی راضی ہو جا۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، شرک اور مشرکین کو رسو ا کردے، دین کے دشمنوں کو ہلاک کردے اور اس ملک اور تمام مسلمانوں کے ممالک میں امن و اطمینان آسائش و خوشحالی پیدا کر دے۔

اے اللہ!مسلمان مرد وخواتین کو زندوں اور فوت شد گان کو معاف فرما، بے شک تو قریب سے سننے والا اور دُعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔

٭٭٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1