عراق میں میزائل حملہ، دراصل کس کے حکم پر ایرانی جنرل کو نشانہ بنایا گیا؟ وائیٹ ہائوس نے بھی اعلامیہ جاری کردیا

عراق میں میزائل حملہ، دراصل کس کے حکم پر ایرانی جنرل کو نشانہ بنایا گیا؟ ...
عراق میں میزائل حملہ، دراصل کس کے حکم پر ایرانی جنرل کو نشانہ بنایا گیا؟ وائیٹ ہائوس نے بھی اعلامیہ جاری کردیا

  



واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)عراقی دارالحکومت بغداد میں ایرانی پاسداران انقلاب کے القدس ونگ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر وائٹ ہاوس کا باضابطہ ردعمل بھی جاری کردیاگیاہے۔

وائٹ ہاوس کے بیان کے مطابق امریکی افواج نے صدارتی حکم پر بیرون ملک امریکی اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا ہے، امریکا ایرانی پاسداران انقلاب غیرملکی دہشت گرد تنظیم دے چکا ہے۔

بیان کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی عراق سمیت پورے خطے میں موجود امریکی سفارت کاروں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کی متحرک منصوبہ بندی کررہے تھے۔

بیان میں مزید کہاگیا ہے کہ ’یہ حملہ ایران کے مستقبل کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری تھا۔ امریکہ اپنے شہریوں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم لینے کے لیے تیار ہے۔‘

واضح رہے کہ ’ مشرق وسطیٰ میں امریکااور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔امریکی فوج نے ڈرون کی مدد سے بغداد ایئر پورٹ پر بمباری کرکے  جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کردیا۔امریکا کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی سمیت 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔ راکٹ حملے میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پاپولرموبلائزیشن فورس (پی ایم ایف) کے ڈپٹی کمانڈرابومہدی المہندس بھی جاں بحق ہوگئے۔

عراقی حکام کے مطابق بغداد ایئرپورٹ پرداغے گئے 3 راکٹ کارگوہال کے قریب گرے، راکٹ حملے سے 2 کاروں کوآگ بھی لگی۔عرب ٹی وی کے مطابق راکٹوں سے اہم مہمانوں کوایئرپورٹ لانے والی گاڑیاں تباہ ہوئیں، راکٹ حملے سے قبل سائرن بجے، فضا میں ہیلی کاپٹراڑتے دیکھے گئے۔ایران نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بدلہ لینے کا اعلان کیاہے۔

مزید : بین الاقوامی /عرب دنیا


loading...