جمہوریت کی بجلی

جمہوریت کی بجلی
جمہوریت کی بجلی
کیپشن: pic

  

انسان جب سے اس روئے زمین پر آباد ہوا ہے۔ زمینی اور آسمانی آفات نے کبھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ زندگی کے ابتدائی ادوار میں جب اس کا مسکن پہاڑی غار اور خوراک جنگلی حیات ہوا کرتی تھی، مسائل اور مصائب کا تعلق مخلوق سے جڑا ہوا نہ تھا۔ اس وقت آفتیں آسمان سے اُترتی تھیں، جن سے محفوظ رہنے کے لئے سوائے دُعاﺅں، چڑھاووں اور قربانیوں کے کوئی ڈھال میسر نہ تھی۔ جیسے جیسے انسان پتھر کے زمانے سے نکل کر ریت (سِلی کون) کے زمانے تک پہنچنے کی جستجو میں لگا رہا، آسمانی مصیبتوں کے ساتھ ساتھ انسانی مصیبتوں نے بھی اسے آن دبوچا۔ تاریخ گواہ ہے کہ سوائے طوفانِ نوح کے اس زمین پر اترنے والے ہر عذاب سے بڑھ کر تباہی اور بربادی کا ذمہ دار آسمان نہیں، بلکہ خود انسان ہے، پچھلی ایک صدی کے دوران ترقی کے نام پر تعمیر کئے جانے والے ”کنکریٹ محل“ اور ”مشینی مخلوقات“ نے جہاں زندگی میں آرام و آسائش کو جگہ دی ہے وہیں ایک مستقل محتاج اور بے چینی کو بھی اپنے سر پر سوار کر لیا۔

وطن عزیز میں جاری بجلی کا بحران بقول معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر عیس اسلم ترقی کا پیدا کردہ ہے نہ پسماندگی کا، راقم کو وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔1998ءمیں لاہور کے ایک مہنگے ہوٹل میں اس وقت کے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جناب احسن اقبال نے ویژن 2010ءپر ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ وزیر با تدبیر کے پیش کردہ ویژن2010ءکے مندرجات اور تفصیلات میں جائے بغیر راقم جیسا سادہ فہم بھی اس بات کا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ آنے والے دس پندرہ سالوں کی ترقی کے منصوبوں میں بجلی کی پیداوار کی ترقی بھی ضرور شامل رہی ہو گی۔ یہاں ایک سوال راقم کواندر سے ”چونڈیاں“ کاٹ کاٹ کر مجبور کر رہا ہے کہ ساری قوم کے ذمہ دار منصوبہ کاروں ، عہدیداروں، زرداروں اور اداروں سے یہ پوچھا جائے کہ سیاسی پارٹیوں، حکومتوں اور پالیسیوں کا مرکز و محور ان کے اپنے خانوادے اور اولادیں ہیں یا کہ پاکستان میں بسنے والے بے بس اور محکوم غریب عوام؟

سال1992ءمیں اس وقت کی حکمران پیپلزپارٹی نے (بالکل اسی طرح جیسے نواز حکومت چین کے ساتھ بجلی اور توانائی کے بڑے منصوبوں کے معاہدے کر رہی ہے) امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں تیل سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور ایسی شرائط پر معاہدے کئے جس کی دوسری مثال شاید رہتی دنیا تک نہ مل سکے۔ راقم کو اچھی طرح یاد ہے، جب حکمران پارٹی ہی کے اہم رہنما مبشر حسن نے پکار پکار کر خبردار کیا تھا کہ یہ معاہدے ہمیں برباد کر کے رکھ دیں گے اور ان کی قیمت پوری قوم کو دینا پڑے گی۔ کاش اس وقت الیکٹرانک میڈیا یا ٹاک شوز کا زمانہ ہوتا اور ڈاکٹر مبشر حسن جیسے دور اندیش اور صاحب بصیرت لیڈر آنکھوں کو اندھا کرنے والی روشنی کی کرنوں سے بچا لیتے۔ قوم نے دیکھا کہ ’ حبکو‘ جیسے منصوبے نے پاکستان کو توانائی کتنی دی اور خون کتنا نچوڑا۔ حد تو یہ تھی کہ معاہدے کرنے والوں نے اس کی شرائط ایسی رکھی تھیں کہ ملک اور عوام ایک قطرے کے بدلے ایک دریا لکھ کر دے دیں۔ پھر جب آنے والی حکومت نے ان شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا تھا تو عالمی عدالت میں مقدمے بازی شروع کر دی گئی اور سٹیٹ کو فریق بنا کر قانونی ہتھیاروں سے سب کچھ ہتھیا لیا گیا۔ اس سرمایہ کاری کا نفع اور پھل کسی کو کتنا ملا اس کا حساب تاریخ نے کر دیا، لیکن عوام کو 16،16 گھنٹے لوڈشیڈنگ ملی۔

اگر آپ اجازت دیں تو راقم ایک سب سے زیادہ بولے، سنے اور سمجھے جانے والے لفظ کو ”احسانی رنگ“ میں رنگ لے۔ جدید دنیا میں سب سے مقبول طرز حکومت جمہوریت ہے اور یہی وہ لفظ ہے جو صبح و شام حکومت اور بے حکومت ایوانوں کی دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر گونجتا ہے، کیوں نہ گونجے کہ اس کے نام و ناموس پر دنیا بھر میں بیسیوں لیڈر اور ہزاروں عوام قربان ہوتے رہے ہیں۔ راقم کی نظروں میں سے جب بھی جمہور اور جمہوریت کا لفظ گزرتا ہے۔ اُس کی ”کور لفظی“ اسے مجبوراً اور ”جمہوریت“ ہی بنا کر پیش کرتی ہے۔ اگر پیمانہ اور معیار صرف جان کی قربانی سمجھ لیا جائے، تو یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منانے والے کروڑوں مزدور اپنی آواز اور حقوق کی جنگ تقریباً ایک صدی بعد بھی جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی قربانیوں کی داستان میں ہر رنگ و نسل کا خون صفحے صفحے پر بکھرا پڑا ہے۔ اس تناظر میں لفظ مزدور اور ”مزدوریت“ کا افہام بھی کچھ غلط تو نہیں ہو گا! راقم کچھ بھی کر لے اردگرد کے حالات اسے کسی پل چین نہیں لینے دیتے۔ عام پاکستانی اشرافیہ اور افسر شاہی کے ڈرائنگ روموں میں ہونے والی ”نظاماتی گفتگو“ سے کہیں بڑھ کر اپنی روزمرہ زندگی کو زندہ رکھنے والے معاملات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اسے اس بات سے کیا لینا کہ تخت اسلام آباد یا تخت لاہور پر براجمان شہزادے آنکھوں میں کسی پاکستانی کا خواب بسائے ہوئے ہیں! اسے تو بس اتنا پتہ ہے جب گھنٹوں بجلی بند رہتی ہے تو اس کی دھڑکن بھی بند ہو جاتی ہے، اس کی زندگی کا بٹن بجلی کے بٹن سے کنٹرول ہوتا ہے۔

