متحدہ کو پیپلز پارٹی کی پیشکش، سندھ کے سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچ گئی

متحدہ کو پیپلز پارٹی کی پیشکش، سندھ کے سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچ گئی

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی جانب سے متحدہ کو سندھ حکومت میں وزارتیں دینے کی پیشکش کے بعد سندھ میں سیاسی ہلچل پیدا ہو گئی ہے اور سیاسی حلقے صوبے کا سیاسی منظرنامہ تبدیل ہونے کے امکانات ظاہر کر رہے ہیں۔ صورتحال نے وفاقی حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے گزشتہ روز صدر عارف علوی کو آگاہ کیا کہ اگر متحدہ کے مطالبات کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو وہ کسی بھی وقت سندھ حکومت میں شامل ہو سکتی ہے۔ صدر کو آگاہ کیا گیا کہ متحدہ کی اولین ترجیح سیل دفاتر کو کھولنا اور قید کارکنان کی رہائی ہے، جس پر صدر علوی نے معذرت کرلی۔ گورنر کی آگاہی پر ہنگامی طور پر طلب کیا جانے والا کراچی بحالی کمیٹی کا اجلاس بھی بے سود ثابت ہوا، اس اجلاس کے نتیجے میں متحدہ اور وفاقی حکومت کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے دور میں شروع ہونے والے منصوبوں پر غور کیا گیا اور کسی نئے منصوبے پر بات نہیں ہوئی۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ 6 برس سے ایس آئی ڈی سی ایل کے پروجیکٹ ڈائریکٹر صالح فاروقی گرین لائن میٹرو منصوبے کی تکمیل سے متعلق کوئی حتمی تاریخ نہیں دے سکے جس پر متحدہ وفد نے برہمی اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سوالات کی بوچھاڑ کردی اور گرین لائن بس منصوبے کی تاخیر کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد کردی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر سے دریافت کیا گیا کہ وزیراعظم کے اعلان کیے گئے کراچی پیکیج کے 162 ارب روپے کب ملیں گے جس پر اسد عمر نے کوئی بھی ٹائم فریم دینے سے انکار کر دیا اور کہاکہ تمام تر وعدے جلد پورے کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ ملک کے معاشی حالات خراب تھے اب بہتر ہو رہے ہیں جلد رقم جاری کی جائے گی جس پر متحدہ وفد نے کہاکہ ہمیں یقین دہانیاں نہیں چاہئیں۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے متحدہ کو بہت سی یقین دہانیاں کرائی ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...