فریڈم فلوٹیلا حملہ غزہ پر معاشی پابندیوں کے خاتمے کا نقطہ آغاز ثابت ہو گا ¾ اسماعیل ہانیہ

فریڈم فلوٹیلا حملہ غزہ پر معاشی پابندیوں کے خاتمے کا نقطہ آغاز ثابت ہو گا ¾ ...

غزہ( اے این این )فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت میں ترکی کے موقف کو سراہتے ہوئے ترک وزیراعظم رجب طیب اردوآن اور ان کی حکومت کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو سال قبل کھلے سمندر میں ترکی کے امدادی جہاز فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کی یلغار غزہ کی پٹی پر مسلط معاشی پابندیوں کے خاتمے کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار غزہ کے دورے پر آئے ترکی کے ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے مہمان وفد سے گفتگو کرتے ہوئے غزہ کی پٹی کی موجودہ صورت حال، فلسطینیوں کے درمیان مفاہمتی کوششوں اور خطے میں جاری تبدیلیوں پربھی تبادلہ خیال کیا۔ اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ ترکی نے فلسطینیوں کی حمایت میں جو موقف اختیار کیا ہے اس سے اسرائیل کو سخت پریشانی لاحق ہے۔ تاہم ترکی کے کردار پر فلسطینی عوام مطمئن ہیں اور اسے پورے عالم اسلام کے لیے ایک رول ماڈل کردار کے طورپر پیش کرتے ہیں۔فلسطینی وزیراعظم نے کہا کہ ترکی کی عوام نے فلسطینیوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے مالی ایثارکے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کا خون بھی پیش کیا ہے۔ فریڈم فلوٹیلا جہاز پر سوار ترکی کے نو شہدا کو فلسطینی شہدا کے برابر کا مقام حاصل ہے، جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر دشمن کی سازشیں ناکام بنائی ہیں۔فلسطینی شہر غزہ کی پٹی کی معاشی ناکہ بندی پر بات کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ عالمی برادری کی امدادی کوششوں سے شہرکی معاشی مشکلات میں کمی آئی ہے تاہم صہیونی ریاست پر ہرسطح پر دباو¿ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ترکی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے ماضی میں بھی دنیا کے ہر فورم پر فلسطینیوں کے حقوق کی کھل کر حمایت کی ہے۔ فلسطینی عوام ترک حکومت کے اس کردار کے معترف ہیں۔اس موقع پر ترکی سے آئے محکمہ تعلیم کے ایک اعلی سطحی وفد نے غزہ کی پٹی کے محصورین کی ہرممکن مدد جاری رکھنے اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیر پاحل کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ترک وفد کا کہنا تھا کہ فلسطینی اور ترک شہریوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ترکی کے عوام جتنی آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اس سے بڑھ کر وہ فلسطینیوں سے ہمدردی اور محبت کرتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر