یوکرئنی فوج کی روس نواز باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری

یوکرئنی فوج کی روس نواز باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری

  

                                                        کیف (آن لائن )یوکرائنی فورسز نے ملک کے مشرقی علاقوں میں روس نواز باغیوں کے مضبوط ٹھکانوں کو لڑاکا طیاروں اور بھاری توپ خانے کی مدد سے نشانہ بنایا۔ اس سے قبل صدر پوروشینکو نے فائربندی میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بق یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو نے فائربندی میں توسیع نہ کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اب یوکرائنی فوج باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گی اور ان ’طفیلیوں‘ کا خاتمہ کیا جائے گا۔اس بیان پر روسی صدر ولادیمر پوٹن نے اپنے فوری ردعمل میں کہا تھا کہ پوروشینکو نے روس، جرمنی اور فرانسیسی قیادت کے مشورے کے برخلاف اقدام اٹھاتے ہوئے فائربندی ختم کی اور اب امن سے دوری کی تمام تر ذمہ داری ان ہی پر عائد ہو گی۔روسی صدر نے ایک مرتبہ پھر کیف حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے دھمکی دی کہ روس یوکرائن میں روسی زبان بولنے والوں کے مفادات کے تحفظ یقینی بنائے گا۔ واضح رہے کہ یوکرائن کے مشرق میں روسی زبان بولنے والے شہریوں کی تعداد تین ملین کے قریب ہے اور ان علاقوں میں روس نواز باغیوں نے رواں برس اپریل سے متعدد علاقوں پر کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق پوروشینکو کے سکیورٹی مشیروں کا کہنا ہے کہ باغیوں نے فائربندی معاہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تنظیم نو کی اور ہتھیار جمع کیے۔ واضح رہے کہ پورشینکو نے باغیوں کے خلاف فائر بندی کا اعلان 20 جون کو کیا تھا اور اس میں 27 جون کو تین روز کی توسیع کی تھی، جو پیر کے روز ختم ہو گئی۔یوکرائنی وزارت خارجہ کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق اس یک طرفہ حکومتی فائربندی کے دوران باغیوں نے 27 فوجیوں کو ہلاک جب کہ 69 کو زخمی کیا۔صدر پوروشینکو نے کہا ہے کہ اب ملکی فوج ”دہشت گردوں، عسکریت پسندوں اور قاتلوں“ کا بھرپور جواب دے گی۔

 انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ باغیوں نے ان کے امن منصوبے پر عمل نہیں کیا اور امن کا موقع ضائع کیا۔امریکا نے فائربندی کے خاتمے پر کہا ہے کہ علیحدگی پسندوں نے فائربندی کی پابندی نہیں کی اور پوروشینکو کو ”ملکی دفاع کا حق“ حاصل ہے۔ پوروشینکو کے خطاب کے بعد ملکی فوج نے باغیوں کے ٹھکانوں اور چیک پوائنٹس کو لڑاکا طیاروں اور بھاری توپ خانے سے نشانہ بنانے کا کام شروع کر دیا۔ بعد میں اپنے فیس بک پیج پر 48 سالہ پوروشینکو نے مستقبل کی مشکلات سے خبردار کرتے ہوئے کہا، ”ہمیں متحد ہونا ہے تاکہ ہم اپنے ملکوں کو گندگی اور طفیلیوں سے نجات دلا سکیں۔“

مزید :

عالمی منظر -