سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ا نکوائری کیلئے دونوں ٹیمیں شفاف طور پر کام کر رہی ہیں

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ا نکوائری کیلئے دونوں ٹیمیں شفاف طور پر کام کر رہی ہیں

  

لاہور)وقائع نگار خصوصی)اس وقت سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش اور انکوائری کے لئے 2 ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔جن میں ایک جوائنٹ انوسٹی گیشن (JIT) جبکہ دوسری محکمانہ انکوائری ٹیم ہے۔JITایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، ڈاکٹر عارف مشتاق، سینئر پولیس افسران اور وفاقی حکومت کے حساس اداروں کے افسران پر مشتمل ہے جبکہ محکمانہ انکوائری ٹیم ایڈیشنل آئی جی پنجاب، سرمد سعید کی سربراہی میں کام کر رہی ہے۔میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ واقعہ میں ملوث پولیس افسروں کی قربانی اور ان کی گرفتاری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اورمحکمانہ انکوائری کمیٹی کے سربراہ کی تین مرتبہ تبدیلی بھی اسی فیصلے کی کڑی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ایڈیشل آئی جی ، ڈاکٹر عارف مشتاق کو پہلے محکمانہ انکوائری ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں انہیں جب جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا تو اس صورت میں قانون کے مطابق وہ ڈیپارٹمنٹل انکوائری ٹیم کی سربراہی نہیں کر سکتے۔یہی وجہ ہے کہ اس ٹیم کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی پنجاب سرمد سعید خان کو دے دی گئی ۔JITماڈل ٹاؤن سانحہ کے مقدمہ کی قانون کے مطابق تفتیش کر رہی ہے جبکہ محکمانہ انکوائری کا مقصدفرائض میں غفلت ، کوتاہی، SOPاور ڈسپلن کی خلاف ورزی اور دیگر امورکا تعین کرنا شامل ہیں۔دونوں ٹیموں کا مینڈیٹ اور سکوپ مختلف ہے۔دونوں ٹیمیں الگ الگ انتہائی شفاف طریقے سے میرٹ کی بنیاد پر باریک بینی سے معاملے کی تفتیش اور انکوائری بالترتیب کررہی ہیں اور ان کی حتمی رپورٹس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔لہذا اس سلسلے میں چھپنے والی خبریں بالکل حقائق کے برعکس ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے فیصلے جیسی بے بنیاد اور من گھڑت افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔قومی مفاد کے پیش نظر میڈیا سے درخواست ہے کہ دونوں تفتیشی ٹیموں کی حتمی رپورٹس آنے تک اس طرح کی قیاس آرائیوں سے اجتناب کیا جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -