میو ہسپتال میں بچے کی ہلاکت ، 4ینگ ڈاکٹر ز4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

میو ہسپتال میں بچے کی ہلاکت ، 4ینگ ڈاکٹر ز4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے ...

لاہور(جنرل رپورٹر) میو ہسپتال کی ایمرجنسی میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے ہلاک ہونے والے بچے کی ہلاکت کے الزام میں 6 نامزد ڈاکٹروں سمیت8 ڈاکٹروں کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، پولیس کے مطابق ڈیڑھ سالہ بچہ فہد میو ہسپتال کی ایمرجنسی میں زیر علاج تھا کہ ڈیوٹی پر موجود8 ڈاکٹروں نے مبینہ طور پر بچے کی ڈرپ اتار لی اور ہڑتال پر چلے گئے، جس پر بچے کی ہلاکت واقع ہو گئی، پولیس نے بچے کے باپ محمد افضل کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ ڈاکٹر تجمل، ڈاکٹر عادل، ڈاکٹر مطلوب، ڈاکٹر عثمان ڈاکٹر حنان ڈاکٹر اسد اور دو نامعلوم ڈاکٹروں کے خلاف درج کیا گیا، محکمہ صحت کے مطابق ایف آئی آر میں شامل چار ڈاکٹر گرفتار ہیں، ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے دوران بچے کی ہلاکت کیس میں نامزد چار ینگ ڈاکٹرز کو مقامی عدالت کے جج نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا، اس موقع پر ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ یہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے، چاروں ڈاکٹرز کا میو ہسپتال سے کوئی تعلق نہیں انہیں سروسز ہسپتال سے گرفتار کیا گیا، اس موقع پر پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ میو ہسپتال کے ڈاکٹر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے جبکہ گرفتار ڈاکٹرز تنظیم کے عہدیدار ہیں جنہوں نے مریضوں کا علاج کرنے سے میو ہسپتال کے ڈاکٹروں کو روکا جس کی وجہ سے بچے کی ہلاکت ہوئی جوڈیشل مجسٹریٹ کا کہنا تھا کہ معاملہ حساس ہے اس لیے اس کی تحقیقات ہونی چاہیے، جوڈیشل مجسٹریٹ نے گرفتار ڈاکٹروں کو دوبارہ چھ جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے، ادھر وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کی ڈگریاں اور لائسنس منسوخ کر کے جیلوں میں بھیجا جائے گا، عوام نے بھی ٹیکسوں کے ذریعے ڈاکٹروں پر پیسہ لگایا، ڈاکٹرز کی ڈیوٹی لازمی سروس ایکٹ میں شامل ہے، ڈاکٹروں کی ہڑتال غیر قانونی ہے، ہسپتال کا امن و امان خراب کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔

مزید : صفحہ اول