” اگر یہ کام ہو جائے تو ہم آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کریں گے “ ن لیگ کے بعد بلاول بھٹو نے بھی مشروط ہاں کر دی

” اگر یہ کام ہو جائے تو ہم آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کریں گے “ ن لیگ کے بعد ...
” اگر یہ کام ہو جائے تو ہم آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کریں گے “ ن لیگ کے بعد بلاول بھٹو نے بھی مشروط ہاں کر دی

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )مسلم لیگ ن کے بعد پیپلز پارٹی نے بھی آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی مشروط حمایت کرنے کا اعلان کر دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ پارلیمانی قواعد و ضوابط کے تحت قانون سازی ہوئی تو ساتھ دیں گے ،توسیع کی مخالف نہیںلیکن چاہتے ہیں پارلیمانی قواعد و ضوابط پر عمل کیا جائے ، ہم صرف جمہوری طریقہ کار پرزور دے رہے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہناتھا کہ مسلم لیگ ن نے حمایت کے فیصلے سے قبل اعتماد میں نہیں لیا ہے ،حکومت اور ن لیگ مل کر عجلت میں قانون سازی کر رہے ہیں،کل ن لیگ کی قیادت نے کہاتھا کہ بل کی غیرمشروط حمایت کریں،سیاستدانوں کو قواعد و ضوابط کا پتا نہیں ہوتا مگر بیوروکریٹس کو علم ہوتا ہے ، یہ بہت حساس معاملہ ہے،اس ہی حساسیت سےاسے ڈیل کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کے خواجہ آصف کو خط کا علم نہیں ہے،قائد حزب اختلاف کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اپوزیشن کومتحد رکھے، ہم اس اہم معاملے پرسیاست نہیں کھیلنا چاہتے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ بل تمام ممبران میں تقسیم نہیں کیا گیا ،حکومت اپوزیشن کوپہلے دن سے شامل کرتی تواب تک ہم سارا عمل مکمل کر لیتے ۔

انہوں نے کہا کہ نیب آرڈنینس پر حکومت نے یہ مان لیا ہے کہ نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔اس کے علاوہ نجی ٹی وی کا کہناہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے نیئر بخاری کو بل پر مشاورت کیلئے بلا لیا ہے، نیئر بخاری پارلیمنٹ ہاﺅس میں بل مسودے پر بلاول بھٹو سے مشاورت کریں گے ۔

مزید : قومی