حکومت 14 دنوں میں مستقل ایڈووکیٹ جنرل تعینات کرے،فل بنچ لاہور ہائیکورٹ

حکومت 14 دنوں میں مستقل ایڈووکیٹ جنرل تعینات کرے،فل بنچ لاہور ہائیکورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ فل بنچ نے پنجاب حکومت کو 2 ہفتوں میں مستقل ایڈووکیٹ جنرل تعینات کرنے کا حکم دے دیا، سرکاری وکیل بننے والے پنجاب بار کے 9 ممبران کی معطلی اور انکی جگہ نئے ممبران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا معاملہ بھی نئے ایڈووکیٹ کے روبرو پیش کرنے کاحکم۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل فل بنچ نے رنر اپ امیدوار رب نواز ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ نے بنچ کو بتایا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مصطفیٰ رمدے نے سرکاری وکیل بننے پر پنجاب بار کے نو ممبران کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، قانون کے مطابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بار کے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں رکھتا لہذا مصطفی رمدے کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے، ممبران کی معطلی کے معاملے کی سماعت کے دوران فل بنچ کو بتایا گیا کہ پنجاب میں ایک سال سے ایڈووکیٹ جنرل تعینات نہیں ہوسکا ۔فل بنچ نے عبوری فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ پنجاب حکومت دو ہفتوں میں مستقل ایڈووکیٹ جنرل تعینات کرے، فیصلے کے مطابق سرکاری وکیل بننے والے پنجاب بار کے نو ممبران کی معطلی اور انکی جگہ نئے ممبران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا معاملہ بھی نئے ایڈووکیٹ کے روبرو پیش کیا جائے جو پنجاب بار کا جنرل ہاؤس اجلاس بلا کر قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

تعینات

مزید :

صفحہ آخر -