نیٹو کی چالاکی اور اس کے مضمرات

نیٹو کی چالاکی اور اس کے مضمرات
نیٹو کی چالاکی اور اس کے مضمرات

  

 اس سال شکاگو میںہونے والی نیٹو کانفرنس میں صدر ِ پاکستان آصف علی زرداری صاحب کی سرعام سبکی کے علاوہ دو اہم فیصلے بھی کئے گئےلزبن کانفرنس میں کئے گئے دعدے کے مطابق افغانستان سے2014 ءکے اختتام تک افواج کے انخلا کو یقینی بنانا اور روسی اعتراضات کے باوجود بین البر اعظمی میزائلوں کو روکنے والے امریکی ڈیفنس سسٹم کو وسطی یورپ میں نصب کرنا۔ یہ دونوں فیصلے نیٹو کی چالبازی کی غمازی کرتے ہوئے ان کے علاقائی اور عالمی مضمرات پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

جہاں تک افغان محاذ کا تعلق ہے، تو یہاں ایک چیز اظہر من الشمس ہے کہ اس جنگ زدہ ملک سے افواج کے انخلا اور دیر پا امن کا جو بھی منصوبہ ہو، وہ عملی طور پر ناکامی سے ہمکنار ہو گا، جب تک اس خطے میں پاکستان کی سلامتی کو لاحق خدشات کا تدارک نہیںہوجاتا۔ پاکستان اس جنگ کی وجہ سے تشدد، بڑی تعداد میں افراد کی ہجرت کے بوجھ، تجارت اور پیداواری صلاحیت میں کمی اور بگڑتے ہوئے امن و امان کی صورت میں بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کی طرف امریکی جھکاﺅ اور اس پیش رفت کے اس خطے کے معروضات پر منفی نتائج خاص طور پر ہماری مغربی سرحدوں پر بھارت کے حمایت یافتہ گروہوں کی موجودگی لیکن پاکستان کی جائز تشویش کو بھی امریکی انتظامیہ کی طرف سے کوئی پذیرائی نہیں ملی ۔القاعدہ کے دہشت گردوں کا اصل ہدف بھی ہم ہی ہیں اور ان کی طر ف سے کئے گئے حملوں میں 35,000 سے زائد پاکستانی شہری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کو مشکوک نظروںسے دیکھا جاتا ہے۔ ہم پر مناسب کارروائی نہ کرنے کا الزام ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستانی سرزمین پر نیٹو افواج کی کارروائی اور ڈرون حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ یواین چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور اس سے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ ایک ملک کو ایک ہی دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے آپ بیک وقت دوست اور دشمن کا درجہ نہیں دے سکتے ۔ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ اس رویے میں تبدیلی پیدا کی جائے؟

وسطی یورپ میں امریکی میزائل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب کے مسئلے پر امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ روس کے خلاف نہیں ، بلکہ ”یہ اقدام یورپ اور بحر ِ اوقیانوس کے بیرونی علاقوںسے اٹھنے والے خطرات سے نبرد آزماہونے کے لئے ہے“....تاہم اس مسئلے کی تاریخ کا تعلق پچاس کی دھائی میں کئے گئے بین البر اعظمی میزائل کے پہلے تجربے سے ہے۔اُس وقت سے لے کر آج بیلسٹک میزائل ڈیفنس (بی ایم ڈی) کی تنصیبات دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد زیر ِ بحث لائے جانے والے متنازعہ ترین عسکری معاملات میں سے ایک ہے۔بی ایم ڈی نظام کو حملہ آور میزائلوں کو دوران ِ پرواز مار گرانے کے لئے ڈئزائن کیا گیا ،مگر کئی سال تک یہ ناقابل ِ عمل تصور ہی رہا۔ 1967ءمیں ، جبکہ ان کی سروس ختم ہونے کے قریب تھی، امریکی سیکریٹری دفاع رابٹ ایس میک نمارا نے بی ایم ڈی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام انتہائی مہنگا ہونے کی وجہ سے عملی طور پر غیر موثر ہے۔