ایسا دور جس میں وہ12سے16گھنٹے مرا رہے اور اپنی آدھی سے زیادہ معاشی زندگی ”جمہوریت“ پر قربان کر دے۔ اکیسویں صدی کے کسی دور افتادہ امریکی ملک میں ہوتا، تو وہ بھی سڑکوں پر آ کر اپنی جان نہ جلاتا، لیکن ایسا دنیا کی پہلی مسلمان ایٹمی طاقت، جنوبی ایشیاءکی سب سے پہلی موٹروے، ایشیاءکے طویل ترین فلائی اوور، ہفتوں میں تعمیرات کے ریکارڈ بنانے والے18کروڑ افرادی قوت اور دنیا کی چھٹی امیر آبادی کے حامل، جنوب ایشیائی ملک پاکستان میں ہو رہا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ یہ حکمران طبقہ جب یک رخی اور خلوص دل سے کسی کام کی ٹھان لے تو ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے، لیکن میرے لئے زندگی اور موت جیسی بجلی فراہم کرنے کی بجائے عام پاکستانی ان حکمرانوں نے30سال جمہوریت کی عمارت میں چراغاں کئے رکھے اور میری معاشی زندگی کے چراغ گل کر دیے۔ راقم اس کا آخری پیغام آپ تک پہنچا رہا ہے حکمرانو! یہ ہاتھ تم نے کچھ کمانے کے قابل نہیں چھوڑے، اب انہیں کاٹ کر اپنے پاس رکھ لو، اگلے الیکشن میں انگوٹھے اور انگلیوں کے نشان ثابت کریں گے کہ میرا ووٹ اصلی ہے اور میری نعش لاوارث!!!

راقم موجودہ حکومت کی چین نواز معاشی تعاون کے گرم جوش معاہدوں سے جہاں بہت مسرور اور مطمئن ہے وہ اپنے دوستوں کی محفلوں میں تو کئی برسوں سے کاشغر، گوادر کوریڈور کی نوید مسرت سناتا رہا ہے) وہیں زخم خوردہ ماضی کی جھلکیاں اس کے سہانے خوابوں کو ڈراﺅنا بنانے لگتی ہیں۔ آپ نے زرداری حکومت کے آخری برسوں میں بجلی کے بحران کے دوران ایک چینی افسر کی باز گشت بھی ضرور سنی ہو گی جس میں یہ کہا جاتا تھا کہ چین پاکستان کو ایک فیکس گھریلو بجلی بل کے عوض انتہائی مناسب قیمت میں مستقل بجلی فراہم کر سکتا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا بیان جس میں قوم کو مہینوں اور برسوں کے ”شہباز شریفانہ لولی پاپ“ کے بعد اب اپنی حکومت کی آئینی مدت کے اختتام یعنی پانچ سال تک بجلی کے مسئلے کا حل نکالنے کا وقت دیا ہے۔ پاکستانی جمہوریت نے پہلی نہیں، دوسری نہیں، تیسری بار میاں محمد نواز شریف کو اپنے ووٹوں سے اپنا نجات دہندہ چن لیا ہے۔ اتنی اکثریت دے دی ہے کہ وہ ایوان میں حاضری لگائے بغیر قومی معاملات کو اپنی ترجیحات کے مطابق جتنا وقت چاہے دیں۔

 اکثریت کا دھونس اتنا ہے کہ ست رنگی اپوزیشن کا لال پیلا چہرہ ایوان کے اندر سوائے تقریروں کی گرم جوشی کے اور سیاست کی لکیروں کو مزید گہرا کرنے کے ایوانی قانون سازی میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ اس پہاڑ جتنی طاقت اور دو تہائی اکثریت کے عوامی مینڈیٹ ہی کی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی جسے راقم ”بیٹ اینڈ پیڈ“ کا سا تال میل کہے گا (کیونکہ دونوں تحریکیں پاکستان کی ہیں، بس فرق صرف انصاف اور عوام کا ہے) ایوان سے باہر جلسے اور دھرنے پر مجبور ہیں۔ وزیراعظم صاحب بجلی کی پیداوار کے نئے معاہدے آگے بڑھانے سے پہلے ڈاکٹر مبشر حسن جیسے کسی محب وطن دانشور سیاست دان کی بات پر کان ضرور دھریئے گا۔دوستی ہمالیہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی ہے اس بار امتحان ملکوں کی دوستی کا نہیں، بلکہ نواز شریف کی عوام دوستی کا ہے! ٭

مزید :

کالم -