ینگ ڈاکٹر کی ہڑتال ، 10 مریض جابحق ، فوجی ڈاکٹر وں نے ہسپتالوں میں کام سنبھال لیا، 918ہڑتالی واپس آگئے

ینگ ڈاکٹر کی ہڑتال ، 10 مریض جابحق ، فوجی ڈاکٹر وں نے ہسپتالوں میں کام سنبھال ...

لاہور،فےصل آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، شیخوپورہ (جنرل رپورٹر، سپیشل رپورٹر، بیورو رپورٹس، نامہ نگاران، مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب کے مختلف شہروں میں ینگ ڈاکٹرز نے 15 ویں روز بھی ہڑتال جاری رکھی اور ایمرجنسی میں بھی کام بند کر دیا جس کے باعث 10 مریض جاں بحق ہو گئے جبکہ مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فوجی ڈاکٹروں نے سرکاری ہسپتالوں میں کام سنبھال لیا ہے جبکہ 918 ہڑتالی ڈاکٹرز واپس کام پر آ گئے۔ پنجاب حکومت نے حراست میں لئے گئے ڈاکٹروں کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کرتے ہوئے ان کی ایک ماہ کےلئے نظر بندی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے‘ میڈیکل ٹیچر زایسوسی ایشن نے گرفتار ڈاکٹروں کو آئندہ 12گھنٹوں میں رہا نہ کرنے کی صورت میں ہڑتال کی دھمکی دیدی جبکہ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختوانخواہ کے ینگ ڈاکٹرز نے بھی پنجاب میں ڈاکٹروں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا اور ہڑتال کی دھمکی دیدی ۔ لاہور کے میو ہسپتال میں زیر علاج سیالکوٹ کا 65سالہ محمد مالک‘ میو ہسپتال میں ہی زیر علاج بیگم کوٹ کی رہائشی الفت بی بی‘فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال میں ایک خاتون طبی امداد نہ ملنے سے چل بسی جبکہ گنگام رام میں زیر علاج شکر گڑھ کے رہائشی مختار کو طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے سے پرائیویٹ ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ لاہورکے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں سینئرڈاکٹرزبھی ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مریضوں کو بے یارومددگار چھوڑگئے ہیں تاہم ان ڈاکٹروں کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے ۔انتظامی عہدیداروں کے علاوہ آرمی ڈاکٹرز اور نئے بھرتی ہونے والوں کی طرف سے ڈیوٹیاں سنبھالنے کے بعد ہسپتالوں کے آﺅٹ ڈورز کھل گئے ہیں تاہم ڈاکٹروں اور حکومت کی چپقلش کی وجہ سے انتہائی کم تعدا د میں مریضوں نے ہسپتالوں کا رخ کیا۔ پنجاب حکومت نے سیکرٹری صحت کو ہدایت کی ہے کہ غیر حاضر ڈاکٹروں کی برطرفی کا عمل شروع کیا جائے۔محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان نے لاہورکے ٹیچنگ ہسپتالوں میں پیڈ ہاﺅس جاب کے خواہشمند مردوخواتین ڈاکٹرزسے کہاہے کہ وہ فوری طور پر ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس سے رابطہ کریں اور اپنے ساتھ ایم بی بی ایس کی ڈگری،پی ایم ڈی سی کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور اپنی تصویر بھی لائیں۔ادھرڈی سی او لاہور نور الامین مینگل نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے غیر قانونی ہڑتال کرنے والے 33ڈاکٹروں کو 3ایم پی او کے تحت30دن کیلئے نظر بند کردیاہے۔پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال اور ان کے خلاف کریک ڈاﺅن پر صوبائی حکومت اور میڈیکل ٹیچرزایسوسی ایشن میں مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا۔میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن نے ینگ ڈاکٹرز کے گرفتار رہنماﺅں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا۔ میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر تحسین ریاض نے مطالبہ کیا کہ صورت حال کو معمول پر لانے کیلئے پہلے قدم کے طور پر حکومت ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے گرفتار رہنماﺅںکو رہا کر ے جبکہ میڈیکل ٹیچرز نے رہائی کے لئے 12گھنٹے کا وقت دیا ہے ۔ہسپتالوں میں فرائض سر انجام دینے والے ڈاکٹروں کی حفاظت کے لئے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ سیکرٹری صحت نے افسران کو مانیٹرنگ کر کے رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے جسکے مطابق ایڈیشنل سیکرٹری اسفند یار چلڈرن‘ ڈپٹی سیکرٹری سیدہ ملائیکہ پی آئی سی‘ ڈپٹی سیکرٹری صالح سعید سروسز اور ایڈیشنل سیکرٹری عثمان معظم میو ہسپتال میں مانیٹرنگ کی ڈیوٹی سر انجام دیںگے ۔ علاوہ ازیں283نئے ڈاکٹروںنے گزشتہ روز اپنی ڈیوٹیاں سنبھال لی ہیں جن میں 57نے میو‘ 90نے سروسز‘ 50نے جناح‘ 27نے جنرل اور 40گنگام رام اور 19ڈاکٹروں نے پی آئی سی میں ڈیوٹیاں سنبھالی ہیں ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ ہم نے ینگ ڈاکٹروں سے درخواستیں کیں انھیں سمجھایا‘ ڈاکٹروں کے اس اقدام سے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔ ڈاکٹروں کو اس لیے حراست میں لیا کیونکہ وہ ان ڈور بند کرنا چاہتے تھے۔محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان کا کہنا تھا کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا عوام کے علاج معالجے میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے حکومتی کارروائی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔ دریں اثناءپاک فوج نے کنٹونمنٹ کے علاقوںمیں قائم ہسپتالوں کی ڈبل شفٹ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق پنجاب حکومت کی درخواست پر سویلین مریض بھی آرمی کے ہسپتالوں میں علاج معالجہ کرا سکیں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈی جی ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمنٹ جنرل طاہر مسعود نے کنٹونمنٹ میں واقع تمام ہسپتالوں کو اس حوالے سے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ادھر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی نے ینگ ڈاکٹروں کی رہائی کے لئے حکومت کو 12 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے گرفتار ڈاکٹروں کو 12 گھنٹے کے اندر رہا نہ کیا تو پی ایم اے بھی ہڑتال کی کال دے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ینگ ڈاکٹروں سے غیر جمہوری رویہ اختیار کیا جس میں ڈاکٹروں کے کمروں کے تالے، دروازے توڑ کر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کارروائی کی مذمت کرتے ہیں۔ دریں اثناءحکومت پنجاب کے اقدامات اور سینئر ڈاکٹروں کے ہسپتالوں میں فرائض سرانجام دینے سے مریضوں کو طبی سہولتیں ملنا شروع ہو گئی ہیں اور صوبہ بھر کے او پی ڈیز‘ ان ڈورز اورو ایمرجنسی وارڈز میں مریضوں کا معائنہ اور علاج معالجہ کیا گیا-صوبائی وزراءاور منتخب عوامی نمائندوں نے بھی مختلف ہسپتالوں کا دورہ کیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ مریضوں اور ان کے لواحقین نے ہسپتالوں میں سینئر اور نئے ڈاکٹروں کی تعیناتی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کو یہ اقدام بہت پہلے اٹھا لینا چاہیے تھا اور ہڑتالی ڈاکٹروں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننا چاہیے تھا جنہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی اور دکھی انسانیت کو تڑپتے ہوئے چھوڑ دیا- انہوں نے کہا کہ کراہتے اور تڑپتے ہوئے مریضوں کو چھوڑ کر ہڑتال پر جانے والے ڈاکٹروں کی شاید ہی کسی معاشرے اور مذہب میں مثال ملتی ہو- مریضوں کے لواحقین نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور اسی صورت ان کی بات مانیں جب وہ غیرمشروط طور پر اپنی ہڑتال ختم کریں اور آئندہ بلیک میلنگ اور ہڑتال نہ کرنے کا حلف اٹھائیں۔ ادھر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا 918 ہڑتالی ڈاکٹروں نے ساتھ چھوڑ دیا اور وہ واپس ڈیوٹی پر آ گئے ہیں اور انہوں نے ٹیچنگ ہسپتالوں میں جوائننگ دے دی ہے۔ دوسری طرف نئے بھرتی کئے گئے 431 ڈاکٹروں نے بھی جوائننگ کر لی ہے۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ہڑتال سے واپس آنے والے وہ ینگ ڈاکٹرز جنہوں نے ٹیچنگ ہسپتالوں میں جوائننگ دی ہے ان میں سروسز ہسپتال میں 114، میو ہسپتال میں 98، جناح ہسپتال میں 62، جنرل ہسپتال میں 45، چلڈرن ہسپتال میں 41، گنگارام اور پی آئی سی میں 46 ڈاکٹر واپس آ گئے ہیں۔ دوسری طرف پنجاب کے دیگر ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں نے ہڑتال ختم کرکے جوائننگ دینا شروع کر دی ہے۔ دریں اثناءپولیس نے ہڑتال پر اکسانے والی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے اہم رہنماﺅں کی گرفتاری کے لئے چھاپے جاری رکھے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پولیس نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان اور چلڈرن ہسپتال کے صدر ڈاکٹر ناصر عباس کو گرفتار کر لیا ہے اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ جہاں اس نے دیگر رہنماﺅں کے بارے میں دریافت کیا جا رہا ہے۔ ”ادھر“ ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حامد بٹ سمیت دیگر اہم رہنما نے روپوش ہو گئے ہیں جن کی گرفتاری کے لئے پولیس نے آپریشن جاری رکھا۔ پولیس نے تمام ڈاکٹروں کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کردی حراست میں لیے گئے ڈاکٹروں کی ایک ماہ نظر بندی کا نوٹیفیکشن بھی جاری کردیا گیا ہے ڈاکٹروں کو سخت ترین حفاظتی انتظامات میں رکھا گیا ہے پنجاب حکومت نے غیر حاضر ڈاکٹروں کی برطرف شروع کرنے کے لیے سیکرٹری صحت کو ہدایت جاری کردی ہے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں غیر حاضری پر تین ڈاکٹروں کو برطرف بھی کردیاگیا ہے دریں اثناءگوالمنڈی قتل کے مقدمہ میں نامزد آٹھ ڈاکٹروں میں سے چار کی گرفتاری کے لیے گزشتہ روز چھاپے مارے گئے جبکہ چار پہلے سے پولیس کی حراست میں ہیں ایس پی سٹی ملتان خان اور ایس پی انوسٹی گیشن سٹی کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے صبح بھی میو ہسپتال سمیت کئی مقامات پر چھاپے مارے تاحال چار ڈاکٹر گرفتار نہ ہوسکے جبکہ گرفتار چار ڈاکٹروں کو گزشتہ روز عدالت میں پیش کیا جائے گا ذرائع کے مطابق آرمی میڈیکل کور ککے ڈاکٹر چلڈرن ، گنگارام ، سروسز سمیت پنجاب کے مختلف شہروں کے سرکاری ہسپتالوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ تمام سینئرڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں پنجاب کے دیگر شہروں میں آرمی کے 60ڈاکٹروں نے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔دوسری طرف پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مزدی 250ڈاکٹر بھرتی کرلیے گئے ہیں ۔پولیس نے رات گئے تک مختلف ہسپتالوں میں چھاپے مارکر درجنوں ڈاکٹروں کو حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کردیا ہے ۔ گوجرانوالہ سے بیورو رپورٹ کے مطابق حکومت نے ےنگ ڈاکٹر وں کی ہڑتال اور ڈےوٹی سے غےر حاضرےوں پر آرمی کے 13ڈاکٹروں کو ڈسٹرکٹ ہےڈ کوارٹر ہسپتال مےں تعےنات کر دےا ہے جنہوں نے گذشتہ روز اپنی نئی ذمے دارےاں سنبھال کر کام شروع کر دےا ہے جبکہ اےگزےکٹو ڈسٹرکٹ آفےسرنے صدر اور سےکرٹری اےسو سی اےشن سمےت 7ڈاکٹروں کو شو کاز نوٹس جاری کر کے 2لےڈی ڈاکٹروں سمےت 3ڈاکٹرز کو نوکری سے برخاست کر دےا ہے جن مےں ڈاکٹر مہرےن ، قدسےہ اور ڈاکٹر ظفر شامل ہےں تاہم بعدازاں ڈاکٹروں کی جانب سے معذرت کر نے پر انہےں دوبارہ ڈےوٹی جائننگ کی اجازت دے دی ہے نئے تعےنات ہونے والے ڈاکٹروں کو شعبہ گائنی ای اےن ٹی ، مےڈےکل ، اوپی ڈی اور سرجری مےں پوسٹ کےا گےا جبکہ ضلع کونسل کی جانب سے 14مےڈےکل کالج نے 7اور اےن جی او وز نے 8ڈاکٹروں کی خدمات ای ڈی او ہےلتھ سر وسز کے سپرد کی ہےں جبکہ گذشتہ روز ےنگ ڈاکٹر اےسو سی اےشن کی جانب سے کسی ممکنہ واقعہ کے پےش نظر پولےس کی بھاری نفری نے ہسپتال کو گھےرے مےں لے رکھا ہے جبکہ رےجنل پولےس آفےسر کےپٹن (ر)محمد امےن وےنس اور ڈی سی اوچوہدری محمد امےن وےنس نے ہسپتال کا دورہ کےا اور ہسپتال کے مختلف شعبہ جات مےں نئے تعےنات ہونے والے ڈاکٹروں سے مختلف امور پر بات چےت بھی کی ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ہسپتال مےں نئے ڈاکٹروں کی ڈےوٹےوں کے ضمن مےں روسٹر بتا دےئے گئے ہےں جنکے تحت وہ شام اور دن کے اوقات مےں فرائض ڈےوٹی انجام دےں گے جبکہ نئے ڈاکٹروں کے آنے سے ہسپتال مےں ڈاکٹروں کی تعداد پو ری ہو گئی۔ شیخوپورہ سے بیورو رپورٹ کے مطابق شیخوپورہ میں ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث طبی امداد نہ ملنے کی بناءپر قیدی اور ایک 12 سالہ بچی جاں بحق ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں قید مقدمہ قتل کا حوالاتی جمیل تین روز سے بیمار تھا اور اسے علاج معالجہ کے لئے ڈسٹرکٹ جیل کے عملہ نے ڈی ایچ کیو ہسپتال داخل کروا دیا جہاں ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث اسے طبی امداد مہیا نہ ہو سکی جس پر وہ ہسپتال میں دم توڑ گیا اس واقعہ کے خلاف متوفی کے ورثاءنے شدید احتجاج کیا۔ متوفی تھانہ شرقپور کے علاقہ فیض پور کے ایک مقدمہ قتل میں ڈسٹرکٹ جیل میں بند تھا جبکہ دوسری طرف ایک 12 سالہ بچی صبا بھی ڈاکٹرز کی عدم دلچسپی کی بناءپر دم توڑ گئی۔ متوفیہ طارق روڈ کی رہائشی بتائی گئی ہے۔ فیصل آباد سے بیورورپورٹ کے مطابق الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں سینئر ڈاکٹر ز اور پاک آرمی کے ڈاکٹر ز نے مریضوں کا علاج معالجہ شروع کردیا ہے جبکہ سول ہسپتال میں سینئر ڈاکٹر ز اور خصوصی طور پر تعینا ت ڈاکٹر ز وارڈز اور ایمرجنسی میں اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ینگ ڈاکٹر ز کی ہڑتال کے پیش نظر تمام سرکاری ہسپتالوں میں گزشتہ روز پولیس تعینات کر دی گئی تھی تاہم ڈاکٹر ز کی ہڑتال کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد معمول سے قدرے کم دکھائی دیتی ہے فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال میں تعینات ڈاکٹرز کی تعداد525 اور سول ہسپتال میں تعینا ت ڈاکٹر ز کی تعداد375 ہے جو زیاد ہ تر اپنے مطالبا ت کی حمایت میں کام چھوڑ کر ہڑتال پر چلے گئے ہیں اگرچہ فیصل آباد میں سردست ڈاکٹرز کی گرفتاریاں عمل میں نہیں آئیں تاہم ہسپتالوں کی انتظامیہ اور مقامی حکام کی طرف سے تشکیل دی جانے والی حکمت عملی کی وجہ سے ان ہسپتالوں میں دستیاب ڈاکٹر ز کے ذریعے علاج معالجے کا سلسلہ جاری ہے ۔ دونوں ہسپتالوں میں گزشتہ روز متعدد آپریشن بھی کئے گئے ہیں اور کام چھوڑ نے والے ڈاکٹرز کو ڈیوٹی پر لا نے کیلئے مختلف ذرائع سے رابطے بھی کئے جارہے ہیں ۔

مزید : صفحہ اول