انہوںنے دو وجوہات کی بنا پر اس کی مخالفت کییہ مہنگا ہونے کے باوجود سو فیصد حفاظت کو یقینی نہیں بناتا ، اور اگر اس کو نصب کر دیا جائے توروس اس کو اشتعال انگیزی گردانتے ہوئے مزید جارحانہ اقدامات کی طرف جائے گا، تاہم جب یہ بات واضح ہوگئی کہ روس بھی ایسے نظام کی طرف پیش رفت کر رہا ہے تو امریکہ پر دباﺅ بڑھ گیا کہ وہ ”اے بی ایم“ پروگرام کو آگے بڑھائے۔مسٹر میک نمارا کو بادل ِ ناخواستہ ایسے سسٹم کی تنصیبات پر راضی ہونا پڑا ،اگر چہ ان کو تب بھی یقین تھا کہ امریکہ کے لئے اس راہ پر قدم بڑھانا دانشمندانہ فیصلہ نہیںہے ۔ ان کا خیال تھا کہ ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی دوڑ کو روکنے کے لئے کوئی حد مقرر کی جانی چاہیے۔ اس کے پانچ سال کے اندر اندر امریکہ نے دانشمندی دکھاتے ہوئے واپسی کی راہ اختیار کی اور 1972ءمیں اے بی ایم معاہدے پر دستخط کردیئے۔ یہ معاہدہ عالمی طاقتوںکو میزائل ڈیفنس کی تنصیبات سے سختی سے روکتا ہے۔

کم وبیش بیس سال تک اے بی ایم معاہدے کو امریکی پالیسی سازوں دفاعی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل رہی۔ سرد جنگ کے خاتمے پرصدر ریگن کی سٹار وار پر دفاعی حکمت عملی میں پیش قدمی (ایس ڈی آئی)کو نا قابل ِعمل اور بلا ضرورت قرار دے کر رد کر دیا گیا، تاہم نوے کی دھائی کے اوائل میں امریکہ کی دفاعی پالیسیوں میں جارحانہ پن دوبارہ لوٹ آیا، خاص طور پر کچھ واقعات ایسے پیش آئے ، جنہوںنے دنیا کوہلا کر رکھ دیا، چنانچہ امریکی کانگرس نے نومبر 1991ءمیںبی ایم ڈی سسٹم کو نصب کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ ریگن کے جانشین جارج ڈبلیو بش اور بل کلنٹن نے بی ڈی ایم سسٹم پر ہونے والی تحقیق پر نظر رکھتے ہوئے اس کی تنصیبات کی پالیسی پر بہت محتاط انداز میںعمل کیا۔

 کلنٹن انتظامیہ کے نیشنل میزائل ڈیفنس (این ڈی ایم) اور زمینی دفاعی نظام جو محدود پیمانے پر کچھ ”بدمعاش “ریاستوں کی طرف سے کئے گئے حملوںکے خلاف دفاع کر سکتا تھا، کا منصوبہ بھی بنایا گیا ۔ تاہم اس سسٹم کے لئے کئز جانے والے تجربات میں ناکامی کی وجہ سے بل کلنٹن نے این ایم ڈی کا منصوبہ موخر کر دیا۔

جارج ڈبلیو بش نے میزائل حملوںکے خلاف دفاع کو اپنے صدارتی دور کا اہم سنگ ِ میل بنایا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انہوںنے 2002ءمیںتیس سال پرانے اے بی ایم معاہدے کو بھی سبوتاژ کر دیا۔ امریکہ کے بہت سے اتحادی بھی اس یک طرفہ اقدام سے مایوس ہوئے ،کیونکہ مسٹر بش نے وعدہ کیا ہوا تھا کہ اس ضمن میںکوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے امریکہ ان کے ساتھ مشاورت کرے گا۔ اس جارحانہ پیش رفت پر امریکہ اور روس نے شدید خدشات کا اظہار کیا۔ اُس وقت کے یواین سیکریٹری جنرل نے بھی اسے تخفیف ِ اسلحہ سازی اور ایٹمی عدم پھیلاﺅ کے معاہدوںکے لئے ایک دھچکا قرار دیتے ہوئے اس پر تشویش ظاہر کی ۔ اس کے بعد سے آج تک بی ڈی ایم امریکہ اور روس کے تعلقات کے درمیان کشیدگی کی اہم وجہ رہا ہے۔

