بات پکڑی گئی....!

بات پکڑی گئی....!
بات پکڑی گئی....!
کیپشن: imran khan

  

عمران خان نے ایک جلسہ ¿ عام میں حکومت کو چار نکاتی ایجنڈا پیش کیا اور ساتھ ہی وارننگ بھی دے دی کہ حکومت نے اس پر ایک ماہ میں عمل نہ کیا تو تحریک انصاف کا لانگ مارچ اسلام آباد کا رُخ کرے گا، جہاں 10لاکھ افراد احتجاج کے لئے موجود ہوں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ جس پولیس والے نے بھی انہیں روکا یا اُن پر گولی چلائی تو وہ خود اسے اپنے ہاتھوں سے پھانسی دیں گے۔ اُن کے بیان کے اس حصّے پر بہت سے لوگوں کو اعتراض ہے کہ ایک قومی لیڈر کو اس قسم کا بیان نہیں دینا چاہئے تھا، کیونکہ پھانسی دینے یا نہ دینے کا اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے۔مروجہ قوانین کا اپنا ایک طریقہ¿ کار ہے، کسی بھی جرم پر اُس طریقہ کار کے مطابق ہی عمل ہوتا ہے کہ کسی ایسے شخض کو جو قابل ِ دست اندازی پولیس جرم کا مرتکب ہو، کیسے سزا کے عمل تک لایا جا سکتا ہے اور اُسے کیسے سزا دی جا سکتی ہے؟ یہ اختیار عمران خان کے پاس کب سے اور کیسے آ گیا کہ وہ خود کسی کے لئے سزا تجویز کریں اور اس کا اعلان بھی کر دیں۔

بادی النظر میں اُن کا یہ ”اعلان“ انارکی پھیلانے کی ایک کوشش ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بیان کسی قومی لیڈر کی شان اور آن بان کے خلاف ہے۔ عمران خان جیسے لیڈر کو ایسا بیان ہرگز نہیں دینا چاہئے تھا، کیونکہ اس سے انارکی پھیل سکتی ہے اور اُن کے کارکنان اشتعال میں آ سکتے ہیں۔ جلسے کرنا، لانگ مارچ کرنا یا کوئی بیان دینا اُن کا جمہوری حق ہے۔ اس حق سے انہیں محروم نہیں کیا جا سکتا ،لیکن یہ حق بھی نہیں دیا جا سکتا کہ اُن کے دل میں جو آئے، وہ کہہ دیں یا بیان دے دیں۔ ہر بیان کے اپنے مضمرات ہوتے ہیں، جو اچھے بھی ہو سکتے ہیں اور بُرے بھی ....جبکہ بُرے مضمرات کو جنم دینا کسی قومی لیڈر کی پہچان نہیں ہونا چاہئے۔ عمران خان کے پھانسی والے بیان کو سنجیدہ طبقے نے بڑی سنجیدگی سے لیا ہے۔ پاکستان جسٹس پارٹی نے تو اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ عمران خان نے جس قسم کا بیان دیا ہے ،اس پر اُن کے خلاف زیر دفعہ 324،یعنی اقدام قتل کا مقدمہ ہو گیا تو پھر ہر ضلع اور تحصیل میں اُن کے خلاف سینکڑوں مقدمات درج ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ زیر دفعہ 324عمران خان کے خلاف ایک بھی مقدمہ درج ہو گیا، تو پھر اس کام کو روکنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا، اس لئے عمران خان کو اپنے اس بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ وہ بیان تو دے چکے، اب اس کی تلافی کیسے ممکن ہے؟

عمران خان ایک سنجیدہ اور بردبار سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں، وہ اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں۔ بڑے پڑھے لکھے اور جہاندیدہ شخص ہیں، اس لئے اُن سے ایسے بیان کی ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی تھی، جوبیان وہ دے چکے ہیں۔ جو، اب متنازعہ شکل اختیار کر رہا ہے، جس کے بہت بُرے نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں، اس لئے ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ سیاست دانوں کوکوئی بھی بات سوچے سمجھے بغیر نہیں کرنی چاہئے۔ اُن کے ایک ایک لفظ پر نہ صرف دھیان دیا جاتا ہے، بلکہ پوری قوم سُن رہی ہوتی ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ سیاست دان کے مُنہ سے نکلی ہوئی ہر بات، یا ہر لفظ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے، اس لئے کیا ضروری نہیں کہ ہمارے قومی لیڈر یا رہنما جوشِ جذبات میں کوئی ایسی بات نہ کہیں، جس کو کہہ کر انہیں بعد میں پچھتانا پڑے کہ کیا کہہ گئے اور کیا بھول ہو گئی ؟

کہا جاتا ہے کہ کہی ہوئی ہر بات پکڑی جاتی ہے۔ اگرکوئی بات بڑا لیڈر کہہ دے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اُس کی کسی غلط یا متنازعہ بات پر اُس کی جان چھوٹ جائے، اس لئے اب عمران خان کی بھی جان چھوٹنے والی نہیں۔ وہ اتنی بڑی بات کہہ گئے، کیوں کہہ گئے؟ اس کی وضاحت تو وہ خود کر سکتے ہیں، لیکن بات بڑی ہے، اس لئے اس پر بحث کے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔ پاکستان جسٹس پارٹی، تو اُن پر مقدمے کی بات کر رہی ہے، شاید کچھ اور لوگ یا وکلاءکے کچھ فورم اس پر کوئی عملی قدم اٹھائیں۔ ایسا ہوا تو پھر بات دور تک جائے گی۔ اس لئے عمران خان کو ابھی سے یہ کہہ دینا چاہئے کہ اُن سے بڑی بھول ہوئی، وہ اپنے الفاظ واپس لیتے ہیں اور آئندہ ایسا کچھ کہنے سے پرہیز ہی نہیں، مکمل احتیاط بھی کریں گے۔

کسی بھی لیڈر کے لئے یہ بڑا ضروری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر کوئی بات کرے اور یہ بڑے لیڈر کی پہچان ہے کہ وہ کوئی ایسی بات نہیں کرتا جو متنازعہ حیثیت کی حامل ہو یا آئینی طور پر کسی قدغن کا باعث بنے۔ عمران خان کے کہے الفاظ اب واپس تو نہیں ہو سکتے، جو انہوں نے کہا تھا، وہ کہہ گئے، لیکن اس پرمٹی بھی نہیں ڈالی جا سکتی۔ ”چھڈو مٹی پاﺅ“ کا زمانہ گزر گیا۔ اب کیمرہ معاف نہیں کرتا۔ آپ کی آڈیو، ویڈیو خود آپ کے ہر فعل کی گواہ بن جاتی ہے۔ آپ اپنی کہی اس بات کا کہ ”اُن پولیس والوں کو خود اپنے ہاتھوں سے پھانسی دوں گا“ ایک الگ مفہوم ہے۔ آپ اپنی سیاست اور مقام کو بالائے طاق رکھ کر اگر فیصلہ کر لیں کہ آپ کے مُنہ سے ایک غلط بات نکل گئی اور آپ اس کا اعتراف بھی کر لیں اور قوم سے معافی بھی مانگ لیں تو یہ آپ کا بڑاپن ہو گا۔ آپ کو لوگ اچھے الفاظ سے یاد کریں گے اور ہمیشہ یاد رکھیں گے۔      ٭

مزید :

کالم -