فوڈ اور بیوریجز کی صنعتوں نے بینکوں سے دوگنا قرضہ حاصل کیا

فوڈ اور بیوریجز کی صنعتوں نے بینکوں سے دوگنا قرضہ حاصل کیا

  

اسلام آباد (اے پی پی) ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کے حامل ٹیکسٹائل کے شعبہ کے مقابلہ میں فوڈ اور بیوریجز کی صنعتوں نے بینکوں سے دوگنا قرضہ حاصل کیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2013-14ءکے پہلے دس ماہ جولائی تا اپریل 2013-14ءکے دوران فوڈ اینڈ بیوریجز انڈسٹری نے بینکوں سے 116 ارب روپے کا قرضہ حاصل کیا ہے جبکہ بڑے صنعتی اداروں( ایل ایس ایم ) کی پیداوار میں زیادہ تر حصے کا حامل ٹیکسٹائل کے شعبہ نے اس دوران 59 ارب روپے کے قرضے لئے ہیں۔ اعدادوشمارکے مطابق مجموعی ملکی برآمدات میں ٹیکسٹائل کا نمایاں حصہ ہونے کے باوجود شعبہ میں گذشتہ کچھ عرصہ سے توسیع اور ایجادات کا فقدان نظرآتا ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری سے حاصل کئے گئے قرضہ جات میں سے زیادہ تر حصہ ورکنگ کیپٹل کےلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بینکوں سے حاصل کئے گئے شعبہ کے قرضہ جات میں اضافہ نہیں ہورہا۔اپریل 2014ءکے اختتام تک فوڈ اینڈ بیوریجز انڈسٹری کے مجموعی قرضہ جات4کھرب 22ارب 80کروڑ روپے تک بڑھ گئے ہیں ۔

جبکہ ٹیکسٹائل کے شعبہ کے مجموعی قرضہ جات5کھرب 74 ارب روپے تک ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے اعدادوشمارکے مطابق فوڈ اینڈ بیوریج انڈسٹری کی شرح ترقی میں بھی نمایاں اضافہ واقع ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نو مہینوں جولائی تا مارچ2013-14ءکے دوران ایل ایس ایم کے شعبہ کی پیداوار میں ٹیکسٹائل سیکٹر کا حصہ 29.7 فیصد ہے جبکہ اس دوران شعبہ کی شرح ترقی 1.44 فیصد رہی ہے تاہم دوسری جانب ایل ایس ایم کی پیداوار میں 17.6 فیصد کے حصہ دار فوڈ اینڈ بیوریج کے شعبہ کی شرح ترقی اس دوران 7.78 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں روایتی کاروبار کی بجائے غیرروایتی کاروبار اور بالخصوص تیزی سے ترقی کرنے والی غذائی صنعت کی کارکردگی میں ہونے والا اضافہ حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود میں کمی کے فیصلے سے ملک میں ایجادات کے شعبہ کے فروغ سے صنعتی پیداوار میں نمایاں اضافہ کوبھی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

مزید :

کامرس -