پیرس،مسلم خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی جائز اور قانونی قرار

پیرس،مسلم خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی جائز اور قانونی قرار

  

پیرس (نیوز ڈیسک) انسانی حقوق کا سب سے بڑا چیمپئن کہلانے والے یورپ نے بنیادی حقوق کی بدترین پامالی کرتے ہوئے مسلم خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی کو جائز اور قانونی قرار دے دیا ہے جس سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ فرانس کے بعد دیگر مغربی ممالک میں بھی حجاب کو غیر قانونی لباس قرار دے دیا جائے گا۔ برقعہ یا حجاب اسلامی تہذیب کا خوبصورت اور قابل فخر پہلو ہے لیکن فرانسیسی حکومت نے اسلام اور مسلمان دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے 2010ءمیں مسلمان عورتوں کو حجاب پہننے سے قانوناً منع کردیا۔ اپنی پسند کا لباس پہننا مغربی قوانین اور اقدار کے مطابق ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن یہ حق جسم پر کپڑے کا ایک ٹکڑا سجا کر برہنہ پھرنے والی مغربی عورتوں کو تو حاصل ہے لیکن اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی باپردہ مسلمانوں عورتوں کو قطعاً حاصل نہیں۔ برطانیہ کی ایک قانونی ٹیم نے ایک 24 سالہ فرانسیسی مسلمان خاتون کی نمائندگی کرتے ہوئے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں موقف اختیار کیا تھا کہ حجاب پر پابندی مسلمان عورتوں کو زبردستی بے پردہ کرنے، ان کی سرعام توہین کرنے اور انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے لہٰذا اسے ختم کیا جائے۔ لیکن عدالت نے اخلاقیات اور قوانین کا مذاق اڑاتے ہوئے پابندی کو مکمل طور پر جائز قرار دے دیا۔ فیصلے کے دفاع میں یہ مضحکہ خیز دلیل دی گئی ہے کہ مسلمان عورتوں کا چہرہ ڈھانپنا انسانوں کے مل جل کر رہنے کے جائز حق کیلئے خطرہ ہے۔ اس فیصلے سے پہلے ہی فرانس میں باپردہ مسلم خواتین کی گرفتاری اور انہیں جرمانے کرنے کا سلسلہ جاری تھا اور یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس شرمناک فیصلے کے بعد مغرب میں امت مسلمہ کی باحیا بیٹیوں کا کیا حشر ہوگا۔

مزید :

علاقائی -