دنیا کا خطرناک ترین جزیرہ جہاں سانپوں کی حکومت ہے

دنیا کا خطرناک ترین جزیرہ جہاں سانپوں کی حکومت ہے
دنیا کا خطرناک ترین جزیرہ جہاں سانپوں کی حکومت ہے
کیپشن: pic

  

سا ﺅپالو (نیوز ڈیسک) برازیل اپنی دلکش خواتین اور فٹ بال کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے لیکن اس ملک میں ایک ایسا جزیرہ بھی پایا جاتا ہے جہاں دنیا کے زیریلے ترین سنہرے سانپوں کی حکومت ہے اور یہاں کسی انسان کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ الہاڈ کوی میڈا نامی جزیرہ ساﺅپالو شہر کے ساحل سے 20 میل کی مسافت پر واقع ہے اور یہاں لانس ہیڈ وائپر نامی ہزاروں سنہرے سانپ پائے جاتے ہیں۔ ان سانپوں کا زہر اتنا خطرناک ہے کہ یہ جسے ڈس لیں اس کا گوشت پگھل کر ہڈیوں سے علیحدہ ہونا شروع ہوجاتا ہے اور لمحوں میں موقت واقع ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برازیل کی حکومت نے ”سنہرے سانپوں کے جزیرے“ کی طرف انسانوں کا جانا ممنوع قرار دیا ہوا ہے اور یہ سارا جزیرہ صرف اور صرف ان سانپوں کی ملکیت ہے۔ یہ سانپ دنیا میں صرف اسی جزیرے پر پائے جاتے ہیں اور اپنے چمکدار سنہرے رنگ کی وجہ سے بے پناہ دلکش نظر آتے ہیں۔ ان کے حسن سے مسحور ہوکر ماضی میں کچھ شکاریوں نے جزیرے پر جاکر سنہرا سانپ پکڑنے کی کوشش کی لیکن دردناک انجام سے دوچار ہوئے۔ یہ سانپ اسقدر نایاب ہیں کہ ایک سانپ کی قیمت تقریباً 30 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے لیکن اس قدر قیمتی ہونے کے باوجود کوئی یہ جرا¿ت نہیں کرتا کہ انہیں پکڑنے کیلئے موت کے جزیرے کا ر±خ کرے۔

مزید :

علاقائی -