ہڑتالیوں کا وکیل بننے سے معذرت !

ہڑتالیوں کا وکیل بننے سے معذرت !
ہڑتالیوں کا وکیل بننے سے معذرت !

  

اس معاشرے کی رگوں میں تعصب کا زہر بھرا ہوا ہے، یہاں کے دماغ شاہ دولے کے چوہوں سے بھی چھوٹے ہو چکے اور پیٹ اتنے آگے بڑھ چکے کہ ان سے آگے دیکھنا بھی ان کے لئے دشوار ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کو ہر صورت میں سروس سٹرکچر چاہئے، اس ڈیڑھ سالہ فہد کی نعش پر بھی جس کے والدین کے مطابق ہڑتال کرتے ہوئے اس کی ڈرپ اتار دی گئی اور علاج روک دیا گیا کیونکہ یہ فہد ینگ ڈاکٹرز کے کسی عہدے دار کا بیٹا نہیں تھا۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سلمان کاظمی نے اس کریک ڈاو¿ن سے ایک روز قبل مجھ سے رابطہ کیا اور کہا میں ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان مفاہمت کی راہ نکالنے کے لئے کردار ادا کروں۔ سلمان کاظمی جانتے ہیں کہ میں ڈاکٹروں کا سروس سٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے پیدا شدہ مسائل سے پوری طرح آگاہ ہی نہیں بلکہ ان کے حل کے لئے پوری طرح حمایت بھی کرتا ہوں مگر اس وقت سوال اس ہڑتال کا ہے جسے ینگ ڈاکٹروں نے بچوں کا کھیل بنا لیا ہے۔ میں ان ڈاکٹروں کی اس تشخیص سے اتفاق کرجاتا ہوں کہ بڑا مرض سروس سٹرکچرکا نہ ہونا ہے، ہڑتال تو سروس سٹرکچر کا وعدہ پورا نہ ہونے پر کی گئی۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی جسم کسی موذی مرض کا شکار ہے اور اس پر اسے بخار ہوجاتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اصل بیماری بخار نہیں بلکہ کچھ اور ہے مگر جب بخار ایک سو چار ہوجائے، یہ جسم کو توڑتے اور دماغ کو منجمد کرنے لگے تو سب سے پہلے ٹھنڈے کپڑے کی پٹیاں ہی بدن پر رکھنی چاہئیں تاکہ بخار اتر جائے اوراس کے بعد اصل مرض کا علاج شروع ہو سکے۔ ینگ ڈاکٹر برا مناتے رہیں تو مناتے رہیں مگر اصل مرض صرف سروس سٹرکچر کی عدم موجودگی نہیں، یہاں ہسپتالوں میں بیڈز، ادویات اور وینٹی لیٹرز بھی نہیں ہیں۔ میری درخواست تھی کہ ڈاکٹر پیشنٹ کئیر اورپورے ہیلتھ کئیر سسٹم کی بہتری کے مطالبات لے کر آتے مگر انہوں نے میری بار بار کی درخواست کے باوجود مجھے مایوس کیا لہذا میرے پیارے، بہت ہی مہربان سلمان کاظمی، ہڑتال پر میں ہڑتالیوں کا وکیل نہیں بن سکتا۔

بہت سارے ڈاکٹر میرے ساتھ غصے میں مکالمہ کرتے رہے۔ ڈاکٹر زنیرہ راو¿ کہتی ہیں کہ ینگ ڈاکٹرز نے صرف او پی ڈی میں ہڑتال کی ہے جہاں معمول کے مریض آتے ہیں، سنجیدہ نوعیت کے نہیں۔ میرا جواب تھا کہ ڈاکٹر صاحبہ اللہ نہ کرے آپ کے والدین غریب ہوں، انکے پاس ہسپتال جانے کا کرایہ بھی نہ ہو، وہ مانگے تانگے کے پیسوں کے ساتھ ہسپتال پہنچیں تو وہاں ڈاکٹر ہڑتال پر ہوں۔ وہ کہتی ہیں کہ اصل مجرم حکومت ہے، اس نے وعدہ خلافی کی ہے تو ڈاکٹروں کا یہ عجب انصاف ہے کہ جرم طاقتور کرے اور سزا غریب کو دیں۔ تیمور حامد بارے مجھے علم نہیں کہ وہ ڈاکٹر ہیں یا نہیں مگر کہتے ہیں کہ پاکستان کے اسی فیصد مسائل میڈیا کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اسے کہتے ہیں ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔ میں سمجھتا ہوں کہ میڈیا کی اگر یہاں کچھ غلطی ہے تو یہی ہے کہ اس نے ینگ ڈاکٹروں کو بہت زیادہ کوریج دی۔ ان کو معاشرے میں ہیرو بنا کر پیش کیا۔ سروسز ہسپتال کے کنونشن روم میں تیرہ جون کو میں یہی بات سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ حکومت آپ کو منہ مانگی مراعات نہیں دیتی مگر اس کے جواب میں آپ حکمرانوں کی بجائے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر دیتے ہیں، آپ کے روئیے سے آپ کا وقار تباہ ہو رہااور معاشرے سے فاصلہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ڈاکٹر خزیمہ کا ایس ایم ایس تھا کہ سروسز ہسپتال میں پولیس نے ڈاکٹروں پر تشدد کر کے ان کے ساتھیوں ڈاکٹر ذیشا ن اور ڈاکٹر شاہد کی ٹانگیں توڑ دی ہیں، میں نے رپورٹروں سے پوچھا تو پتا چلا کہ جب انہوں نے فرار ہوتے ہوئے چھلانگیں لگائیں تو اس وقت ان کو چوٹیں آئیں، گویا اس جنگ میں بھی ہر الزام جائز ہے۔ سنٹرل پارک میڈیکل کالج کے ڈاکٹر زاہد پرویز بھی کہتے ہیںکہ میڈیا طاقت کے زیر اثر آ گیا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میڈیا سروس سٹرکچر پر حکومت کے مقابلے میں ان کی حمایت کرے تو درست اور ہڑتال کی مخالفت کرے تو قابل گردن زدنی ہے۔ ہڑتال کی مخالفت پرڈاکٹر شعیب چٹھہ کہتے ہیں ” شیم آن یو“، عادل گورایہ برستا ہے کہ دروازے توڑنے والوں کو شرم آنی چاہئے ، کیا یہ دروازے ان کے باپ کے ہیں تو کیا اس سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں سرکار سے تنخواہ لے کر فرض ادا نہ کرنا، کیا وہاں کسی ہڑتالی لیڈر کا باپ ان کو تنخواہ دیتا ہے یا سرکار غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ہر ماہ ہزاروں ، لاکھوں ان کے اکاو¿نٹس میں منتقل کرتی ہے۔ ڈاکٹر اسد کا فرمان ہے کہ میڈیا بکا ہوا مال ہے۔ میں کسی دوسرے کے کردار کی گواہی نہیں دے سکتا مگر مجھے کسی نے نہیں خریدا، پنجاب حکومت اگر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو اشتہارات بھی دے رہی ہے تو مجھے وہی میری حق حلال کی تنخواہ ملے گی جس سے میں اپنی دس سال پرانی ہزار سی سی گاڑی چلا سکوں۔ میں قابل فروخت نہیں ہوں اور میں نے تو یہاں تک سوچا کہ ینگ ڈاکٹرز مجھے عزت دیتے اور اپنے پروگراموں میں بطور مہمان خصوصی بلاتے ہیں،اگر میںان کی ہڑتال کی مخالفت کروں گا تو وہ مجھے اپنے کنونشنوں میں بلانا بند کر دیں گے۔ میں نے حامد بٹ بارے بھی سوچا جس نے علامہ اقبال میڈیکل کالج کے آڈیٹوریم میں ڈاکٹروں کی بھرپور ہوٹنگ پر انہیں خاموش کروایا تھا، ڈاکٹر عثمان ایوب اور ڈاکٹر خزیمہ پر بھی دھیان گیا جس نے مجھے اپنی شادی تک میں بلا کر عزت دی۔ ڈاکٹر عامر بندیشہ کا خیال بھی آیا کہ اس نرم خو نوجوان سے جب دفتر کے کسی مریض بارے بھی کہا تو چھٹی کے باوجود اس نے خیال رکھا۔ ڈاکٹر ناصر عباس سے تو اتنی ملاقاتیں رہیں کہ شائد اپنے قریبی دوستوں سے نہ رہی ہوںمگر حق بات یہی ہے کہ ہڑتال ناجائز ہے۔ ظلم ہے، گناہ ہے۔ میں نے سوچا کہ اگر ینگ ڈاکٹرز مجھے نہیں بلائیں گے تو کیا ہوا، ایسا نہ ہو کہ ان سے دوستی نبھاتے ہوئے ناانصافی پر اللہ تعالیٰ مجھے اپنے حضور، حاضری سے فارغ کر دیں تو پھر میں کہاں جاو¿ں گا؟

