اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کیلئے ٹیکسوں ، ڈیوٹیزمیں کمی کی جائے؛کراچی چیمبر

اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کیلئے ٹیکسوں ، ڈیوٹیزمیں کمی کی جائے؛کراچی چیمبر

  

کراچی(آن لائن)کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر عبداللہ ذکی نے اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ٹیکسوں و ڈیوٹیزمیں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمگل ریجیم میں شامل اشیاکی ڈیوٹی کی شرح کو کم کیا جائے،اسمگلنگ کی لعنت اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال سے مقامی صنعتوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور قانونی طور پر اشیا کی درآمد میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے جس سے درآمدی سطح پر حکومتی ریونیو، ٹٰیکسوں کی مد میں محصولات میں بھی نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔گزشتہ روز ایک بیان میں انہوں نے وفاقی بجٹ2014-15 میں حکومت کی جانب سے تمام درآمدی اشیا پرٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں کمی نہ کرنے پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کی تاجربرادری نے وفاقی بجٹ میں درا?مدی اشیا میں ڈیوٹیزاورٹیکسوں میں کمی کے حوالے سے تجاویز ارسال کی تھیں لیکن بدقسمتی سے فیصلہ سازوں نے صرف چند آئٹمز پر ڈیوٹی کم کی جبکہ دیگر تمام آئٹمز پر5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی گئی حتیٰ کہ جن ممالک کے ساتھ پاکستان نے آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) سائن کیا ہوا ہے ان ممالک سے درآمد کیے گئے آئٹمز پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جس سے درآمدی آئٹمز کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیاہے، یہی وجہ ہے کہ درآمد کنندگان قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے غیرقانونی ذرائع بالخصوص افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں۔

عبداللہ ذکی نے کہا کہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ مارکیٹیں اسمگل شدہ سامان سے بھری پڑی ہیں جس کی وجہ سے قانونی طور پر درآمد کی گئی اشیا کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے، اسمگل شدہ اشیا پر نہ ٹیکس دیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی کاغذی کارروائی کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قانونی طریقے سے اشیا درآمد کرنے والے درآمد کنندگان اور مینوفیکچررز کے لیے کاروبار جاری رکھنا دشوار ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی زائد شرح کی پالیسی سے ٹیکس چوری اور انڈر انوائسنگ کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے جبکہ مربوط حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے اسمگلرز بلاخوف و خطر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ سرحد پار سے اشیا کی اسمگلنگ کر رہے ہیں۔عبداللہ ذکی نے متعلقہ اتھارٹیز کو مشورہ دیا کہ مالی وانتظامی اقدامات خاص طور پرپاک افغان و ایران سرحد سے سامان کی اسمگلنگ کو روکنے اور قانونی درآمد اور مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کے لیے ضروری ہے کہ سرحدوں کو سیل کیاجائے اور مقامی صنعتوں و حقیقی درآمدکنندگان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مختلف محکموں کو بے جا اختیارات دینے پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ کراچی چیمبر نے سرکاری محکموں کو بے جا اختیارات دینے کی ہمیشہ مذمت کی ہے کیونکہ بے جا اختیارات دینے سے کرپشن کے مزید دروازے کھل جاتے ہیں، اس قسم کے اقدامات تاجربرادری کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر زور دیا کہ درآمدی سطح پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی زائد شرح کے بجائے حکومت کو غیرقانونی درآمدات کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ڈیوٹیز کی شرح کو کم کرنے کی واضح پالیسی اختیار کریں اور موثر حکمت عملی وضع کرتے ہوئے اسمگلرز اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے غلط استعمال میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کی ضرورت ہے، تاجر برادری ہمیشہ اسمگلرز کی مخالف رہی اورمعاشرے سے اسمگلنگ کے ناسورکے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سب سے پہلے ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی شرح میں کمی کرے اوراس کے بعد اسمگلرز کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کے لیے سخت حکمت عملی اپنائی جائے۔

مزید :

کامرس -