نوازشریف کی بیرون ملک روانگی لیکن کیا وہ حکومت کیساتھ ڈیل کرکے گئے ہیں یا نہیں؟ پاکستانیوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا

نوازشریف کی بیرون ملک روانگی لیکن کیا وہ حکومت کیساتھ ڈیل کرکے گئے ہیں یا ...
نوازشریف کی بیرون ملک روانگی لیکن کیا وہ حکومت کیساتھ ڈیل کرکے گئے ہیں یا نہیں؟ پاکستانیوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعظم نوازشریف عدالت سے ضمانت منظور ہونےکے بعد علاج کے لیے بیرون ملک موجود ہیں اور ان کی روانگی کے وقت ڈیل کی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں لیکن بیشتر پاکستانی کیا سوچتے ہیں؟ کیا ڈیل ہوئی یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ ہوا؟ تازہ سروے میں پاکستانیوں کا موقف بھی آگیا۔

گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان  کے پول میں  52 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ  نواز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے مابین ڈیل کے بعد اپنے علاج کے لئے لندن گئے۔

سروے کے دوران سوال کیا گیا کہ نوازشریف کے علاج کے لیے برطانیہ کا سفر کیا مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی حکومت کے درمیان کسی ڈیل کا نتیجہ ہے ؟ اس سوال کے جواب میں 52 فیصد پاکستانیوں نے قرار دیا ہے کہ نوازشریف ن لیگ اور حکومت کے درمیان ڈیل کے بعد ہی علاج کے لیے لندن گئے ۔ 

اس کے بعد سوال کیا گیا کہ آپ کس حدتک اس موقف سے اتفاق یا اختلاف کرتے ہیں کہ نوازشریف کسی ڈیل کے نتیجے میں ہی بیرون ملک گئے ؟ 

اس کے جواب میں   32 فیصد لوگوں کا کہنا تھاکہ وہ اس موقف سے مکمل اتفاق کرتے ہیں جبکہ 20 فیصد  نے موقف اپنایا کہ کسی حدتک وہ اس بات کو مانتے ہیں۔ اسی سروے کے دوران 23 فیصد لوگوں کاکہناتھاکہ وہ اس سے بالکل اتفاق نہیں کرتے جبکہ  14 فیصد نے کسی حد تک ڈیل کی خبروں سے اتفاق نہیں کیا تاہم 11 فیصد لوگوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ 

یہ سروے پاکستان کے چاروں صوبوں میں خواتین اور مرد دونوں سے کیا گیا۔ ادھر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پلیٹیلیٹس کا شمار بدستور غیر مستحکم ہے جب کہ انہیں دل کے آپریشن کے لیے ہسپتال میں داخل کیا جائے گا۔

جیونیوز کے مطابق رائل برامپٹن ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ ماہرین امراض قلب نے نواز شریف کو تشخیص کے لیے اسپتال میں داخل ہونے کے لیے کہا ہے جہاں ہفتہ بھر میں آپریشن، بائی پاس یا اسٹنٹ کا طے کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ ڈاکٹرز فیصلہ کریں گے کہ آیا نوازشریف کے دل کا آپریشن، بائی پاس کیا جائے یا اسٹنٹ ڈالا جائے،پروفیسر ڈاکٹر ریڈوڈ کے مطابق سابق وزیراعظم کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑے گا۔

واضح رہےکہ نواز شریف گزشتہ دو ماہ سے بغرض علاج لندن میں مقیم ہیں جبکہ 2 ہفتے قبل ان کے معالج ڈاکٹر عدنان خان نے بتایا تھا کہ ڈاکٹرز ان کی میڈیکل ہسٹری کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ نومبر کے دوسرے عشرے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو قطر کے شاہی خاندان کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے برطانیہ لے جایا گیا۔ لاہور سے انہیں مسلم لیگ ن کی سینیئر قیادت نے رخصت کیا۔اس موقع پر مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہا تھا کہ نواز شریف کو پندرہ روز پہلےعلاج کے لیے روانہ ہو جانا تھا لیکن حکومت نے جان بوجھ کر اس میں دیر کی اور اب انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے جانا پڑا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیرونِ ملک روانگی لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے اجازت کے بعد ممکن ہوئی تھی ۔ عدالت نے حکومت کی طرف سے مشروط اجازت کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے انہیں چار ہفتوں کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی۔

مزید : قومی /سیاست