عمران خان :یوم آزادی پر ہی رحم کرلیں

عمران خان :یوم آزادی پر ہی رحم کرلیں
عمران خان :یوم آزادی پر ہی رحم کرلیں
کیپشن: imran khan

  

عمران خان جس طرح ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں ،ان سے کچھ کہنا سننا تو بے کار ہے۔ ان کی سیماب صفت طبیعت کسی ایک جگہ ٹھہرتی ہی نہیں۔ وہ اپنے محسنوں کو اپنا دشمن بنانے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ وہ ہروقت، بلکہ وقت بے وقت سونامی اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ الیکشن کے سلسلے میں ان کے واویلے میں سب کچھ ہے ،لیکن کوئی ادنیٰ سا ثبوت بھی نہیں ہے، حتیٰ کہ ”پینتیس پنکچروں “ کو ثابت کرنے کے لئے ان کے پاس جو ریکارڈنگ ہے، وہ بھی سامنے نہیں آرہی ہے۔ الیکشن پیپلزپارٹی نے کرائے، نگران حکومتیں پیپلزپارٹی کی حکومت کی مرضی کی آئیں۔ مسلم لیگ (ن) نے بادل نخواستہ انہیں قبول کیا ، عمران نے ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ پینتیس پنکچروں والے سے انہوں نے ملاقاتیں کیں اور پنجاب کی بیورو کریسی میں تبادلے کروائے۔ انہوں نے جو ڈیشری کے ذریعے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے 12مئی کو انتخابات قبول کرلئے ،اب ایک سال گزرنے پر وہی مسلم لیگ (ن) کو دھاندلی کا سبب قرار دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اخبارات ،میڈیا اور سپریم کورٹ بھی ان کے خلاف دھاندلی میں ملوث ہوگئے تھے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو عمران خان کو سوچنا چاہئے کہ یہ نیک نام ادارے ،جن کی نیک نامی کے خود عمران خان بھی معترف ہیں، آخر کیوں عمران خان کے خلاف دھاندلی کی سازش میں شریک ہوگئے؟

 وہ بہت سے سوالات کرنے کے شوقین ہیں، ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ان نیک نامی کمانے والے اداروں نے عمران خان کے خلاف دھاندلی کرکے کیا کمایا ؟ جس اخبار پر عمران خان نے غداری کا الزام بھی لگادیا ،وہ چیلنج کررہا ہے کہ ثبوت سامنے لائیں، لیکن عمران خان اکثر ثبوت سامنے لانے کا کہہ کر بھول جاتے ہیں۔ اب وہ جس طرح کے مطالبے کررہے ہیں، یہ صریحاً الیکشن کمیشن میں حکومتی مداخلت کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہیں۔ پاکستان کے عوام اور اہل فکرونظر تو الیکشن کمیشن کو مزید بااختیار اور مزید طاقت ور بنانا چاہتے ہیں ، اس کے لئے بھارت کے الیکشن کمیشن کی مثال دی جاتی ہے، لیکن عمران خان چاہتے ہیں کہ حکومت الیکشن کمیشن سے ان کے مفروضہ وموہومہ چار حلقوں کی دوبارہ جانچ کرائے۔ وہ خود ثبوت لے کر عدالت میں کیوں نہیں جاتے، الیکشن ٹربیونلز میں جانے سے کیوں گریزاں ہیں؟

وہ انا کے اتنے اونچے بانس پر چڑھے ہوئے ہیں کہ وزیراعظم نبے انہیں آئی ڈی پیز سے یکجہتی کے اظہار کے لئے اپنے ہمراہ بنوں جانے کی دعوت دی تو انہوں بہاولپور کے جلسے کی خاطر یہ دعوت مسترد کردی،جبکہ جلسہ ¿ عام میں فرمایا کہ وزیراعظم کو ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کا شوق ہے، حالانکہ وہ بنوں جاکر شام تک اپنے جلسہ¿ عام تک پہنچ جاتے اور جلسہ گاہ بھرنے کے انتظار میں جلسہ گاہ میں پہنچنے کے لئے وہ جوتاخیر کرتے ہیں۔ اس کا بھی ایک معقول جواز بن جاتا ۔ اگر وہ وزیراعظم پاکستان کو یہ اعزاز بخش دیتے کہ وہ ان کے ساتھ تصویر کھنچوالیتے تو اس سے آئی ڈی پیز کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی، مسلح افواج کے برسرکار جوانوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ، دہشت گردوں کو ایک سخت پیغام جاتا اور دنیا کو ایک اچھا پیغام ملتا، لیکن ان کی انا وزیراعظم کو ان کے ساتھ تصویر بھی کھنچوا کر وزیراعظم کا قد بڑھ جانے کے وہمے کی شکل اختیار کر گئی۔ اگر وہ خود کو وزیراعظم سے اس قدر بڑا اور عظیم سمجھتے ہیں تو پھر ”رولا“ کس بات کا ہے، موج کریں ،اپنی عظمت کے مزے لیں اور اپنے خوابوں میں مست رہیں۔

