فوجی ڈاکٹروں کی طلبی

فوجی ڈاکٹروں کی طلبی
فوجی ڈاکٹروں کی طلبی

  

پنجاب بھر میں ینگ ڈاکٹروں نے ہڑتال کر رکھی ہے۔ گزشتہ شب (اتوار اور سوموار کی درمیانی شب) پولیس نے سروسز ہسپتال، لاہور میں ینگ ڈاکٹروں کے ہاسٹلوں پر چھاپہ مارا اور کئی ہڑتالی ڈاکٹروں کو گرفتار کر لیا۔ سوموار (2 جولائی 2012ئ) کے اخبارات میں ہاسٹلوں کے دروازے توڑنے اور نوجوان ڈاکٹروں کو بازوو¿ں سے پکڑ کر لے جانے کے مناظر کی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔

پچھلے کئی روز سے الیکٹرانک میڈیا پر اس مسئلہ کی کوریج میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا جا رہا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب جو میڈیا پر خبریں دیکھ اور پڑھ کر”تُرنت“ ایکشن لینے میں ایک خاص شہرت رکھتے ہیں، انہوں نے آخر تنگ آکر ڈاکٹروں کے خلاف دو ایکشن لئے.... ایک تو یہ کہ انہیں24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا کہ ہڑتال ختم کر دیں، ڈیوٹی جوائن کریں اور اپنے شفاخانے چلیں یا بصورت دیگر ”تھانے چلیں“.... اور دوسرا یہ کہ پنجاب بھر کے سویلین ہسپتالوں میں آرمی میڈیکل کور کے ڈاکٹروں کو طلب کر لیا گیا ہے۔

 ینگ ڈاکٹروں کو گرفتار کرنا اور ان کی اس طرح سر عام تضحیک و تحقیر کرنا مناسب تو نہیں لیکن یہ حقیقت اور بھی افسوسناک ہے کہ جاں بلب مریضوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ان کو سسک سسک کر موت قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ہمارے خیال میں ینگ ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن (YDA) کے عہدیداروں نے ہڑتال کی سٹریٹجی وضع کرنے میں شدید غلطی کی ۔ پوسٹ گریجوایٹ اور نوجوان مسیحاو¿ں سے یہ توقع نہ تھی کہ وہ طب جیسے معزز اور مناپلی انگیز پیشے کو رُسوا کرنے میں پیش پیش ہوں گے۔ میڈیا میں ڈاکٹر برادری کا پرسپشن ایک قابل احترام پیشے کا پرسپشن ہے، لیکن جب میڈیا میں مریضوں کو بسترِ مرگ پر تڑپتا ہوا اور ان کی طبی دیکھ بھال کرنے والا عملہ غائب دکھایا جاتا ہے تو اس سے پیشہءطب کا پرسپشن شدید مجروح ہوتا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے کارکنوں کو ایسی حکمت عملی وضع کرنی چاہئے تھی کہ لاٹھی بھی بچ جاتی اور سانپ بھی مر جاتا ۔مریضوں کو بے علاج اور بے یارو مددگار چھوڑ دینا، انتہائی غیر انسانی (Inhuman) فعل ہے اور اس کو آخری آپشن کے طور پر بھی استعمال کرنے کی سفارش نہیں کی جاسکتی۔ او پی ڈی (OPD) اور آئی سی یو(ICU) میں ہر لمحہ ایسے ایسے کیس آتے ہیں، جن کی موت و حیات کی ڈوری اللہ کریم کے بعد، ڈاکٹر کی توجہ یا عدم توجہ پر انحصار رکھتی ہے۔ اس لئے جن نوجوان ڈاکٹروں نے بھی ہڑتال کی کال کا حربہ استعمال کیا ہے، انہوں نے اپنی اس عقل و خرد کی تہی دامنی کا واضح ثبوت دے دیا ہے جو پانچ برس تک میڈیکل کالجوں میں تعلیم پانے والے اور انسانی موت و حیات کے نشیب و فراز سے مکمل آگہی رکھنے والے مسیحاو¿ں سے ہرگز متوقع نہیں تھی۔

اگرچہ ڈاکٹروں کے جائز مطالبات پر دو رائے نہیں ہو سکتیں۔ لیکن جب ایک بار انہوں نے بقائمی ہوش و حواس کسی گورنمنٹ ہسپتال میں ملازمت کرنا قبول کر لیا تھا تو کیا ان کو اس وقت اپنی ضروریات کا ادراک نہ تھا؟.... اور کیا اس وقت حکومت کی مجبوریوں کا شعور نہ تھا؟.... ڈاکٹروں کا یہ کہنا کہ ہمیں تنخواہوں میں اضافے کی ضرورت نہیں، بلکہ ہمارے مطالبات اور قسم کے ہیں، تو ان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ”اور قسم“ کے مطالبات کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے لئے حکومت کی محدودات بھی ” اور قسم“ کی ہیں۔

