غذائی اشیاءکی قیمتو ں مین استحکام اور پٹرولیم مصنو عات کی قیمتو ں میں کمی ، سے افراط زرکم ہوگیا سکیرٹری شماریات

غذائی اشیاءکی قیمتو ں مین استحکام اور پٹرولیم مصنو عات کی قیمتو ں میں کمی ، ...

اسلام آباد(اے پی پی) سیکرٹری شماریات سہیل احمد نے کہا ہے کہ مالی سال 2011-12ءکے دوران افراط زر کی شرح 11.01 فیصد رہی، غذائی اشیاءکی قیمتوں میں استحکام اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں حالیہ کمی افراط زر کی شرح کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوئی۔ پیر کو یہاں ملک میں افراط زر کی حالیہ صورتحال سے متعلق ادارہ شماریات پاکستان کی پریس بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2011-12ءکے دوران افراط زر کی مجموعی شرح 11.06 فیصد رہی جو گذشتہ مالی سال کے دوران 13.66 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ غذائی اشیاءکی قیمتوں میں اوسطاً 11.03 فیصد، گھریلو اخراجات میں 8.06 فیصد، صحت 11.46، ٹرانسپورٹ 15.02، مواصلات 0.38، تعلیمی اخراجات 12.22 اور تفریحی اخراجات میں 7.97 فیصد اضافہ ہوا۔ ماہ جون کے دوران افراط زر گذشتہ برس کی نسبت 11.26 فیصد رہی۔ چینی، گڑ، مونگ کی دال، آلو، ماش کی دال، مسور کی دال، ٹماٹر، سبزیوں اور کمیونیکیشن کے نرخوں میں کمی آئی جبکہ چنے کی دال، بیسن، پیاز، تازہ پھلوں، چاول، نصابی کتب، گیس، گھریلو اشیاءو پارچہ جات کی قیمتوں، ڈاکٹر کلینک کی فیس اور گھریلو ملازموں کی تنخواہوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جون کے دوران ٹریڈ کور انفلیشن کی شرح 11.1 فیصد رہی جو گذشتہ برس 12.4 فیصد رہی تھی جبکہ نان فون نان انرجی کور انفلیشن 9.8 فیصد سے بڑھ کر 11.4 فیصد تک پہنچ گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مئی کے مقابلہ میں جون 2012ءکے دوران اشاریہ قیمت بلحاظ صارف (سی پی آئی) میں 0.04 فیصد اور قیمتوں کے حساس اشاریہ میں 1.39 فیصد اضافہ جبکہ ہول سیل نرخوں کے اشاریہ میں 0.05 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جون کے دوران انڈے، پھلوں، مرغی، مچھلی، پیاز، سبزیوں، ماش کی دال، ٹماٹر، پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔ آلو، مشروبات، دودھ، خوردنی تیل، گڑ، سگریٹ، طبی آلات، ڈاکٹر فی، ادویات اور چائے کے نرخوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

مزید : کامرس