میرا مسئلہ ایک اور ہے۔ ایک عرصے تک ہم پورے جوش وخروش اور تقدس واحترام سے یوم آزادی مناتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ اس میں عوامی دل چسپی کم ہوتی گئی۔ ضیاءالحق کے دور میں اس دلچسپی کو ایک بار پھر ابھارا گیا۔ اس وقت قوم کا بچہ بچہ یوم آزادی کی تقریبات میں جوش وجذبے سے شریک ہوتا ہے۔ بچوں کا جوش وخروش دیکھ کر مجھے تو بے حد اچھا لگتا ہے۔ آنے والے یوم آزادی کی اس لئے بھی اہمیت ہے کہ یہ ایک ایسے آپریشن کے بعد آرہا ہے ،جس میں ہمیں اپنے ملک کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لئے قربانیاں دینے والوںکو بھی یاد کرنا چاہئے اور گھروں سے اجڑ کر آنے والوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی دل جوئی کی بھی بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔ اس آپریشن کی ضرورت یا عدم ضرورت ایک مسئلہ ہوسکتا ہے، لیکن جب مریض آپریشن ٹیبل پر لیٹاہو،اس کا پیٹ چاک ہو تو اس وقت اس کے آپریشن کی ضرورت اور عدم ضرورت پر بحث نہیں ہوسکتی ،اس مریض کی جان بچانے کو اولیت حاصل ہوتی ہے۔

عمران خان نے اپنے سونامی مارچ کے لئے 14اگست کی تاریخ دے کر اس یوم آزادی کو پراگندہ کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کی ہے۔ یوم آزادی ہمیں قومی یکجہتی ،اتفاق اور اتحاد کی دعوت دیتا ہے۔ یوم آزادی احتجاجی ہنگامہ آرائی کے لئے ہرگز مناسب نہیں ہے۔ یوم آزادی کے موقع پر ہمیں یوں بھی آپریشن ”ضربِ عضب“ کے نتائج کے طورپر دہشت گردی کے خدشات لاحق ہوں گے، عمران خان کے سونامی میں اگر کوئی دہشت گردی کا بگولہ گھس گیا تو تصور کیجئے اس کا کیا نتیجہ نکلے گااور سیکیورٹی کی کیسی مشکل کھڑی ہوجائے گی؟

عمران خان کے مشیروں کے بارے میں مجھے ہمیشہ سے یہ خدشہ لاحق رہا ہے کہ وہ یا تو حددرجے کے گاﺅدی ہیں یا پھر انہیں عمران خان سے کوئی خاص پرخاش ہے۔ یوم آزادی کے موقعہ پر سونامی کا مشورہ دینے والے ان کے ایسے دوست نما دشمن ہی ہوسکتے ہیں۔ سیکیورٹی کے پیش نظر سونامی پر حکومت کو سیکیورٹی فورسز لگانا پڑیں گی، حالانکہ اس روز ملک بھر میں سیکیورٹی کی شدید ضرورت ہوگی اور پھر مصیبت ایک اور بھی ہے، اگر کسی پولیس والے نے عمران خان کے سونامی کے کسی شخص کو ہاتھ لگادیا تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے پھانسی دینے کا عزم بھی ظاہر کرچکے ہیں۔ کیا وہ پھانسی دینے کا مبارک کام بھی عین یوم آزادی کے دن ہی انجام دیں گے یا اس کے لئے کچھ عرصہ انتظار کرلیں گے ؟

عمران خان کے اردگرد جو لوگ ہیں ،مجھے ان سے کوئی توقع نہیں۔ شیخ رشید انہیں اپنی مطلب براری کے لئے استعمال کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور عمران کی انا جو وزیراعظم کو لفٹ نہیں کراتی ،فرزند لال حویلی کی قیادت میں پھول پھل رہی ہے، لیکن تحریک انصاف میں جسٹس (ر) وجیہہ الدین ، جاوید ہاشمی، شاہ محمود قریشی جیسے لوگ بھی تو ہیں جنہوں نے اب تک عمران خان کو اکثر غلط فیصلوں سے بازرکھا ہے۔ کیا یہ لوگ بھی عمران خان کو یوم آزادی کے تقدس پرقائل نہیں کرسکتے، اگر یہی بات ہے تو پھر سمجھ لیجئے تحریک انصاف کی بریکیں فیل ہوچکی ہیں اور اب یہ گاڑی کسی وقت بھی کسی سنگین حادثے کا شکار ہوسکتی ہے، دعا کریں یہ پوری قوم کو کسی حادثے کا شکار نہ کردے۔ ٭

مزید :

کالم -