جان کیری کا بیان اور امریکہ کا عمل

جان کیری کا بیان اور امریکہ کا عمل

  

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے تسلیم کیا ہے کہ ویت نام کے بعد عراق میں مداخلت سے امریکہ کو نقصان ہوا ہے، ان کا یہ بیان حال ہی میں عراق میں سُنی تحریک والوں کے خلاف عراقی حکومت کے ساتھ تعاون کی بات چیت کے دوران سامنے آیا ہے۔ عام لوگوں نے اسے زود پشیمانی جانا، لیکن ان کے عمل نے ثابت کیا کہ یہ بیان برائے بیان ہے ورنہ امریکہ اب بھی مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے عراق میں امریکی فنی ماہرین کے نام سے فوجی بھیجنے اور ڈرون کا اڈا بنا کر ڈرون بھجوانے کا بھی اعلان کیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا بیان محض عالمی ڈپلومیسی ہے کہ طاقتور مارتا بھی ہے اور رونے بھی نہیں دیتا۔داعش تنظیم والوں نے عراق میں تکریت پر قبضہ کرنے کے بعد خلافت کا اعلان کیا۔ مالکی حکوت کی طرف سے اسے بغاوت قرار دیا گیا اور سرکاری فوجیں نبرد آزما بھی ہیں۔ اسی طرح شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف اپوزیشن برسر پیکار ہے۔ یوں اس پورے خطے میں بدامنی اور بے چینی ہے، جو اب مسلکی رنگ اختیار کر گئی۔ باور کیا جاتا ہے کہ عراق میں جو لوگ حکومت مخالفت ہیں ان میں کردوں کے علاوہ صدام کی بعث پارٹی کے حضرات بھی شامل ہیں۔

دوسری طرف تجزیہ نگار حضرات کی رائے ہے کہ امریکیوں نے اسرائیلی تعاون سے اس پورے خطے میں مسلک کے نام پر تقسیم اور خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کی ہے اور اب وہاں مسلمان ہی ایک دوسرے کے در پے آزار ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں آج کل ہماری مسلح افواج کو دہشت گردی ختم کرنے کے لئے جنگ کرنا پڑ رہی ہے۔ اللہ کا فضل ہے کہ اغیار کی کوشش کے باوجود یہاں فرقہ وارانہ صورت حال پیدا نہیں ہوئی اور پاکستانیوں کو خوب غور کر لینا چاہئے کہ ایسی کوئی بات نہ ہو کہ یہ سب مسلمانوں کو کمزور بنانے کے لئے کیا جا رہاہے کہ یہ ٹکڑوں میں تقسیم ہوں گے تو تر نوالہ ثابت ہوں گے۔ حقیقت کا ادراک علمائے دین کو ہونا چاہئے اور ان کو مسلمانوں کی توجہ اتحاد کی طرف دلانا چاہئے کہ اس طرح مجموعی طور پر نقصان ہی مسلمانوں کو ہو رہا ہے۔جان کیری کی ڈپلومیسی کا بھانڈہ تو خود اُن کے اپنے ملک کے اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے پھوڑ دیا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کی ایجنسی کو دنیا بھر کے123ممالک کی جاسوسی کے فرائض سونپے گئے ہیں، حتیٰ کہ پاکستان کی پیپلزپارٹی اور بھارت کی بی جے پی بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جن کی جاسوسی امریکی انتظامیہ کی نگرانی میں ہوتی ہے۔یہ بہت و اضح اور امریکی حکمت عملی کا تضاد ہے کہ دوستی کا بھی نام لیا جاتا ہے اور حالات ایسے پیدا کئے جا رہے ہیں کہ کہیں امن نہیں ہو گا اور امن سے متعلق مسائل کو اچھی طرح جانتا ہوں۔

مزید :

اداریہ -