”میں مسلمانوں سے نفرت کرتا تھا لیکن پھر ان مسلمان میاں بیوی سے ملا تو سوچ ہی بدل گئی، الٹا مسلمانوں سے پیار کرنے لگا ہوں“ اس شخص کی کہانی جان کر آپ کا بھی ایمان تازہ ہو جائے گا

”میں مسلمانوں سے نفرت کرتا تھا لیکن پھر ان مسلمان میاں بیوی سے ملا تو سوچ ہی ...
”میں مسلمانوں سے نفرت کرتا تھا لیکن پھر ان مسلمان میاں بیوی سے ملا تو سوچ ہی بدل گئی، الٹا مسلمانوں سے پیار کرنے لگا ہوں“ اس شخص کی کہانی جان کر آپ کا بھی ایمان تازہ ہو جائے گا

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) بحث و مباحثے کی ویب سائٹ ’Reddit‘ پر ایک غیرمسلم نے مسلمانوں سے اپنی نفرت اور پھر محبت کی ایسی کہانی بیان کی ہے کہ سن کر آپ کا بھی ایمان تازہ ہو جائے گا۔ اس شخص نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”میں اس مسلمان پاکستانی جوڑے کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جن کی وجہ سے میں راہ راست پر آیا اور مسلمانوں سے میری نفرت محبت میں بدل گئی۔ ان میاں بیوی کا نام ذاکر اور شبنم تھا۔ گزشتہ دنوں نیو ایئرنائٹ کو میری بیٹی باہر گئی ہوئی تھی۔ وہ ابھی 18سال کی ہوئی تھی۔ وہ نئے سال کی خوشی منانے چند سہیلیوں کے ساتھ مانچسٹر سٹی سنٹر گئی اور وہاں انہوں نے اتنی شراب پی لی کہ میری بیٹی نشے کے باعث چل بھی نہیں سکتی تھی۔ اس کی سہیلیوں نے اس کے لیے ٹیکسی کروائی، جس اسے اولڈہیم روڈ چھوڑ گئی۔ وہاں میری بیٹی بری حالت میں سڑک پر پڑی تھی کہ ان میاں بیوی کا وہاں سے گزر ہوا۔ انہوں نے گاڑی روک کر میری بیٹی سے خیریت دریافت کی۔ تاہم وہ بولنے سے بھی قاصر ہو چکی تھی اور یہ جوڑا اسے اس حال میں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا۔ وہ اسے اٹھا کر اولڈہیم میں اپنے گھر پر لے گئے اور مجھے فون کیا۔ یہ علی الصبح 4بجے کا وقت تھا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ تمہاری بیٹی ہمارے گھر پر ہے۔“

اس شخص نے مزید لکھا کہ ”میں فوری طور پر گھر سے نکلا اور سفر کرتے ہوئے ان کے گھر جا پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ میری بیٹی کی حالت اب بہت بہتر تھی اور وہ بیٹی چائے پی رہی تھی۔ ذاکر اور شبنم نے میری بیٹی کو صاف کپڑے بھی پہننے کو دیئے کیونکہ اس کے کپڑے قے کی وجہ سے خراب ہو چکے تھے۔ میری بیوی اس بیٹی کی پیدائش کے وقت موت کے منہ میں چلی گئی تھی۔ یہ میری واحد اولاد ہے اور میری ساری دنیا یہی ہے، جو آج اس پیارے سے جوڑے کی وجہ سے زندہ ہے۔ میں تمام عمر مسلمانوں سے نفرت کرتا رہا لیکن اس واقعے نے مجھے یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اگلے روز میں اور میری بیٹی ان کے گھر گئے، ان کے کپڑے انہیں واپس کیے اور پھول اور چاکلیٹ کا تحفہ بھی دیا۔ انہوں نے ہمیں پاکستانی چائے پلائی۔ ہماری خوب گپ شپ ہوئی اور ہم خوب ہنسے۔ اب مسلمانوں کے متعلق میرے نظریات کلی طور پر تبدیل ہو چکے ہیں اور میں سمجھ چکا ہوں کہ اچھے برے لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ میں نے فیس بک پر تمام نسل پرستانہ پیجز سے خود کو نکال لیا ہے اور اب میں جب کسی خاتون کو سکارف پہنے دیکھوں گا یا کسی ایشیائی مرد کو داڑھی میں دیکھوں گا تو ان کے متعلق مختلف سوچوں گا۔ ذاکر اور شبنم سے میری دوستی اب تمام عمر رہے گی۔ بہت بہت شکریہ میرے دوستو۔ سائمن۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...