لوکل باڈیز آرڈیننس 2001:مالی و معاشی مضمرات (2)

لوکل باڈیز آرڈیننس 2001:مالی و معاشی مضمرات (2)
لوکل باڈیز آرڈیننس 2001:مالی و معاشی مضمرات (2)

  

اس نظام کے بنیادی مقاصد ،یعنی اقتدار میں عوامی شمولیت، پروانہ اختیار برائے عوام، نظام کی شفافیت برائے احتساب اور نگرانی اور احتسابی نظام کی اثر انگیزی برائے ترقی و گڈ گورننس کو دوہرانا مناسب ہو گا تاکہ ہم اس نظام کے مالی و معاشی مضمرات کا احاطہ کر سکیں کہ جن کا ہونا کسی بھی نظام کے تسلسل کے لئے گردش خون کی طرح ہونا ضروری ہوتا ہے۔

 ان ہم مالی و معاشی نکات کا احاطہ مَیں مندرجہ ذیل اہم قوانین کی خلاف ورزی کے ذریعے تجزیئے کے لئے پیش کرتا ہوں کہ جن پر عمل نظام سے بہتر نتائج کی ضمانت ہو سکتی تھی، لیکن ان کو نادانی، بے عملی، سہواً و دانستہ یا منصوبے کے تحت قابل توجہ نہ سمجھا گیا، جس سے اقتدار و اختیار کی منتقلی کے بہترین منصوبے کو شدید ناکامی اور مالی و انتظامی بدعملی کا شکار کر دیا گیا اور اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہوا کہ نئے سیاسی حکمرانوں نے اس کی اصلاح کی بجائے اس تجربے کی مزید تباہی میں اپنا حصہ ڈالا۔ نہ اس سے کوئی انتظامی و سیاسی سبق حاصل کیا اور نہ ہی اس نظام کے ذریعے ناجائز سیاسی ومالی فوائد حاصل کرنے والے افسران و سیاست دانوں کا احتساب کیا گیا۔ حکومتی شور شرابے میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ایک اہم آڈٹ رپورٹ مرتب کی، جس کا چرچا تو خوب ہوا اور الزامات کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل بھی خوب ہوا، لیکن پھر وہی سیاسی مصلحتیں،رشتہ داریاں، جوڑ توڑ اور قومی مفاد سے لاتعلقی آڑے آئی اور یہ رپورٹ بے موت مر گئی۔ اب سب کچھ کرنے کرانے اور اس کو دیکھنے دکھانے والے اپنی نئی سیاسی چاہتوں اور قباحتوں کے نرغے میں اس پر فاتحہ پڑھنے کے موڈ میں بھی نظر نہیں آتے۔ نظام کی خرابی کے اہم ذمہ دار نکات جو کسی بھی نظام میں احتساب و شفافیت کی بنیاد تصور کئے جاتے ہیں، اُن کے ساتھ کیا سلوک ہوا، وہ مَیں ترتیب سے بیان کرتا ہوں:

(1) سیکشن(n)18- کے تحت ہر ضلع میں انٹرنل آڈٹ سسٹم لاگو کیا جانا تھا، لیکن پنجاب میں کسی بھی ضلع میں کسی ناظم یا ڈی سی او نے اس کو اہم نہ سمجھا، چنانچہ اعلیٰ انتظامی قیادت کسی بھی ادارے کی کارکردگی سے غافل رہی۔

(2) نوٹیفکیشن 5-29/2001(LG) NO.SOVکے تحت مالی اعداد و شمار کو مقررہ طریقے سے پیش نہ کیا گیا اور یہ سلوک سب اضلاع میں برابر ہوا۔

(3) ضلعی اکاﺅنٹس آفیسر نے کسی بھی ضلع میں تحصیل اور یونین کونسل کے یکجا اکاﺅنٹس قواعد کے مطابق بنانے کی زحمت گوارا نہ کی۔ اس میں ناظم، ڈی سی او، حتیٰ کہ آڈٹ کی کوتاہی بھی شامل حال رہی، کیونکہ آڈٹ نے اپنا دائرہ عمل قانون کے مطابق تحصیل اور یونین کونسل تک بڑھانے میں جستجونہ کی، جبکہ صوبائی لوکل فنڈز آڈٹ کے پاس پیشہ ور انہ صلاحیت اور قانونی قوت کی کمی تھی، اربوں روپے نہ تو اکاﺅنٹس میں آئے اور نہ ان کا آڈٹ ہوا اور تحصیل و یونین کونسل کی سطح پر انتظامی صلاحیت کی شدید کمی کی وجہ سے اس سارے سرمائے کے زیاں کا احتمال رکھا، لیکن عملاً سب ادارے اس پر خاموش رہے۔

