امریکہ کی جانب سے قتل کیے جانیوالے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں وہ حیرت انگیز باتیں جو آپ کو معلوم نہیں

امریکہ کی جانب سے قتل کیے جانیوالے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں وہ ...
امریکہ کی جانب سے قتل کیے جانیوالے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں وہ حیرت انگیز باتیں جو آپ کو معلوم نہیں

  



بغداد(ڈیلی پاکستان آن لائن)عراقی دارالحکومت بغداد میں ایران کے پاسداران انقلاب کے القدس ونگ کے  سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور پاپولرموبلائزیشن فورس (پی ایم ایف) کے ڈپٹی کمانڈرابومہدی المہندس کی امریکی حملے میں ہلاکت مشرق وسطیٰ میں ایک نئی خونخوار کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔جنرل قاسم سلیمانی ایران کی وہ شخصیت تھیں جنہوں نے جنگ زدہ مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثررسوخ بڑھانے میں نمایاں کردار اداکیا۔

جنرل سلیمانی کوایرانی پاسداران انقلاب کی سربراہی 1998 میں سونپی گئی۔ابتدا میں وہ کچھ غیر معروف تھے تاہم لبنان میں حزب اللہ، شام میں اسد حکومت اور عراق میں شیعہ ملیشاوں کے ساتھ روابط استوار کرنے کے بعد وہ نمایاں ہوگئے۔حالیہ سالوں میں وہ اپنی کارکردگی کے باعث نمایاں ہوتے گئے اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے قریب ہوگئے۔

سلیمانی کی قیادت میں پاسداران انقلاب کی صلاحیتیں بہتر سے بہترین ہوتی چلی گئیں۔سرحد پارانٹیلی جنس، معیشت اور سیاسی معاملات میں انہوں نے اپنا اثررسوخ تیزی سے بڑھا یا۔عراق اور شام میں جاری لڑائی میں اہم کردار ادا کرنے والے قاسم سلیمانی پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک موجود شاخ  القدس کی سربراہی کرتے تھے اور ملک میں اور بیرون ملک ایک اہم اور نمایاں شخصیت سمجھے جاتے تھے۔

وہ مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر رسوخ کی ترویج میں بھی خاصے فعال تھے جس پر امریکا اور ایران کے علاقائی حریف سعودی عرب اور اسرائیل نظر رکھنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔قاسم سلیمانی پرگزشتہ بیس سالوں میں کئی بار حملے کی کوشش کی گئی تاہم وہ مغرب، اسرائیل اور عرب ایجنسیوں کی جانب سے کیے گئے حملوں سے بچنے میں کامیاب رہے ۔

ان کی قدس فورس کے پاس ایران کی سرحد سے باہر آپریشنز کرنے کی ذمہ داری تھی جس نے 2011 سے شام میں جاری خانہ جنگی میں صدر بشارالاسد کی اس وقت حمایت کی جب وہ ناکامی کے قریب تھے اور عراق میں داعش کو شکست دینے کے لیے بھی ملیشیاوں کی مدد کی تھی۔

الجزیرہ کے مطابق قاسم سلیمانی ایرانی صوبہ کیرمن کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے اور تیرہ سال کی عمر سے ہی اپنے اہلخانہ کی معاونت کیلئے کام کرنا شروع کردیا۔وہ اپنافارغ مزدوری کرنے اور خامنہ ای کے لیکچر سننے میں گزارتے تھے۔1979کے انقلاب کے بعداپنے عالم شباب میں سلیمانی نے فوج میں شمولیت اختیارکرلی۔فارن پالیسی میگزین کے مطابق تربیت کے صرف چھ ہفتے بعد ہی ایران کے صوبہ مغربی آذر بائیجان میں انہوں نے پہلی بار جنگ میں حصہ لیا۔اورایران عراق جنگ میں ایک ہیرو کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔

دوہزار پانچ کے بعد جب عراق اور شام میں داعش اپنے پنجے گاڑ رہی تھی اس وقت جنرل سلیمانی کو اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کی ذمہ داری سونپی گئی جس کے بعد انہوں نے شام میں حکومتی فوج اور اتحادی ملیشیاوں کی مدد سے جبکہ عراق میں شیعہ ملیشیاوں کی مدد سے دہشت گرد تنظیم داعش کے خاتمے میں نمایاں کردار اداکیا۔

یونیورسٹی آف تہران میں امریکن اسٹیڈیز جت سربراہ محمد میرنڈی کاکہنا ہے کہ’ داعش کے خلاف سلیمانی کے کردار نے انہیں ایرانیوں اورمشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے لوگوں کیلئے ایک قومی ہیرو اور شہید کا درجے پرفائز کیاہے۔ انہوں نے کہااگر جنرل سلیمانی جیسے لوگ نہ ہوتے تو آج اس پورے خطے پر سیاہ پرچم لہرا رہے ہوتے‘۔

مزید : بین الاقوامی /عرب دنیا