کئی روز سے ینگ ڈاکٹر اپنے ہاسٹلوں میں بیٹھے ٹیلی ویژن سکرینوں پر غریب ونادار اور بے بس مریضوں کو مرتے اور بلبلاتے دیکھ رہے ہیں، ان کے لواحقین کی جیب و دامن کی تہی دستیاں بھی ان کو صاف نظر آ رہی ہیں، لیکن جب یہ تمام مناظر اور معذوریاں دیکھ کر بھی کسی ”انسان“ کے دل میں دوسرے ”انسان“ کے لئے کوئی جذبہ ترحم بیدار نہیں ہوتا، تو ایسے دل کو کیا کہا جائے گا؟

حکومت پنجاب بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ وہ 23 ارب روپے کے اضافی بجٹ کو محکمہءصحت کے کھاتے میں ڈالنے کی متحمل نہیں تو اس کی بھی سننی چاہئے ....اور بفرضِ محال اگر حکومت کا استدلال بے جواز بھی ہو تو بھی مریضوں کو ”لاوارث“ چھوڑ دینا کسی بھی ضابطہءاخلاق اور پیشہ وارانہ اخلاقیات کی کسی بھی شق پر پورا نہیں اُترتا اور نا قابلِ قبول بھی ہے اور ناقابلِ معافی بھی۔ حکومت نے اسی ناقابلِ قبول رویے کو نا قابلِ برداشت کہہ کر یہ سخت اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ حکومت کا شدید ترین ناقد اور ڈاکٹروں کا شدید ترین مدح سرا بھی اپنا ووٹ، اپنے ممدوحین کے بیلٹ باکس میں نہیں ڈالے گا۔

پنجاب حکومت کا دوسرا اقدام فوجی ڈاکٹروں کی طلبی ہے.... اس اقدام کے بھی دو پہلو ہیں اور دونوں غائت توجہ اور غور و خوض کے متقاضی ہیں۔

ایک تو یہ ہے کہ سویلین ڈاکٹر، ان کے والدین، دوست احباب اور عزیز و اقارب سب کے سب فوج کے لئے اُس گوشے کو اور بھی سخت بنا دیں گے جس کو گزشتہ پانچ، چھ برس سے سیاستدانوں نے ”نرم“ سے سخت بنانے کے لئے بے شمار کوششیں کی ہیں.... فوجی ڈاکٹر، فوج کے نمائندے ہیں۔ الزام لگایا جا سکتا ہے کہ فوج، سویلین ڈاکٹروں کی کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کر رہی ہے۔ ینگ ڈاکٹر چونکہ ”اینگری ینگ مین“ بنے ہوئے ہیں، اس لئے ان کا سارا غصہ (Anger) اس ”پارٹی“ پر نکلے گا، جو ان کے منزلِ مُراد پانے کی راہ میں حائل ہوگی یا ہونے کا ”ارتکاب“ کرے گی۔ فوجی ڈاکٹروں کو بلانے کا یہ اقدام فوج کی اعلیٰ ترین قیادت کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ جی ایچ کیو نے بہت سوچ بچار کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ لیکن فوج کے اس فیصلے کی داد دئیے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ اس نے انسانی جان بچانے کو کسی بھی دوسرے جائز یا ناجائز مطالبے پر ترجیح دی ہے۔ اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ینگ ڈاکٹر حضرات کے مطالبات درست اور جائز ہیں تو پھر بھی ان مطالبات اورانسانی موت و حیات کے مابین جو لکیر کھینچی جائے گی، وہ ہڑتالی ڈاکٹروں کی مخالفت کی طرف جائے گی.... فوج نے گویا چند سو یا چند ہزار ہڑتالی ڈاکٹروں کے مقابلے میں پنجاب کے دس کروڑ عوام و خواص کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیا ہے....اور یہ ایک نہایت خوش آئند اقدام ہے۔

ہم نے آج صبح اخبارات میں ینگ ڈاکٹروں کی ”پکڑ دھکڑ“ کی خبریں دیکھ کر اپنے دو چار دوستوں اور عزیزوں کو فون کیا جو آرمی میڈیکل کور میں ہیں۔ ان سب نے یہی کہا کہ محکمہءصحت ایک ایسا ”لازمی محکمہ“ ہے، جس میں ہڑتال کا تصور تک نہیں ہونا چاہئے۔ اگر کل کلاں محکمہ ریلوے یا پولیس یا فوج بھی ہڑتال پر اُتر آئے تو ملک کی کیا صورت حال ہوگی؟.... اُنہوں نے استدلال کیا کہ ہم خواہ اپنے سویلین ”پیٹی بھائیوں“ کی کتنی ہی حمایت کریں تو بھی ”ہڑتال“ کی کالوں کو جائز تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ فوج میں بھی ینگ ڈاکٹر ہیں، ان کے مسائل بھی کم و بیش وہی ہیں جو سویلین ینگ ڈاکٹروں کے ہیں۔ ان کی ٹریننگ پر بھی وہی خرچہ آتا ہے جو دوسرے ڈاکٹروں کی پنج سالہ ٹریننگ پر آتا ہے، ان کو بھی پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت نہیں، ان کی تنخواہیں بھی محدود ہیں اور ان کی ضرورتیں بھی عین مین وہی ہیں، جو پنجاب کے ینگ ہڑتالی ڈاکٹروں کی ہیں، لیکن کیا آج تک کسی نے سُنا ہے کہ فوج کے ینگ ڈاکٹروں نے بھی کبھی کسی ہڑتال کا سوچا ہو؟.... فوج کے کسی ڈاکٹر کی دردی، راشن، رہائش اور ٹرانسپورٹ وغیرہ مفت نہیں ہوتی۔ سب کچھ اپنے پلے سے خرچ کرنا پڑتا ہے اور وہ لوگ بھی 24 گھنٹے، دن رات آن کال رہتے ہیں۔

فوجی اور سویلین ”قبائل“ کے اس باہمی خرخشے کے باوصف سویلین ہسپتالوں میں آرمی میڈیکل کو رکے ڈاکٹروں کے بھیجے جانے کا ایک اور پہلو بھی ہے.... وہ یہ ہے کہ سب کو معلوم ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوںکی، خواہ وہ ملٹری کے ہوں یا سول حکومت کے، ایک منظور شدہ ”فہرستِ عملہ و سازوسامان“ ہوتی ہے۔ فوجی اصطلاح میں اسے(TO & E) یعنی ”ٹیبل آف آرگنائزیشن اینڈ ایکوپ منٹ“ کہا جاتا ہے۔ یہ فہرست ہر ملٹری ہسپتال کی الگ الگ ہوتی ہے۔ اس میں مختلف شعبوں کے ڈاکٹروں اور متخصصین (Specialists) کی تعداد دی گئی ہوتی ہے۔ اس تعداد سے زیادہ کوئی ایک ڈاکٹر بھی تعینات نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کوئی ایک اضافی نرسنگ اردلی (پیرا میڈیکل سٹاف) پوسٹ کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے ینگ ڈاکٹروں کی یہ ہڑتال ”پنجاب گیر“ پیمانے کی ہے۔ چنانچہ جہاں جہاں بھی ملٹری چھاو¿نیاں ہوں گی، وہاں کے ملٹری ہسپتالوں سے فوجی ڈاکٹروں کو نکال کر ہی پوسٹ کیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں اس عمل سے فوج کے اپنے مریضوں کی دیکھ بھال اوران کا علاج معالجہ بھی متاثرہوگا یا پھر ہسپتال کے باقی ڈاکٹروں کو اضافی ڈیوٹیاں دینی پڑیں گی.... تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ فوج کے ڈاکٹر ہڑتال کر دیں کہ نہیں جناب ہم یہ اضافی ڈیوٹیاں نہیں دے سکتے!.... کوئی مریض بلکتا ہے تو بلکتا رہے، کوئی بسمل ہے تو تڑپتا رہے، ہمیں کیا.... اور کوئی آخری سانسیں لے رہا ہے تو ہماری بلا سے!....

لیکن قارئین کرام! آپ دیکھیں گے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ سویلین ڈاکٹروں کے یہی فوجی بھائی بند، سویلین ہسپتالوں میں جا کر اپنی سویلین برادری کو ایک ایسا آئینہ دکھائیں گے جس میں ان دونوں ”قبیلوں“ کے افراد کے چہروں میں جو فرق ہے وہ نمایاں ہو کر نظر آئے گا۔ یہ امتیاز صرف اورصرف انسانی کردار کا غماز ہوگا....اور ینگ یا اولڈ تمام ڈاکٹر صاحبان کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ انسان پہلے ہیں اور ڈاکٹر بعد میں!!  ٭

مزید : کالم