ماسکو نے وسطی یورپ میں بی ڈی ایم کی تنصیبات پر فوری رد ِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ بھی جوابی اقدام کرے گا۔ وہ اس نکتے پر مختلف اقوام پر مشتمل ایک اتحاد بنانے کی کوشش بھی کر رہا ہے تاکہ امریکی میزائل منصوبے کو عالمی امن و استحکام کے لئے ایک خطرے کے طور پر اجاگر کیا جا سکے۔ ماسکو کو سابقہ وارسا ممالک کے ساتھ ساتھ اپنے ہمسایہ ملک میں نیٹو افواج کی موجودگی پر بھی تشویش ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ نیٹو ممالک ، جس میں امریکہ کو فوقیت حاصل ہے ، وسطی یورپ میں قائم کئے جانے والے اس نظام کو توسیع دے کر انڈیا اور جاپان تک پھیلا دیںگے ۔ ایسا ہونے سے عالمی طاقت کا جھکاﺅ نہ صرف فیصلہ کن حد تک مغربی ممالک کی طرف چلا جائے گا ،بلکہ جنوبی ایشیا میں عالمی طاقتوںکے نئے اقدامات دیکھنے میں آئیںگے۔

ان معروضات کے تناظر میں یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اپنے قیام سے لے کر اب تک ”ایس سی او“ نے پہلی مرتبہ روسی نقطہ ¿ نظر کی حمایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ” کسی بھی ملک یا ممالک کے بلاک کی طرف سے یک طرفہ طور پر میزائل ڈیفنس سسٹم کے قیام سے عالمی برادری کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوجائیںگے ۔ اس کے علاوہ تنازعات کو پُرامن سیاسی اور سفارتی طور پر حل کرنے کے امکانات معدوم ہوجائیںگے۔ رکن ممالک یقین رکھتے ہیں کہ کسی ایک ملک کو اپنی سلامتی کی خاطر باقی ممالک کی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔“

”بی ایم ڈی“ تنصیبات سے جنوبی ایشیاکی ریاستوںپر براہ ِ راست تو کوئی اثر نہیں پڑتا ،تاہم اگر اس علاقے میں ہونے والی کسی کارروائی نے چین اور روس کو اکٹھا کردیا(جس کے امکانات بن رہے ہیں) تو ایسی صورت ِ حال پیدا ہوجائے گی، جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ چین کے کچھ ہمسایہ ممالک کو پہلے ہی ’‘ بی ایم ڈی“ کی چھتری تلے لینے کی بات ہو رہی ہے۔ ہمارے خطے کی صورت ِ حال بھارت امریکہ سٹرٹیجک تعاونعسکری اور ایٹمی کی وجہ سے پہلے ہی کشیدگی کی طرف مائل ہے ۔

”اے بی ایم“ اقدامات عالمی امن کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں،اس لئے ان سے احتراز کرنا چاہیے۔ اگر جنوبی ایشیاکے کچھ ممالک کو اے بی ایم کی چھتری میں شامل کیا جاتا ہے تو اس سے اس خطے میںجاری کشیدگی میں بھی اضافہ ہو گا اور اسلحے کی دوڑ ، جس کی جنوبی ایشیا کو ضرورت نہیںہے، بھی شروع ہو جائے گی۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ انڈیا کے میزائل پروگرام کا ہدف پاکستان ہے اور اگر اس کو اے بی ایم نظام میںکسی طور بھی شامل کیا جاتا ہے تو پاکستان کے خوف وخدشات میں اضافہ ہونا فطری بات ہے۔

فی الحال بھارت کے جارحانہ عزائم کے مقابلے میں پاکستان ضبط اور تحمل کی پالیسی پر گامزن ہے اور یہ اپنے روایتی اور غیرروایتی ہتھیاروں کو ذمہ داری کے ساتھ قومی سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کئے ہوئے ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ یہ میزائل دوڑ اور اے بی ایم جیسے منصوبوں کو اس خطے سے باہر رکھے ،کیونکہ ان کے دور رس نتائج بہت ہولناک ہیں، تاہم بھارت ایسے اقدامات کے خلاف ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے لئے ہتھیاروں کا حصول اس لئے ناگزیر ہے، کیونکہ اس کے عزائم خطے سے باہر ہیں ، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس کی عسکری قوت کا پہلا نشانہ پاکستان ہی ہے۔ امید ہے کہ نیٹو اس چالبازی سے اس خطے کے مسائل میں اضافہ نہیںکرے گی۔ دنیا کو مزید کسی ٹروجن ہارس کی ضرورت نہیںہے۔  ٭

مزید : کالم