" یہ وارننگ نہیں دھمکی ہے" سال نو پر امریکی صدر نے ایران کو کیا پیغام دیا تھا؟ آپ بھی جانئے

" یہ وارننگ نہیں دھمکی ہے" سال نو پر امریکی صدر نے ایران کو کیا پیغام دیا تھا؟ ...

  



بغداد (ویب ڈٖیسک) عراق میں امریکی سفارت خانے پر حملے کی پشت پناہی کا الزام میں ایران پر عائد کرنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اس اقدام کے ردعمل میں سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی ، یہ دھمکی دی اور پھر جمعہ اور جمعرات کی رات کے آخری پہر میں عراق میں کارروائی کرتے ہوئے ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور ملیشیا کے سربراہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ پانچ سے چھ لوگ مزید بھی مارے گئے ۔ 

بی بی سی اردو کے مطابق سال نو کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو اس حملے میں ہونے والے کسی بھی جانی اور مالی نقصان کی ’بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘

اس سے قبل منگل کے روز عراق کے شہر بغداد میں ہزاروں مظاہرین اور ملیشیا کے جنگجوؤں نے امریکی سفارتخانے کے باہر جمع ہو کر پرتشدد احتجاج کیا تھا اور مظاہرین سفارت خانے کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ محض وارننگ نہیں بلکہ دھمکی ہے۔‘

دوسری جانب امریکہ کے وزیر دفاع مارک اسپر نے اعلان کیاتھا کہ عراق کے جس علاقے میں سفارت خانے پر حملہ ہوا ہے وہاں فوری طور پر 750 سپاہیوں کو تعینات کیا جا رہا ہے، امریکہ اپنی عوام کے مفادات کا دنیا میں ہر جگہ تحفظ کرے گا۔

بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مظاہرین کے حملے کے بعد امریکی صدر نے اپنے ردعمل میں اس واقع کا الزام ایران پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس ’حملے میں ایران کا ہاتھ ہے‘ اور یہ کہ اسے ’پوری طرح ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔‘اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ایران نے ایک امریکی کانٹریکٹر کو ہلاک کیا اور کئی کو زخمی کیا، ہم نے بھرپور جواب دیا اور ہمیشہ دیں گے۔ اب عراق میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ اسے پوری طرح ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عراق اپنی فورسز کے ذریعے سفارتخانے کی حفاظت کرے گا۔‘

یادرہے کہ عراقی ایئرپورٹ پرامریکا کی جانب سے راکٹ حملوں میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی سمیت 8 افراد ہلاک ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پرامریکا کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی سمیت 8 افراد ہلاک ہوگئے۔ راکٹ حملے میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پاپولرموبلائزیشن فورس (پی ایم ایف) کے ڈپٹی کمانڈرابومہدی المہندس بھی ہلاک ہوگئے۔

عراقی حکام کے مطابق بغداد ایئرپورٹ پرداغے گئے 3 راکٹ کارگوہال کے قریب گرے، راکٹ حملے سے 2 کاروں کوآگ بھی لگی۔عرب ٹی وی کے مطابق راکٹوں سے اہم مہمانوں کوایئرپورٹ لانے والی گاڑیاں تباہ ہوئیں، راکٹ حملے سے قبل سائرن بجے، فضا میں ہیلی کاپٹراڑتے دیکھے گئے۔برطانوی میڈیا کے مطابق جنرل سلیمانی کا ایرانی حکومت میں ایک کلیدی کردارتھا۔ ان کی قدس فورس صرف رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خمنہ ای کو جوابدہ ہے اورانہیں ملک میں ایک ہیرو تصور کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب جنرل سلیمانی پرحملے کی تصدیق ہوتے ہی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پرچم ٹوئٹ کیا جب کہ پینٹا گون نے بھی امریکی حملے میں جنرل سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کوڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پرمستقبل میں ایران کی جانب سے حملوں کو روکنے کے لیے ہلاک کیا گیا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا اس متعلق کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے حملے میں جنرل سلیمانی شہادت ایک انتہائی خطرناک اوراحمقانہ حرکت ہے، امریکا اپنی بدمعاش مہم جوئی کے تمام نتائج کی ذمہ داری خود برداشت کرے گا۔

مزید : بین الاقوامی