گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے اطلاق سے نقصان ہوگا: صدر آرسی سی آئی

گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے اطلاق سے نقصان ہوگا: صدر آرسی سی آئی

  

راولپنڈی (کامرس ڈیسک) راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائمقام صدر ملک شاہد سلیم نے سی این جی اور دیگر شعبوں میں گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے اطلاق کے بعد کئے گئے اضافے کو گیس بم سے تعبیر کرتے ہوئے اس مسترد کر دیا ہے اور اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک طرف تو حکومت پٹرول کی قیمتوں کو نہ بڑھا کر عوام دوست ہونے کا تاثر دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف سی این جی اور دیگر انڈسٹری کے لئے گیس کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ کر رہی ہے جس کا خمیازہ عام عوام کو بھگتنا پڑے گا ۔پٹرول کے مسئلہ پر بھی حکومت دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے ڈالر کی قیمت میں 8روپے کمی کے باوجود آج تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں کی گئی اور قیمتوں کو مر کوز رکھ کر عوام کو دھوکا دیا جا رہا ہے ۔ملک کی تمام کاروباری برادری نے مشترکہ طور پر پوسٹ بجٹ کانفرنس میں گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کو مسترد کر دیا تھا اور حکومت سے فوری واپسی کا مطالبہ کیا تھا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیمبر میں سی این جی ایسوسی ایشن کے نمائندوں ، ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ صنعتکاروں اور دیگر تاجروں کے وفد سے ایک ملاقات میں کیا ۔ اس موقع پر نائب صدر محمدعالم چغتائی ،اراکین مجلس عاملہ اور دیگر اراکین چیمبر بھی موجو دتھے ۔ملک شاہد سلیم نے کہا کہ عام آدمی سب سے زیادہ سی این جی سیکٹر سے مستفید ہوتا ہے ،حالیہ حکومتی اقدام سے سی این جی کی قیمتوں میں5.36روپے فی کلو کے حساب سے اضافہ ہو گا اور اس فیصلے سے متاثر ہونے والا دوسر ابڑا شعبہ زراعت ہے کیونکہ فرٹیلائزر سیکٹر کو اس ٹیکس سے پہلے 197 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے گیس مل رہی تھی جو کہ اب بڑھ کر 300روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی ہے جس کا براہ راست اثر زراعت پر مرتب ہو گا ۔ قائمقام صدر نے کہا کہ آئی پی پیز اور سیمنٹ سیکٹر کے لئے بھی گیس کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں جس سے اشیاءکی قیمتوں میں لازماً اضافہ ہو گا اور غریب عوام جو پہلے ہی پسی ہوئی ہے کو اور غربت کی طرف دھکیلا جارہا ہے ۔

حکومت کاروباری برادری کی تجاویز پر عمل کرے اور اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر پالیسیاں ترتیب دے

مزید :

کامرس -