محمد مرسی کا نیتن یاھو سے بات کرنے سے انکار

محمد مرسی کا نیتن یاھو سے بات کرنے سے انکار

مقبوضہ بیت المقدس( اے این این )اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق مصر کے نئے منتخب ہونے والے صدر نے اس وقت اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کو جواب دینے سے انکار کردیا جب نیتن یاھو نے صدر منتخب ہونے پر انہیں مبارک باد دینے کیلئے ٹیلی فون کیا۔اتوار کے روز اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم اس وقت سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب محمد مرسی نے ان سے فون پر بات کرنے کے دباو¿ کو یکسر مسترد کردیا جس کے بعد انہوں نے صرف ٹیلی گراف کے ذریعے ساٹھ سال بعد مصر کے پہلے غیر فوجی صدر کو مبارک باد پیش کی۔اسرائیلی ذرائع کے انکشاف کے مطابق نیتن یاھو نے وائٹ ہاو¿س سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے امریکی صدر اوباما سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ محمد مرسی پر دباو¿ ڈالیں کہ وہ نیتن یاھو سے ٹیلی فون پر بات کرلیں اور یہ کہ مصر اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون جاری رکھے۔ اور اسکے ساتھ ہونے والے تمام سیاسی معاہدوں بالخصوص کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی پاسداری کرتا رہے۔ جس پر محمد مرسی نے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں پر عمل درآمد کی یقین دہانی تو کروا دی تاہم نیتن یاھو سے ٹیلی فون پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔ الاخوان کے ایک ترجمان نے خبر رساں ایجنسی قدس پریس پریس کو بتایا کہ الاخوان اسرائیل کو تسلیم نہیں کریگی اور اس کے خلاف مزاحمت کی طرفداری کرتی رہیگی۔ اخوان کے ترجمان ڈاکٹر محمود غزلان کا کہنا تھا کہ اس کے امیدوار محمد مرسی کے قصر صدارت تک پہنچنے کے بعد الاخوان کے بنیادی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی بالخصوص اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے ہمارا موقف وہ پرانا ہے۔محمود غزلان کا کہنا تھا کہ وہ تمام آئینی طریقوں سے مزاحمت کی نصرت جاری رکھیں گے اور فلسطینی مزاحمت کی سیاسی حمایت جاری رہیگی۔ فلسطینیوں کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے یہ وہ حق ہے جو تمام عالمی معاہدے بھی انہیں فراہم کرتے ہیں۔محمود غزلان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب الاخوان کے بہت سے لوگ محمد مرسی کی جانب سے کیمپ ڈیوڈ معاہدے سمیت تمام عالمی معاہدوں کی پاسداری کے بیان کے بعد ان خدشات کا اظہار کررہے تھے کہ کہیں الاخوان نے اسرائیل کو تسلیم تو نہیں کرلیا۔

مزید : عالمی منظر