سانحہ پی آئی سی، کارڈیالوجی ہسپتال میں یادگار شہدا قائم، کن شہدا کے نام درج ہیں؟ جان کر وکلا شرم سے پانی پانی ہوجائیں

سانحہ پی آئی سی، کارڈیالوجی ہسپتال میں یادگار شہدا قائم، کن شہدا کے نام درج ...
سانحہ پی آئی سی، کارڈیالوجی ہسپتال میں یادگار شہدا قائم، کن شہدا کے نام درج ہیں؟ جان کر وکلا شرم سے پانی پانی ہوجائیں

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی تاریخ کے افسوسناک ترین دنوں میں سے ایک وہ بھی ہے جب پڑھے لکھے طبقے ’وکلا‘ نے لاہور میں دل کے ہسپتال کی ایمرجنسی پر حملہ کیا اور دل کھول کر جلاﺅ گھیراﺅ کیا۔ وکلا کی اس حرکت کے باعث نہ صرف مریضوں کا علاج رک گیا بلکہ 3 مریض بھی جان کی بازی ہار گئے۔

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز کی جانب سے وکلا کے حملے میں جان کی بازی ہارنے والے 3 مریضوں کی یاد میں ہسپتال میں یادگار شہدا قائم کی گئی ہے ۔ یاد گار شہدا پر نصب کی گئی تختی پر11 دسمبر کو پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات اور ان مریضوں کے نام لکھے گئے ہیں جو اس روز جان کی بازی ہارے تھے۔

کارڈیالوجی ہسپتال (پی آئی سی) میں نصب تختی پر لکھا گیا ہے ’ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں 11 دسمبر 2019 کو پاکستان کی تاریخ کا انتہائی افسوس ناک واقعہ رونما ہوا جس میں کچھ شرپسند وکلا ءپی آئی سی کی ایمرجنسی پر حملہ آور ہوئے اور ایمرجنسی میں داخل مریضوں کے علاج کو روکا۔ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکس پر تشدد کے ساتھ ساتھ مریضون کے علاج معالجے میں رکاوٹ پیدا کرنے کی وجہ سے تین مریض جان کی بازی ہار گئے۔‘

یادگار شہدا پر لگی اس تختی پر ’ شہدا سانحہ پی آئی سی ‘ کے عنوان سے محمد بوٹا، گلشن منیر اور انور کے نام لکھے گئے ہیں، یہ وہ مریض ہیں جو وکلا کے حملے کے دوران ایمرجنسی میں علاج نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور