پاک بھارت تعلقات .... ! (2)

پاک بھارت تعلقات .... ! (2)
پاک بھارت تعلقات .... ! (2)

  



سمجھوتہ ایکسپریس اور مالی گاﺅں کے واقعات پر بھارت کے ایک بڑے تفتیشی آفیسر ہیمنت کرکرے نے یہ رپورٹ دی کہ” ان واقعات کے پیچھے نہ آئی ایس آئی تھی اور نہ سیمی بلکہ بھارت کے انتہا پسند ہندوﺅں کا ایک گروہ ان واقعات کا ذمہ دار ہے جن میں حاضر سروس کرنل پروہت ، میجر کلکرنی وغیرہ شامل تھے ۔“ چونکہ ہیمنت کرکرے ایک دیانتدار اور فرض شناس افسر کے طور پر معروف تھے اس لیے ان کی رپورٹ کو تسلیم کیا گیا۔ اس طرح سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحہ میں شہید ہونے والے پاکستانیوں کے قاتل بے نقاب ہو ئے لیکن ہوا کیا؟ نہ کیس چلا نہ گرفتاریاں ہوئیں نہ مجرموں کو کٹہرے تک لایا گیا، بلکہ ممبئی واقعات کے موقع پر کرکرے کو گھر سے بلایا گیا اور گولی کا نشانہ بنادیا گیا ۔گویا کہ معصوم پاکستانیوں کا لہو ،

 یہ خون خاک نشیناںتھا رزق خا ک ہوا

اب رہ گئے ممبئی واقعات اور پارلیمنٹ پر حملہ اس سلسلہ میں خود بھارت کے اندر کی گواہی کیا ہے

۱۔انڈین وزارت داخلہ کے ایک انڈر سیکرٹری مسٹر آروی ایس مانی نے 14جولائی 2013 ءکو بھارتی سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی داخل کیاجس میں اس نے اپنے ایک سینئر افسر مسٹر ستیش ورما کے حوالے سے گواہی دی کہ بھارتی پارلیمنٹ پر 13دسمبر 2008ءکا حملہ بھارت سرکار نے خود کیا تھا اور اس کا مقصد انسانی حقوق کے منافی پوٹا کے قوانین کی منظوری تھی ۔ اسی طرح 26 نومبر 2008 ءکے ممبئی واقعات کے پیچھے بھی خود بھارت سرکار تھی اور مقصد UAPA قوانین کی منظوری تھی ۔

۲۔ممبئی واقعات میں بھارتی فرض شناس آفیسر ہیمنت کرکرے کو گھر سے بلا کر موت کے گھاٹ اتار دینے سے بھی واضح ہے کہ ممبئی واقعات کے پیچھے وہی انتہاپسند متعصب ہندو گروہ تھا کہ جس نے سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ کیا اور جو ہیمنت کرکرے کو راستے سے ہٹاناچاہتا تھا۔

ممبئی واقعات میں پاکستان کو ملوث کرنے کا واحد ذریعہ اجمل قصاب تھا جسے بھارت میں پھانسی چڑھا دیا گیا ۔ بھارتی پراسیکیوشن اس کے پاکستان سے تعلق کے ثبوت و شواہددینے میں ناکام رہا ۔ استغاثہ کی کہانی اتنی کھوکھلی اور بے بنیاد تھی کہ سزائے موت سنانے والی عدالت کو یہ جملہ لکھنا پڑا کہ اگرچہ ناکافی شہادتیں ہیں لیکن ہم بھارت کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے سزا ئے موت سنا رہی ہیں ۔ اجمل قصاب کے اعترافی بیان کو بنیاد بنایا گیا حالانکہ پولیس کے سامنے اعترافی بیان کی حیثیت زیرو سے زیادہ نہیں ہوتی ۔ اجمل قصاب نے عدالت کے سامنے اپنے اس بیان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔ اس نے بیان دیا کہ ”میں ممبئی کی فلمی دنیا میں قسمت آزمائی کے لیے آیا تھا ۔ ممبئی واقعہ سے 22 دن قبل میری گرفتاری ہوئی ۔ تاج محل ہوٹل میں جو دہشتگرد نظر آیا ہے وہ میں نہیں ہوں اور میری اور اس کی شکل بھی نہیں ملتی ۔“

استغاثہ نے 600گواہوں کی فہرست دی لیکن ان کو محض چند دنوں میں بھگتا دیا گیا نہ گواہیاں درست طریقے سے ریکارڈ ہوئیں نہ گواہوں پر جرح ہوئی ۔ اتنابڑا واقعہ مقامی سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں ۔ استغاثہ نے اس خلاف کو پر کرنے کے لئے دو مقامی مسلمانوں فہیم انصاری اور صباح الدین کے نام شامل کئے لیکن کوئی رابطہ ثابت نہ کر سکے اس لیے عدالت نے دونوں کو رہا کر دیا ۔

میں نے اجمل قصاب کے اعترافی بیان کی کاپی حاصل کی تو ہر صفحہ یہ بتا رہاتھاکہ یہ پاکستانی نہیں کوئی بھارتی نوجوان ہے۔ مثلا

1۔وہ آزاد کشمیر کو پاکستانی مقبوضہ کشمیر لکھتا ہے حالانکہ پاکستان میں ایک ان پڑھ دیہاتی بھی آزاد کشمیر کہتاہے ۔

پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی اصطلاح بھارت میں استعمال کی جاتی ہے

2۔وہ لاہور کے تذکرہ میں داتا دربار کو درگاہ علی ہجویری کہتاہے یہاں سب داتا دربار یا داتا صاحب کہتے ہیں ۔ درگاہ کا لفظ بھارت میں مستعمل ہے ۔

3۔خود قصاب کو نام کا حصہ بنانے کا سلسلہ پاکستان میں نہیں چلتا یہاں قصائی یا قریشی کا لاحقہ استعمال ہوتاہے ۔

4۔و ہ ودیشی سیلانی کا لفظ استعمال کرتاہے ، پاکستانی اس کے لیے غیر ملکی سیاح کہتے اور لکھتے ہیں ۔

5۔وہ رمضان عید کہتاہے یہاں اسے عید الفطر کہتے ہیں ۔

6۔اس کے بیان میں بکثرت ہندی الفاظ ہیں ۔

٭۔انڈین پراسیکیوشن نے حملہ آوروں کے پاکستان سے موبائل فون رابطے کا دعوی کیا لیکن کوئی بھی ٹیکنیکل سپورٹ فراہم نہ کر سکے جس” سم “کے ذریعے رابطے کا کہا گیا وہ بھارت کے کسی کھڑک سنگھ کے نام سے جاری ہوئی ہے ۔

٭۔ایک ای میل کے ذریعے رابطہ کا دعویٰ کیا گیا لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ اس ای میل کا ماخذ ماسکو روس تھا۔

اسی لیے ہماری حکومتوں کے مطالبے کے باوجود کوئی ثبوت و شواہد فراہم نہیں کیے گئے ۔گواہوں پر جرح کے مواقع نہیں دیے گئے ۔ ایک انڈین مسلمان ایڈووکیٹ از خود اجمل قصاب کے وکیل صفائی کے طور پر ایک دو پیشیوں پر پیش ہوئے لیکن انہیں قتل کر دیا گیا۔

ممبئی واقعات پر بھارت کو دلائل و براہین پر مبنی ٹھوس جواب دینے کی ضرورت ہے اور خواہ مخواہ نیم دفاعی طرز عمل اختیار نہ کیا جائے ۔

پاکستان میں بھارتی مداخلت کے جواب میں اگر پاکستان نے بھی مداخلت کی ہی پالیسی اپنا نی ہو تو اس کے بڑے مواقع موجود ہیں ، مثلاً بھارت کے 608 اضلاع میں سے 250 میں علیحدگی کی تحریکوں کی وجہ سے فوجی کاروائی ہورہی ہے ۔ 150 اضلاع میں متوازی حکومتیں قائم ہیں لیکن پاکستان نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا جبکہ بھارت نے آج کے دور کی سب سے بڑی مداخلت کر کے پاکستا ن کو دوٹکڑے کردیا ۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے اور پاکستانی فوج سے راہ فرار اختیار کر کے مکتی باہنی کے بڑے کمانڈر بننے والے کرنل شریف الحق دیلم نے اپنی کتاب میں واضح اعتراف کیا ہے کہ یہ سب کچھ بھارتی کھیل تھا اور مکتی باہنی بھارتی جرنیل اوبان سنگھ نے بنائی اور چلائی تھی اس میں ہندو فوجی شامل تھے اور انہوں نے غیر بنگالیوں کا قتل عام اور ان کی عورتوں کی عصمت دری کی تھی ۔

اس وقت کے بھارتی آرمی چیف جنرل مانک شا نے بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی کے حوالہ سے مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے کی بہت پہلے سے تیار شدہ سازش کا انکشاف کیاہے ۔ مغربی بنگال کی ایک پروفیسر شرمیلا بوس نے اپنی غیر جانبدارانہ تحقیق سے واضح کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے مظالم محض جھوٹا پراپیگنڈا تھا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار اصلاً غیر بنگالی پاکستانیوں کو بنایا گیا تھا ۔

1971 ءمیں بھارت کی پانچ لاکھ آرمی نے انٹر نیشنل بارڈر عبور کر کے پاکستان پر براہ راست حملہ کیا تھا اور اس سے بڑی مداخلت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔

بھارت میں اقلیتوں پر مظالم 32ہزار مسلم کش فسادات ، سانحہ گجرات ، بابری مسجد کی شہادت ، اقلیتوں کے حقوق پر سچل رپورٹ وغیرہ کتنے ہی موضوعات پر پاکستان آواز اٹھا سکتا تھا لیکن ہماری محتاط حکومتو ں نے کبھی ان حالات سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔

پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں بھارتی مداخلت کے بے شمار ثبوت و شواہد موجود ہیں ۔ دہشتگردوں سے بھارتی اسلحہ برآمد ہوا ۔ افغانستان میں موجود بھارت کے ٹریننگ کیمپوں سے تربیت کے شواہد ملے ۔ دہشتگردوں کے ٹارگٹ ہی واضح کرتے ہیں کہ پیچھے کون ہے ۔ مثلاً چینی انجینئرز کا اغوا ۔ سری لنکن ٹیم پر حملہ ۔ جی ایچ کیو پر قبضہ کی کوشش ۔ نیول اور ایئر بیسز پر حملے ۔ اورین طیاروں کی تباہی وغیرہ اس سب سے بڑھ کر خود بھارتی سینئر افسروں کے اعترافات مثلا سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے اپنی کتاب میں بلوچستان میں مداخلت کااز خود اعتراف کیاہے ۔ بھارتی خفیہ ادارے کے سابقہ ڈپٹی چیف ایم کے دھرنے اپنی کتاب ”مشن ٹو پاکستان“ میں پاکستان خصوصاً کراچی میں فرقہ وارانہ مذہبی کشیدگی کو ڈیزائن کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دہلی کے قریب ایک فارم ہاﺅس میں ہم ہندوﺅں کو مولوی بناتے تھے چنانچہ ہم نے شیام پروہت کو مولوی رضوان کا نام دیا ۔گو تم رے کو مولانا مہم خان کی شناخت دی اور شیعہ و سنی تصادم کے راستے ہموار کرنے کے لیے دونوں طرف ہمارے ہی لوگ حملے کرتے تھے ۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکومت پاکستان سے تعلقات کی بہتری کا جب نیک نیتی سے فیصلہ کرے گی تو حالات فی الواقع ٹھیک ہو جائیں گے ۔ بھارت کے 83کروڑ انسان نصف ڈالر سے کم روزانہ کماتے ہیں جبکہ بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کررہاہے ۔ گزشتہ پانچ سالوں میں اس نے اپنے دفاعی بجٹ میں 70 فیصد اضافہ کیاہے ۔ پیرا ملٹری

فورسز سمیت بھارتی افواج کی تعداد 49 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ اگر بھارتی حکومت اپنے عوام سے فی الواقع مخلص ہے تو اسے چاہیے کہ کشمیر ، دریائی پانیوں ، سرکریک سیاچن اور دہشتگردی کے موضوعات پر فوری طور پر بامقصد اور جامع مذاکرات کرے اور مسائل کو سردخانے میں ڈالنے کی بجائے انہیں حل کرنے کی کوشش کرے کہ قیام امن کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی فارمولا ہو ہی نہیں سکتا۔(ختم شد)   ٭

مزید : کالم