(4) اس میں مزید خرابی ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر اکاﺅنٹس کی پیشہ ورانہ استطاعت و حاصل کرنے کی آرڈیننس کے سیکشن (1)114 کے مطابق بالکل کوشش نہ کی گئی، جس کی موجودگی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مفاد پرست سیاست دانوں نے بھاری رقوم تحصیل اور یونین کونسل سطح پر وفاقی و صوبائی حکومت سے عوامی و سیاسی مفاد میں حاصل کیں کہ جن کا حساب ندارد۔

(5) آرڈیننس کے تحت صوبائی اکاﺅنٹس 1 میں ضلعی اکاﺅنٹس 4 کی وصولیوں کے غلط اندراج کئے گئے ہیں،جس سے ضلع کا حصہ مارا گیا اور ضلع کو اپنا بجٹ بنانے میں شدید مشکلات پیش آئیں، بلکہ اپنے حصے کا بجٹ جاننے میں مکمل ناکامی ہوئی۔ اس سے کئی اضلاع میں جہاں ناظم اور ڈی سی او بالکل نابلد یا نالائق تھے، وہاں ترقیاتی کاموں میں شدید مشکلات پیش آتی رہیں، بلکہ شفاف مالی صورت حال کی غیر موجودگی میں اچھے ٹھیکیدار کام کرنے سے گھبراتے تھے، جس سے سیاسی ٹھیکیداروں کی ایک منظم جماعت پیدا ہو گئی، جو ٹھیکے پر ٹھیکے لینے لگے، جس سے فراڈ اور بدنظمی کے امکانات بڑھ گئے اور مالی بدعنوانی رواج کی صورت اختیار کر گئی۔

(6) سی سی بی کا اہم ادارہ انتظامی صلاحیتوں کی غیر موجودگی کی نذر ہو گیا، سات آٹھ ارب روپیہ کئی سال بغیر استعمال کے پڑا رہا، بلکہ اس پر ستم یہ کہ اس زمانے کے سیاسی حکمران ابھی تک یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہم نے خزانہ بھرا چھوڑا تھا، حالانکہ اس طرح کی نااہلی پر مبنی بچت کو قابل شرم تو قرار دیا جا سکتا ہے، قابل تحسین نہیں۔ یہ ایک اہم خیال تھا، لیکن چند اضلاع کے سوا ہر جگہ یہ یا تو استعمال نہ ہوسکا یا یار لوگوں نے ٹھیکیداروں سے گٹھ جوڑ کر کے ان سے20فیصد ایڈوانس لے کر ادارے بنا لئے اور پھر سکیم کے بجٹ کو زیادہ تخمینہ دکھا کر اپنے اور ٹھیکیدار کے ہاتھ رنگے، جبکہ منتظمین کا صرف منہ کالا ہوا اور عوام صرف منہ دیکھتے رہ گئے۔

(7) چونگی اور دوسرے ضلعی ٹیکس لگانے میں عوام کو گمراہ کر کے زیادہ چا رج کیا گیا اور ضلعی ریونیو کلکٹر کی غیر موجودگی میں یہ نظام بے قابو رہا۔

(8) اسی طرح سیکشن134- کے تحت ضلع محتسب مقرر نہ کئے گئے، جس سے عوام کا کوئی پُرسان حال نہ رہا اور وہ سیاسی حکمرانی اور کرپٹ ملازمین کے درمیان سولی پر لٹکا دیئے گئے۔ اسی طرح ضلعی ٹیکس محتسب بھی مقرر نہ کئے جا سکے۔

