مسلم لیگ (ن) کا 60رکنی وفد چودھری نثار کو منانے میں کامیاب

مسلم لیگ (ن) کا 60رکنی وفد چودھری نثار کو منانے میں کامیاب

  

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ، این این آئی)منگل کو شہباز شریف ملے اور بدھ کو مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کا 60 رکنی وفد ملا،یہ ملاقاتیں رنگ لے آئیں اور حکومت نے ناراض وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو منالیا،جس کے بعد وزیر داخلہ جلد منظر عام پرآگئے ۔ بجٹ پراندھیرے میں کیوں رکھاگیا؟ قومی سلامتی پالیسی پرعمل کیوں نہیں ہوا ؟طالبان سے مذاکرات پر کیوں نظر انداز کیا گیا؟آپریشن ضرب عضب پر اعتماد میں کیوں نہ لیا گیا؟ یہ تھے وہ تحفظات جن کو لے کر وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان حکمران جماعت کی قیادت سے ناراض ہوگئے تھے اور وہ لاہور میں پارٹی قیادت کو یہ بتاکر کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں، گوشہ نشین ہوگئے لیکن اسی دوران میں کراچی ایئر پورٹ کاواقعہ ہوگیا اور اس کے لیے وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے چودھری نثار کو کراچی پہنچنے کی ہدایت کی گئی ۔ بات سے بات نکلتی رہی اور معاملے کو ہوا دیتی رہی۔ چودھری نثار ناراض سے ناراض تر ہوتے چلے گئے، لیکن پھرپارٹی قیادت ہی بیچ میں پڑی۔ گذشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے چودھری نثار سے چار گھنٹے طویل ملاقات کی جس کے بعد آج ن لیگ کا بیس، 60 رکنی وفد بھی ان سے ملا۔ یہ ملاقاتیں رنگ لائیں اور چودھری نثار مان گئے۔ اب جلد ہی ان کی وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔این این آئی کے مطابق چودھری نثار علی خان نے کہاکہ مسلم لیگ (ن)ایک گھر کی مانند ہے، اختلافات ہوتے رہتے ہیں، پارٹی سے وابستگی ختم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔لیگی رہنماؤں نے چوہدری نثار کو تحفظات دور کرانے کی یقین دہانی کرادی، ان کا کہنا تھا کہ چودھری نثار کی عیادت کیلئے پنجاب ہاؤس آئے تھے، پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں، لانگ مارچ اور انقلاب والے جان لیں ہم متحد ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -