حکومت کی تحریک انصاف کو مذاکرات کے لئے دعوت

حکومت کی تحریک انصاف کو مذاکرات کے لئے دعوت

  

اسلام آباد(این این آئی،آن لائن ،اے این این)حکومت نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ایک بار پھر قومی معاملات پر مذاکرت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے تحفظات دور کریں گے ، محاذ آرائی تناؤ اور کشمکش کی فضا آپریشن ضرب عضب پر اثر اندز ہو سکتی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشیدنے کہا کہ تحریک انصاف سے پارلیمنٹ کے اندر یا باہر بات چیت کیلئے تیار ہیں ۔ کونسا ایسا مسئلہ ہے جس کا سیاسی حل نہ نکالا جا سکتا ہو۔ عمران خان کی شکایات دور کرنے کو تیار ہیں ،ہم بات چیت سے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں ، ملکی تاریخ کا اہم موڑ ہے ، قوم میں تقسیم کا پیغام نہیں جانا چاہئے۔ فوجی ڈکٹیٹر شپ نہیں ، سویلین حکومت قائم ہے ۔ دہشت گردی کا سد باب اتحاد سے ممکن ہے ۔ ہم سب کو متحد ہو کر فوج کے پیچھے کھڑا ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی سیاست جمہوریت کا حصہ ہے تاہم یہ وقت اس کیلئے سازگار نہیں ، وزیر اعظم نواز شریف نے ہمیشہ ڈائیلاگ کی بات کی اب بھی اس کیلئے تیار ہیں۔ پرویز رشید نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب ضرور کامیاب ہو گا،شمالی وزیرستان دہشتگردوں کا ملٹری ہیڈ کوارٹر ہے وہاں زد پڑنے سے دہشتگردوں کی عسکری لحاظ سے کمر ٹوٹ جائے گی،لوگوں کے ذہن بدلنے میں وقت لگے گا،ہمیں اپنے تعلیمی نصاب پر بھی نظر ثانی کرنا ہو گی،پاکستان کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت پر یقین نہیں رکھتا،کسی کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے،عمران خان کے گلے شکوے عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے ہیں،لانگ مارچ بھی انہی کے خلاف کرنا چاہتے ہیں،الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی تو تحریک انصاف نے ایک صوبے کی حکومت کیوں قبول کی؟َ،ہماری حکومت کے معاشی اور توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے کئے گئے اقدامات کی پوری دنیا معترف ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف پاکستان کا نہیں پورے خطے کا مسئلہ ہے اور طویل عرصے سے ہم سب کو اس کا سامنا ہے۔ پوری دنیا دہشت گردی کے باعث متاثر ہوئی ہے۔عالمی برادری نے بعض علاقوں میں دہشت گردی کے مسئلے سے کامیابی سے نمٹا ہے ہم بھی دنیا کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کی جڑیں پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک غیر روائتی جنگ کا سلسلہ شروع ہوا جس کا افغانستان دو بار نشانہ بنا۔ افغانستان کی صورتحال سے پاکستان راست متاثر ہوا ہے۔ افغانستان میں طویل جنگ کے باعث دہشت گردوں کی بہت سے تنظیمیں وجود میں آئیں اور ان کے اپنے اپنے مفادات بھی تخلیق ہوئے۔ان میں سے کچھ نظریاتی تنظیمیں ہیں کچھ جرائم پیشہ ہیں جن کا تعلق لوٹ مار سے ہے۔بعض تنظیمیں ڈرگ مافیا کومدد کے لئے بنائی گئی ہیں۔اس خطے میں مختلف قسم کی دہشت گردی پیدا ہوئی جس کا پاکستان سب سے بڑا نشانہ بنا اور ہم نے قربانیاں دیں ہیں۔ پاکستان اب تک 130 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرچکا ہے ۔انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے،بچوں کی تعلیم اور صحت کے مسائل پیدا ہوئے،معاشی اور اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں ان سب چیزوں سے ہونے والے نقصان کا اندازہ ہی نہیں کیاجاسکتا۔ وزیراطلاعات نے کہاکہ خوف اور دہشت کی موجودگی میں سرمایہ کاری کا فروغ اور معمول کی زندگی جاری رکھنا بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جس علاقے میں کارروائی کی جارہی ہے وہاں دہشت گردوں کے ملٹری ہیڈکوارٹرز ہیں۔شمالی وزیرستان ہی دہشت گردوں کی عسکری طاقت کا مرکز ہے جب پاک فوج اس علاقے سے دہشت گردوں کی عسکری طاقت کی کمر توڑے گی تو دہشت گردی کے واقعات سے کافی حد تک چھٹکارا مل جائے گا لیکن دہشت گردی کی نظریاتی شاخیں کینسر کی طرح پھیلی ہوئی ہیں،ان کا مقابلہ کرنے کے لئے طویل عرصہ درکار ہوگا۔لوگوں کا ذہن بدلنا ہوگا اور آئندہ کے لئے انتہا پسند سوچ کے لئے جگہ نہیں چھوڑنا ہوگی۔پاکستان کو فرقہ واریت،تعصب، ناخواندگی اور نفرت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ان ساری چیزوں کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی اور اپنے تعلیمی نصاب پر بھی نظر ثانی کرنا پڑیگی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بہت واضح ہے ہم کسی ملک کے معاملات میں مداخلت کرنے پر یقین نہیں رکھتے اور نہ اپنے ملک کے معاملات میں کسی دوسرے کی مداخلت پسند کرتے ہیں۔ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے دے گا اور نہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین کاپاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال برداشت کیاجائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -