ججوں کاپلاٹ لینا بھی این آر او ہے ،پارلیمنٹ کو عدلیہ جوابدہ نہیں: سپریم کورٹ

ججوں کاپلاٹ لینا بھی این آر او ہے ،پارلیمنٹ کو عدلیہ جوابدہ نہیں: سپریم کورٹ
 ججوں کاپلاٹ لینا بھی این آر او ہے ،پارلیمنٹ کو عدلیہ جوابدہ نہیں: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ عبدالحمید ڈوگر سمیت 14 ججوں نے دودو پلاٹ حاصل کیے ہیں اور پلاٹ حاصل کرنابھی این آر او ہے جبکہ سپریم کورٹ نے آڈٹ رپورٹ پیش کرنے سے انکار کردیاہے۔ندیم افضل چن کی زیرصدارت پبلک اکاﺅنٹس کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فوجی افسران کے پلاٹوں کی فہرست حاصل کرنے کے لیے دوباہ خط لکھا جائے گا۔ ججوں اور بیوروکریٹس کی جانب سے حاصل کردہ پلاٹس کی فہرست کمیٹی میں پیش کی گئی جس کے مطابق سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ عبدالحمیدسمیت 14 ججوں نے دو2 پلاٹ حاصل کیے ہیں۔کمیٹی کو بتایاگیا کہ جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے،جسٹس نواز عباسی، جسٹس شاکر اللہ جان،جسٹس ناصر الملک،جسٹس فقیر کھوکھر، جسٹس جمشید علی ، جسٹس فلک شیر ، جسٹس تصدق جیلانی ،جسٹس جاوید اقبال، غلام ربانی، زاہد حسین اورسابق سیکرٹری قانون منصور احمد و دیگر نے اسلام آباد میں دودو پلاٹ حاصل کیے ہیں۔ جرنیلوں کے پلاٹ کی تفصیل حاصل نہیں ہوسکی جس پر کمیٹی نے پلاٹوں کی تفصیل حاصل کرنے کے لیے دوبارہ خط لکھنے کا فیصلہ کیاہے۔کمیٹی کو بتایاگیاکہ ججوں کو پلاٹس مشرف دور میں وزیراعظم شوکت عزیر کے قواعدو ضوابط کے تحت دئیے گئے۔پی اے سی نے چوہدری نثار کے دور چیئرمین شپ میں سپریم کورٹ کی آڈٹ رپورٹ کے لیے خط لکھا تھا جس کا جواب رجسٹرار آفس کے ذریعے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو موصول ہوگیاہے۔عدالت عظمیٰ کے مطابق آئین کے میں اعلیٰ عدلیہ کے کسی اہلکار کو کمیٹی کا رکن بلانے کا اختیار نہیں رکھتا ۔سپریم کورٹ نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ کمیٹی کو باقاعدہ عدالتی حکم چاہیے تو صدر سے رابطہ کریں کیونکہ سپریم کورٹ کے مشاورتی دائرہ کار پر صدرمملکت ہی فیصلہ کرسکتے ہیں۔ آرٹیکل 58کے تحت عدالت کا کنڈکٹ مجلس شوریٰ میں زیربحث نہیں آسکتا۔کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ اس کی مزید تفصیلات کا جائزہ پانچ جولائی کوہونے والے جلاس میں لیں گے۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں /Breaking News