بے گھر ہونے والے پختون بہن بھائیوں کی مدد ہمارا دینی اور قومی فریضہ ہے،شہباز شریف

بے گھر ہونے والے پختون بہن بھائیوں کی مدد ہمارا دینی اور قومی فریضہ ہے،شہباز ...

  

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شمالی وزیرستان کے پختون بہن بھائیوں کی ہر ممکن مدد کریں گے اور ان کی اپنے گھروں میں واپسی اور مکمل بحالی میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھیں گے۔ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کی جنگ کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہونے والے پختونوں کی مدد ہمارا دینی ،ملی اور قومی فریضہ ہے ۔صاحب ثروت اور مخیر حضرات آئی ڈی پیز کی مدد کے لئے دل کھول کرعطیات دیں۔ یہ بات انہوں نے یہاں اخوت تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ڈاکٹر امجد ثاقب نے اخوت تنظیم کی جانب سے آئی ڈی پیز کی مدد کے لئے چیف منسٹر ریلیف فنڈ میں 2لاکھ روپے کا چیک دیا۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے ڈاکٹر امجد ثاقب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اخوت تنظیم کی جانب سے شمالی وزیر ستان کے بے گھرہونے والے پختون بہن بھائیوں کی مددکے لئے عطیہ بھائی چارے کی اچھی مثال ہے اور تنظیم کا یہ جذبہ ایثار لائق تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ مصیبت میں گھرے پختونوں کو کسی صورت بھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔پنجاب کی حکومت اورعوام مشکل کی اس گھڑی میں اپنے پختون بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔پنجاب حکومت پہلے ہی پختونوں کو ریلیف کی فراہمی کے لئے 50کروڑ روپے جمع کرا چکی ہے جبکہ پنجاب کابینہ اورمسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نے بھی اپنی ایک ماہ کی تنخوا’’چیف منسٹر ریلیف فنڈ‘‘ میں جمع کرادی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے متعددٹرکوں کے ذریعے کروڑوں روپے مالیت کی امدادی اشیاء بھی متاثرین کے لئے بھجوائی ہیں ۔شمالی وزیر ستان کے بے گھر ہونے والے خاندانوں کو نقد رقوم بھی دیں گے تاکہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق اشیاء خود خرید سکیں۔انہوں نے کہاکہ بے گھر ہونے والے پختون بہن بھائیوں کی مدد کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی بلکہ آخری متاثرہ خاندان کی بحالی تک تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ نقل مکانی پر مجبور ہونے والے حوصلہ مند پاکستانیوں کی ہر ممکن مدد کریں گے اوردہشت گردی کے خلاف جنگ کے خاتمے اورامن و امان کے قیام کے بعدمتاثرین کی مکمل آباد کاری اور تعمیرنو کے لئے بھی تعاون فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بھی مصیبت زدہ بہن بھائیوں کو سہولتوں کی فراہمی کے لئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لارہی ہے ۔معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھے اور اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کرے۔اخوت تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف درددل رکھنے والی شخصیت ہیں۔ملک و قوم کو جب بھی کسی قدرتی آفت نے گھیرا ہے تو و ہ ہمیشہ مشکلات میں گھرے اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور ان کی ہر ممکن مدد کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اخوت آئندہ بھی آئی ڈی پیز کی مدد کے لئے’’ چیف منسٹر ریلیف فنڈ‘‘ میں مزید عطیات دے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماء و ممبر قومی اسمبلی حمزہ شہبازشریف، معاون خصوصی عزم الحق اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیوبھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے مظفر گڑھ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کی خبر کانوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او مظفر گڑھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاتون کوانصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے یہاں توانائی کی بین الاقوامی کمپنی ہیکیٹ انرجی کے وفدنے ملاقات کی۔ ملاقات میں توانائی خصوصاً سولر انرجی کے منصوبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہوا۔ بین الاقوامی کمپنی ہیکیٹ نے سولر انرجی کے منصوبے لگانے میں دلچسپی کا اظہار کیا، وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے توانائی کمپنی کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو درپیش توانائی بحران نے قومی معیشت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کو بری طرح متاثرکیا ہے۔صنعتوں کا پہیہ رواں دواں رکھنے کے لئے توانائی کے بحران پر جلد سے جلد قابو پانا انتہائی ضروری ہے ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت توانائی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے دن رات کوشاں ہے۔ ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر خصوصی سہولتیں دی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہاولپور میں قائداعظم سولر پارک کے منصوبے پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔ پنجاب حکومت قائداعظم سولر پارک میں سومیگاواٹ کا سولر منصوبہ اپنے وسائل سے لگا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ غیرملکی سرمایہ کاروں کی توانائی سیکٹر میں سرمایہ کاری کا خیرم مقدم کریں گے۔ معاون خصوصی عزم الحق، ایڈیشنل چیف سیکرٹری توانائی، چیئرمین قائداعظم سولر پارک اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

مزید :

صفحہ اول -