پی ٹی آئی بی آر ٹی کرپشن چھپانے کیلئے مختلف حربے استعمال کررہی ہے، ایمل ولی

پی ٹی آئی بی آر ٹی کرپشن چھپانے کیلئے مختلف حربے استعمال کررہی ہے، ایمل ولی

  



پشاور (سٹی رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ بی آر ٹی پاکستان کے بڑے کرپشن منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہے جس کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے ٹیم کے سربراہ کو ترکی بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نیب کے دروازے آرڈیننس اور ایف آئی اے کے دروازے تبادلوں سے بند کرنا ایک ہی پیغام ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ پی ٹی آئی بی آر ٹی کرپشن کو چھپانے کیلئے مختلف حربے استعمال کررہی ہے، بی آر ٹی تحقیقات ٹیم کے سربراہ کی ترکی میں تقرری دراصل تاخیری حربے ہیں، کرپشن کرنیوالوں کو بچانے کیلئے پی ٹی آئی ایک جانب آرڈیننس جبکہ دوسری جانب عدالتی راستے استعمال کیے جارہے ہیں۔ دوران تفتیش کسی سربراہ کا تبادلہ بدنیتی ہے، پی ٹی آئی انہی حربوں کے ذریعے اپنی کرپشن چھپارہی ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اس منصوبے سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا، ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے لیا گیا قرضہ عوام ہی واپس کریں گے، ایک جانب نیب کو خاموش کیا گیا دوسری طرف ایف آئی اے کی تحقیقات کی راہ میں بھی رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔ نیب قوانین کو اپنے فائدے کیلئے محدود کیے جارہے ہیں، نیب کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کرکے اختیارات کم کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرمیاں سعید کی سربراہی میں ایف آئی اے ٹیم بی آر ٹی کرپشن کی تحقیقات کررہی ہے لیکن اس ٹیم کے سربراہ کو اچانک ترکی بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس قسم کے فیصلوں سے تبدیلی سرکار کیا پیغام دے رہی ہے۔ ابھی صرف بی آر ٹی کیس کھلا، بلین ٹری سونامی میں بھی کرپشن کے ثبوت سامنے آچکے ہیں، پی ٹی آئی سرکار کی اصل حقیقت آہستہ آہستہ سامنے آرہی ہے۔ کسی کے اشیرباد سے اقتدار میں آنیوالی جماعت کا اصل چہرہ جلد عوام کے سامنے آجائیگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف آئی اے تحقیقات کی تکمیل تک کسی بھی تبادلے کو منسوخ کیا جائے اور پی ٹی آئی کے دور میں کیے گئے تمام منصوبوں کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائی جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر