رحمن ملک کا مضبوط موقف

رحمن ملک کا مضبوط موقف
رحمن ملک کا مضبوط موقف

  

28جون کو ایک جانب بھارتی جاسوس اپنی رہائی کے بعد ہندوستانی میڈیا پر اعتراف کررہا تھا کہ وہ انڈین آرمی کی جانب سے جاسوسی کی غرض سے پاکستان گیا تھاسری جانب بھارتی حکومت نے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف الزامات کا نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔اسی پس منظر میں سینئرمشیر داخلہ رحمان ملک نے 27جون 2012ءکو کھلے الفاظ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت کے خفیہ ادارے بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح سے بلوچستان اور دیگر پاکستانی علاقوں میں جاری دہشت گردی کو پروان چڑھا رہے ہیں اور دہشت گردوں کو بھارت سے کئے جانے والے ٹیلی فون پیغامات بطور شواہد دہلی سرکار کو فراہم کئے جا چکے ہیں۔اس موقع پر رحمن ملک نے یہ وضاحت بھی کی کہ بھارت کی جانب سے پاک فوج اور آئی ایس آئی پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیادہیں اور کم از کم پانچ مرتبہ خود بھارتی عدالتیں اور تفتیشی ادارے ایسے بے سروپا الزامات کو غلط ثابت کرچکے ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے ایک بار بھی اپنی اس منفی روش پر معذرت یا افسوس کا اظہار نہیں کیا۔واضح رہے کہ پاکستانی مشیر داخلہ مبینہ طورپر چند روز قبل بھارت میں گرفتار کسی ”ابوحمزہ“ نامی فرد کے حوالے سے انڈین ہوم منسٹر”چدمبرم“ کی جانب سے پاکستان کے خلاف تازہ الزام تراشیوں کے ضمن میں بات کررہے تھے۔

بھارت کی داخلی سیاست کا طالب علم ہونے کے ناتے راقم بلاجھجھک کہہ سکتا ہے کہ رحمن ملک کا موقف پوری طرح دلائل اور سچائی پرمبنی ہے اور اس ضمن میں بھارتی فوج کے کرنل پروہت اورسانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا معاملہ ایک ٹیسٹ کیس کا درجہ رکھتا ہے۔واضح رہے کہ 5نومبر2008ءکو بھارت میں اس وقت گویا ایک بھونچال سا آ گیا، جب انڈین آرمی کے حاضر سروس سینئر آفیسرکرنل پروہت کو بھارت کے اندر ہونے والے مختلف بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔کرنل پروہت کو بھارتی صوبے مدھیہ پردیش کے شہرپنچ مڑھی سے حراست میں لیا گیا،جہاں وہ انڈین آرمی کی ایجوکیشن کور میں تعینات تھا۔واضح رہے کہ پنچ مڑھی بھارت کی ایک بڑی فوجی چھاﺅنی ہے،جہاں پر انڈین آرمی کے کئے تربیتی مراکز اور دیگر اداروں کا ہیڈکوارٹربھی ہے۔

کثیر الاشاعت ہندی روزنامے”دینک سچ کہو“.... (جوہریانہ اور دہلی سے شائع ہوتا ہے).... نے اپنی 6 نومبر2008ءکی اشاعت میںکرنل پروہت کی گرفتاری اور مالیگاﺅں بم دھماکوں میں ملوث ہونے کی خبرنمایاں انداز میں چھاپی اور بھارت کے مرکزی وزیرمملکت برائے داخلہ امور پرکاش جیسوال کے حوالے سے بتایا کہ اس سازش میں بہت سے ہندو دہشت گرد عناصر ملوث ہو سکتے ہیں اور پوری تفتیش کے بعد ممکنہ طور پر انتہا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔اس سے پہلے گزشتہ برسوں سے اعتدال پسند بھارتی اخبارات تسلسل کے ساتھ یہ انکشاف کررہے ہیں کہ کانپور،نانڈیر،مالیگاﺅں اور کئی دوسرے بھارتی شہروں میں ہونے والی خوفناک دہشت گردی کی کارروائیاں ہندو دہشٹ گرد عناصر نے کی ہیں۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارتی اخبارات کے مطابق مالیگاﺅں بم دھماکوں میں انڈین آرمی کے میجراپادھیا،سمیر کلکرنی اور دیگر کئی افسران ملوث تھے۔اس ضمن میں 25سالہ ہندو خاتون پرگیہ ٹھاکر بھی پوری طرح ملوث بتائی جاتی ہے۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مالیگاﺅں دھماکے سے پہلے 15روز تک بھارتی فوج اور خفیہ اداروں کے افسران نے بھونسلے ملٹری سکول میں دہشت گرد ہندو خاتون پرگیہ ٹھاکر اور دیگر6ہندو نوجوانوں کو بم دھماکوں کی ٹریننگ بھی دی تھی۔

اس ٹریننگ کے بعد ملزمان نے 7دن تک اس ملٹری سکول میں مزید قیام کرکے منظم طریقے سے بم نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی۔اس کے بعد سمیر کلکرنی کے علاوہ دھماکے سے 3دن پہلے باقی لوگوں نے مالیگاﺅں چھوڑ دیا۔پارچہ بافی کی صنعت کے لئے مشہور مالیگاﺅں میں سمیر کلکرنی چند دوسرے لوگوں کے ساتھ موجود رہا۔خاتون پرگیہ ٹھاکرکے اعترافی بیان پر اینٹی ٹیررسٹ سکواڈاے ٹی ایس نے 23اکتوبر کو شیونارائن سنگھ اور شیام لعل ساہو کو بھی گرفتار کرلیا۔مالیگاﺅں دھماکے میں 11سالہ بچی فرحین شیخ کے علاوہ چھ اور افراد(جو بھارتی مسلمان تھے) بھی جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ 89زخمی ہوئے،جن میں سے اکثریت بے گناہ ہندوﺅں کی تھی۔ملزمان کے اعترافی بیان کے مطابق وہ ان دھماکوں کے ذریعے پورے بھارت اور دنیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کاماحول پیدا کرنا چاہتے تھے۔ماہرین کے مطابق پچھلے چند سال میں شمالی اور مغربی بھارت ،بشمول دہلی ،بھارت میں 64بم دھماکے ہوچکے ہیں،جن میں 1215اموات ہوئیں، جبکہ ایک ہزار سے زائد معصوم افردا زخمی ہوئے۔

غیرجانبدار مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارت میں فروغ پذیر ہندو انتہا پسند نظریات کا سنجیدہ جائزہ لیا جائے تو حقیقی صورت حال بڑی حد تک واضح ہو جاتی ہے اور اس کی بڑی وجہ آر ایس ایس اور اس سے متعلقہ انتہا پسند تنظیموں کی بڑھتی تعداد سے معاملات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر قیام بھارت کے ابتدائی برسوں میں پورے ہندوستان میں آر ایس ایس کی 5ہزار شاخیں تھی،جو 1980ءمیں 31ہزار ہوگئیں اور 2007ءکے اعدادوشمار کے مطابق آر ایس ایسکی 60ہزار شاخیں قائم ہوچکی ہیں،جن میں سے 42ہزار مقامات پر روزانہ فوجی تربیت اور اکھنڈ بھارت اور رام راجیہ کے قیام کی بابت بھاشن ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ 5ہزار مقامات پر ہفتہ وار اور 2ہزار جگہوں پر ماہانہ اور باقی تربیتی مراکز میں ہر چھ ماہ بعد اجتماعات اور تربیتی کورسز ہوتے ہیں۔بھارت کے تمام تر جمہوری اور سیکولرازم کے دعوﺅں کے باوجود زمینی حقائق یہی ہیں کہ بھارت کے طول و عرض میں شدت پسند ہندو نظریات بالادست بھارتی معاشرے کی سرپرستی میں زعفرانی دہشت گردی کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں اور اس ضمن میں بھارت کے ریاستی اور نان سٹیٹ ایکٹرز دونوں پوری طرح ملوث ہیں۔

اس تمام معاملے کا یہ پہلو زیادہ توجہ طلب ہے کہ آغازمیں بھارتی حکومت نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس ، اجمیردرگاہ میں دھماکے، مکہ مسجد دہشت گردی،مالیگاﺅں دھماکے اور ممبئی سنیما گھروں میں دہشت گردی کا الزام پاکستان اور آئی ایس آئی پر لگایا تھا ،مگر بعد میں خود بھارتی تفتیشی اداروں اور عدالتوں میں ان الزامات کی نفی ہوگئی اور صورت حال ”ہم الزام ان کودیتے ہیں،قصور اپنا نکل آیا“ جیسی بن گئی، کیونکہ سبھی گرفتاری ملزمان بھارت کے شہری ثابت ہوئے۔امیدکی جانی چاہیے کہ دیرسے ہی سہی، اب عالمی برادری اور بھارت کے پالیسی ساز حقائق کا ادراک کرتے ہوئے تعمیری اور مثبت روش اپنا لیں گے، اگرچہ گزشتہ ریکارڈ کے پیش نظر ایسی توقع محض خوش فہمی ہی قرار پا سکتی ہے۔  ٭

۔دو

مزید : کالم