(9) چھتیس اضلاع میں سے شاید ایک آدھ ناظم ہو گا کہ جس نے سیکشن(i)18 کے تحت ضلع کونسل کو ضلعی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی ہو۔ اس کے ساتھ ہی سیکشن 28-eکے تحت ڈی سی او ضلعی کارکردگی صوبائی حکومت کے سامنے پیش کرنے کا مجاز تھا،لیکن صوبائی حکومت اور لوکل گورنمنٹ کمیشن یہی کہتا رہا کہ یہ سیکشن غلطی سے آرڈیننس میں شامل ہو گیا اور اس پر عمل کی کوئی جستجو نہ کی، بلکہ آڈٹ نے پی اے سی کے سامنے ایک پریزنٹیشن بھی کی، جس کو کسی صوبائی یا ضلعی اہلکار نے پذیرائی نہ بخشی، جبکہ صوبائی اسمبلی کے ممبران اپنی حکومت کے صدقے تو جا سکتے تھے اس کے خلاف نہیں جا سکتے تھے۔

(10) لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2001ءکی ایک اہم شرط سیکشن(6)(5)114 میں مالی شفافیت کے لئے ناظم پر لازم تھا کہ وہ ماہانہ اور سالانہ اکاﺅنٹس عام عوام کے احتساب کے لئے کسی نمایاں عوامی سطح پر نمائش کرنے کا پابند تھا، لیکن ایسا کبھی نہ ہوا، بلکہ جو اکاﺅنٹس پارلیمنٹ کو ملتے رہے وہ بھی نامکمل تھے۔ حتیٰ کہ اے جی آفس بھی شفاف اکاﺅنٹس بنانے میں ناکام نظر آیا، کیونکہ ضلعی اکاﺅنٹس آفسز میں دو انتظامی ڈھانچے ہمیشہ مفاد کے ٹکراﺅ میں رہے۔ اگرچہ سی جی اے آرڈیننس 2001ءمیں واضح طور پر وفاق کو اضلاع کے اکاﺅنٹس پر اختیار حاصل ہے، جس کے لئے وفاقی افسران عدالت کا دروازہ بھی کھٹکا چکے ہیں، لیکن صوبائی حکومت اپنا غیر آئینی اختیار کھونے کو تیار نہیں اور وفاق و سی جی اے مصلحت و مصالحت کے تحت خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔

(11) قانون کے تحت ضلعی حکومت کے قوانین کی تشکیل التوا میں رہی یا رکھی گئی اور اس کوتاہی کے لئے نہ ناظم اور نہ ڈی سی او کو پوچھا جا سکا۔

(12) اخراجات کی جانچ پڑتال کا کوئی مناسب انتظام موجود نہ تھا، نہ انٹرنل آڈٹ، نہ اکاﺅنٹس کی نمائش، نہ مانیٹرنگ کمیٹیاں، نہ ضلع اکاﺅنٹس کمیٹیاں، نہ محتسب اور نہ ہی آڈٹ، نہ پنجاب فنانس کمیشن اور لوکل گورنمنٹ کمیشن کا رول اور سب سے اہم صوبائی اسمبلی اور پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی بھی اپنے منصب و اختیار سے بے خبر۔

(13) ان مالی معاملات کی طرح سیکشن123 کے تحت ضلع ناظم کی ایک اہم ذمہ داری ضلعی ریکارڈ کی تشکیل کا نظام لاگو کرنا تھا، جس میں اہم منقولہ و غیر منقولہ اثاثوں کا حساب کتاب بھی شامل تھا۔ یہ شاید کبھی تاریخ ہی بتا سکے گی، کیونکہ کوئی ذمہ دار ادارہ اس باز پرس کے موڈ میں نہیں لگتا کہ یونین کونسل، تحصیل کونسل اور ضلعی انتظامیہ کس کس کے اثاثوں کے ساتھ کیا کچھ کر گئی۔ یہ انتظامی بے خبری و نااہلی ہزاروں غریب لیڈروں کو کروڑ پتی اور سرکاری اداروں کو ککھ پتی کر گئی۔

ان تمام شواہد کی موجودگی میں یہ کہنا مشکل نہیں کہ چاہے یہ نظام اچھی طرح تشکیل دیا گیا تھا، لیکن اس کو لاگو کرنے میں خطرناک بے عملی، بدعملی، نااہلی اور سیاسی سازش کار فرما نظر آتی ہے کہ جس کا تدارک ہونا چاہئے تھا، نا کہ اس کی بنیاد پر اس نظام کے کارآمد ڈھانچے کی بساط لپیٹ دی جائے اور اس کا متبادل تلاش نہ کیا جائے۔ اتنے مہنگے تجربے کو بے ثمر کرنا ایک اور قومی جرم ہو سکتا ہے، جو مالی و سیاسی طور پر جمہوریت کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ( ختم شد)  ٭

مزید : کالم