 ڈاکٹر حیات چودھری کے شروع کئے گئے مکالمے میں ڈاکٹر زنیرہ نے مجھے ”سر“ کہہ کے مخاطب کیا توڈاکٹر زاہد پرویز نے کہا کہ مجھے ”سر “ نہ کہا جائے کیونکہ میں حکومتی ایجنٹ اور میڈیا میں کالی بھیڑ ہوں۔ شائد ڈاکٹر اسد کا کہنا تھا کہ ایک لوکل چینل کے چھوٹے سے اینکر کی کیا اوقات کہ اس کے ساتھ وقت ضائع کیا جائے۔ اگر میں اس ظالمانہ ہڑتال میں ان کے ساتھ ہوتاتوکیا ان کا ایجنٹ ،سفید بھیڑہونا میرے لئے باعث عزت ہوتا۔ میرا جواب یہی تھا کہ بدتمیزی کرنے والوں کا قصور نہیں ہوتا، یہ ان کے والدین کا قصور ہوتا ہے کہ وہ ان کو تمیز نہیں سکھاتے اور جسے والدین تمیز نہیں سکھاتے اسے زمانہ سکھا دیتا ہے۔ بہرحال یہ توہین آمیز الفاظ صرف اس لئے نقل کئے کہ ان الفاظ کے باوجود، اس ہنگامی صورتحال کے بعد ۔۔۔میرا وعدہ ہے کہ میں ڈاکٹروں کے سروس سٹرکچر کے لئے آواز بلند کروں گا، اگر حکمران ڈاکٹروں کا منہ مانگا سروس سٹر کچر نہیں دے سکتے مگراس بات کو تو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر پندرہ پندرہ سال تک ایک ہی گریڈ میں نہ رہے مگر اس وقت تو افسوس اس بات کا ہے کہ ہم تعصب کی دنیا میں رہتے ہیں،اپنے دھڑ ے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے حق کو باطل سے ملا دیتے ہیں۔ تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور قاف لیگ اس لئے ڈاکٹروں کا ساتھ دیں گی کیونکہ وہ شہباز شریف کی مخالف ہیں حالانکہ ان کے ادوار میں ڈاکٹرز ایسی ظالمانہ ہڑتالیں کرتے تو یہ سب بھی یہی کچھ کرتے، رونا تو یہی ہے کہ اپنے پیٹ بھرنے کے لئے وہ غریبوں کی جانیں لینے پر بھی تیار ہیں۔ ایسے میں مجھے متعصب ڈاکٹروں سے باہر حق اور باطل میں تمیز کرنے والوں کا شکریہ بھی ادا کرنا ہے۔ مدثر درانی خوش ہیں کہ ڈاکٹر ز ڈیوٹی پر آ رہے ہیں۔میاںیوسف نذیرکہتے ہیںکہ پنجاب حکومت نے کوئی تو اچھا کام کیا۔ روحی مقصود کہتی ہیں کہ ویل ڈن شہباز شریف۔عادل علی کا موقف ہے کہ ینگ ڈاکٹرز بدمعاش ہو گئے ہیں۔ شاہد باجواہ پریشان ہیں کہ میڈیا ان ہڑتالی ڈاکٹروں کی مظلومیت کی کہانی نہ بیان کرنے لگ پڑے۔ محمد اسد خان کہتے ہیں جان سے کھیلنا کسی کا حق نہیں ہو سکتا۔ایسے سینکڑوں تبصرے ہیں مگرمیرا مقصد ڈاکٹروں کی تحقیر نہیں، صرف یہ بتانا ہے کہ خلق خدا ان کو کیا کہہ رہی ہے۔ ینگ ڈاکٹر کے منہ میں اگر ججوں اور بیوروکریٹس کی مراعات دیکھ کر پانی آ رہا ہے تو اس میں شہر کے غریب لوگوں کا کیا جرم ہے ۔۔۔ کیا ہڑتالی ڈاکٹرز اور ان کے سرپرست ان بددعاو¿ں سے نہیں ڈرتے جو عرش چیر کر میرے رب تک پہنچ جاتی ہیں۔

مزید : کالم