افریقی رہنماﺅ ں کی اپنے ہی حق میں قانون سازی

افریقی رہنماﺅ ں کی اپنے ہی حق میں قانون سازی

  

نیوگنی (نیوز ڈیسک ) افریقی رہنماﺅں نے افریقین یونین کے سمٹ میں خود کو جنگی جرائم اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ووٹنگ کے ذریعے استثنی دے دیا۔ استثنیٰ حاصل کرنے کے فیصلہ کی وجہ دو ممالک کے موجودہ صدور کا اس میں ملوث ہونا قرار دیا جا رہا ہے، جو اس وقت عالمی عدالت میں اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا دفاع کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افریقی رہنماﺅں کے اس فیصلہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے باعث ہونے والی سزا سے بچنے کا گھسا پٹا طریقہ قرار دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ”اس وقت جب براعظم افریقہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر احتساب کے لئے جدوجہد کی جا رہی ہے، ایسے میں استثنٰی جیسے فیصلے کو حق بجانب قرار دینا ناممکن ہے۔ پھر استثنیٰ کا حصول افریقن کورٹ آف جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کی سالمیت اور وقار کی بھی نفی ہے کیوں وہ اس وقت فعال ہے“۔ استثنیٰ کا فیصلہ گنی میں ہونے والے افریقین یونین کے ایک سمٹ میں ووٹنگ کے ذریعے کیا گیا، جہاں صحافی موجود نہیں تھے۔ ایمنسٹی کے حکام کا مزید کہنا ہے کہ ”نئی ترامیم سے عدالت کے لئے یہ مشکل ہو جائے گا کہ وہ جرائم میں ملوث افریقی رہنما?ں کے خلاف کارروائی کر سکے۔ ک±ل 42افریقی اور بین الاقوامی سول سوسائٹی گروپس نے نئی ترمیم پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا ہے“۔ یاد رہے کہ افریقی یونین اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو کینیا کے صدر اور ان کے ڈپٹی کے خلاف چلائے جانے والے مقدمات کو ملتوی کرنے پر راضی کرنے میں ناکام رہی ہے، ان کیسز میں الزام لگایا گیا ہے کہ کینیا کے صدر 2007ئ میں ایک ہزار افراد کے قتل میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ افریقی یونین سوڈان کے صدر کے خلاف جاری جنگی جرائم کے مقدمات کا التواء بھی چاہتی تھی۔

مزید :

علاقائی -