عراق میں ایرانی جنرل کی امریکی حملے میں ہلاکت پر عراقی وزیراعظم بھی بول پڑے، دوٹوک اعلان کردیا

عراق میں ایرانی جنرل کی امریکی حملے میں ہلاکت پر عراقی وزیراعظم بھی بول پڑے، ...
عراق میں ایرانی جنرل کی امریکی حملے میں ہلاکت پر عراقی وزیراعظم بھی بول پڑے، دوٹوک اعلان کردیا

  



بغداد (ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکہ نے ایران کے انقلاب پاسدران کی قدس فورس کے چیف جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد ایئر پور ٹ حملے کے دوران قتل کر دیاہے جس کے بعد خط میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیاہے اور ایران نے بدلہ لینے کا اعلان بھی کر دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق قاسم سلیمان کے قتل کو عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے عراق پر جارحیت قرار دیتے ہوئے بیان جاری کر دیاہے جس میں ان کا کہناتھا کہ جنرل قاسم پر بغداد میں امریکی حملہ عراقی خود مختاری پر حملہ ہے ، جنرل قاسم کا قتل قابل مذمت ہے اور یہ حملہ عراق ، خطے ، اور دنیا کو ایک اور جنگ کی طرف لے جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل قاسم پر حملہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔

عراقی وزیراعظم نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد پیداہونے والی کشیدہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پارلیمنٹ کا غیر معمولی اجلاس بھی طلب کر لیاہے ۔یاد رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے قاسم سلیمان کے قتل پر تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیاہے اور کہاہے کہ اس کا بدلہ لیا جائے گا ۔

عراق کے وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کیے گئے سلسلہ وار بیانات میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی فوجی کمانڈر ابو مہدی مہندس کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ یہ دونوں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف فتح کے استعارے تھے۔‘بیان کے مطابق اس صورتحال پر غور کے لیے عراقی پارلیمان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے تاکہ ملک کی سالمیت، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات اور قانون سازی کی جا سکے۔

مزید : بین الاقوامی