سُپریم کورٹ کے حکم کے باوجود گورنر پنجاب پٹواری کو بحال کر دیا

سُپریم کورٹ کے حکم کے باوجود گورنر پنجاب پٹواری کو بحال کر دیا

لاہور (سعید چودھری) سپریم کورٹ سے بحالی کی درخواست خارج ہونے کے باوجود گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے پٹواری کو بحال کردیا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس نے گورنر کے اقدام کو غیر آئینی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا قانونی مشورہ دے دیا ۔ محکمہ مال نے گوجرانوالہ کے پٹواری منشی محمد طارق کو بدعنوانی کے الزام کے تحت مئی 2000ءمیں برطرف کیا۔ برطرفی کے خلاف منشی محمد طارق کی اپیل 2001ءمیں پنجاب سروس ٹربیول نے بھی خارج کردی جس کے خلاف اس نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ 2005ءمیں سپریم کورٹ نے اس کی بحالی کی درخواست خارج کی تو اس نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی۔ نظرثانی کی درخواست بھی سپریم کورٹ سے مسترد ہوگئی۔ تمام لیگل فورم استعمال کرنے کے بعد اس پٹواری نے صوبائی محتسب کو درخواست دے دی۔ صوبائی محتسب نے بھی اس درخواست کو ناقابل پذیرائی قرار دے کر مسترد کردیا۔ صوبائی محتسب نے قرار دیا تھا کہ ملازمتوں کے معاملات ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ پٹواری منشی محمد طارق نے صوبائی محتسب کے فیصلے کے خلاف گورنر پنجاب کو عرضداشت پیش کی جس کومنظور کرتے ہوئے گورنر نے منشی محمد طارق کو برطرفی کے 12 سال بعد ملازمت پر بحال کردیا۔ گورنر کے اس حکم نامے پر عملدرآمد کرنے یانہ کرنے کی بابت محکمہ مال نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی رائے طلب کی اور اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر سٹی گوجرانوالہ نے اپنے اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ایڈووکیٹ جنرل کو چٹھی لکھی جس کے جواب میں ذرائع کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل نے رائے دی ہے کہ پنجاب محتسب ایکٹ مجریہ 1997ءکے تحت صوبائی محتسب کو سرکاری محکموں کے ملازمین کے معاملات میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیںہے۔ آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت یہ سروس ٹربیونل کا اختیار ہے۔ اسی طرح گورنر اس معاملے میں کوئی حکم جاری کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ گورنر کے اس اقدام کو فوری طورپر اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے۔ گورنر پنجاب نے پٹواری منشی محمد طارق کی برطرفی کا حکم کالعدم کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ اس پٹواری نے سول کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں متعلقہ اراضی کا انتقال کیاتھا جسے بدعنوانی قراردے کر اسے برطرف کردیا گیا۔ یہ برطرفی پہلے دن سے ہی غیر قانونی تھی اور کسی عدالت نے میرٹ پر اس برطرفی کی توثیق نہیں کی بلکہ منشی طارق کی اپیل زائد المعیاد ہونے کی بناءپر سروس ٹربیونل سے خارج ہوئی جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔ گورنر نے مزید لکھا کہ یہ محکمانہ بدانتظامی کا معاملہ ہے جس میں صوبائی محتسب مداخلت کرسکتا تھا۔ دوسری طرف حکومت کے قانونی مشیروں کا مو¿قف ہے کہ گورنر کو اس معاملے میں مداخلت اور برطرف ملازمین کو بحال کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

مزید : صفحہ آخر