انسداد دہشتگردی ،پاکستان پینل کوڈ آرمز اور فارنرز ایکٹ کی موجودگی میں نیا قانون سوالیہ نشان

انسداد دہشتگردی ،پاکستان پینل کوڈ آرمز اور فارنرز ایکٹ کی موجودگی میں نیا ...

  

    لاہور(انویسٹی گیشن سیل ) ملک میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، پاکستان پینل کوڈ، آرمز ایکٹ اور فارنرز ایکٹ کی موجودگی میں پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ کا نفاذ سوالیہ نشان بن گیا ہے۔بھتہ خوری ، اغوابرائے تاوان ، دہشت گردی اور سنگین جرائم پروٹیکشن آف پاکستان قانون کے تحت درج ہوئے تو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کو وجود ختم ہوجائیگا۔ جبکہ متذکرہ بالا قوانین کے ہمراہ پروٹیکیشن آف پاکستان ایکٹ کی موجودگی سے ایک طرف پیچیدگیاں پیدا ہونگی۔تو دوسری طرف پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کرپٹ عناصر ان پیچیدگیوں اور قوانین کے ہیر پھیر کو ناجائز آمدن کا ذریعہ بنا لینگے۔معلوم ہوا ہے کہ سینٹ کے بعد قومی اسمبلی بے بھی تحفظ پاکستان قانون کی بل کی منظوری دیدی ہے۔ جس کے تحت خوف و ہراس پھیلانے والا شخص ملک دشمن تصور کیا جائیگا۔ بھتہ خوری، اغوابرائے تاوان، دہشت گردی اور دیگر نوعیت کے سنگین جرائم کے مقدمات پروٹیکیشن آف پاکستان ایکٹ کے تحت درج ہونگے۔ اس قانون کے تحت نئی فورس تشکیل دی جائیگی۔ وفاقی سطح پر نئی خصوصی عدالتیں قائم کی جائینگی۔ الگ تھانے اور الگ جیلیں قائم کی جائینگی۔جبکہ مقدمات کی تفتیش کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں تشکیل دی جائینگی۔مذکورہ قانون کے تحت ملزموں کو تین کلاسوں میں تقسیم کیا جائیگا۔ ایک ، غیر ملکی ملزم ، دوسرے ملکی دہشت گرد اور تیسرے عام ملزم ہونگے۔ لیکن مذکورہ قانون کے قیام سے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997، پاکستان پینل کوڈ 1860، پاکستان آرمز ایکٹ 1965اور فارنرز ایکٹ 1946کے وجود پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ بھتہ خوری ، دہشت گردی ، اغوابرائے تاوان اور سنگین نوعیت کے جرائم کی روک تھام کے لیے ملک میں پہلے سے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997موجود ہے۔ جس کے تحت کسی بھی شخص کو انسدد دہشت گردی کی عدالت جرم ثابت ہونے پر ملک دشمن یا غدار قرار دے سکتی ہے اور خوف ہراس پھیلانے والے کے خلا ف بھی مذکورہ قانون کے تحت ہی مقدمہ درج ہوتا ہے۔اسی طرح انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997کے سیکشن 19کے تحت کسی بھی مقدمے کی مشترکہ تفتیش کے لیے آئی ایس آئی ، آئی بی ، ایف آئی اے یا دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جاسکتی ہے۔ جبکہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 6بھی پہلے سے موجود ہے۔ جو کہ غدار کا تعین کرتا ہے۔ پروٹیکیشن آف پاکستان ایکٹ کے نفاذ سے متذکرہ بالا قوانین کے وجود پر سوالیہ نشان ثبت ہوگیاہے۔اور پروٹیکیشن آف پاکستان ایکٹ کے ہمراہ ان قوانین کے نافذا لعمل رہنے سے پیچیدگیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایک طرف جرم کے تعین میں مشکل پیدا ہوگی۔دوسری طرف پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں میں موجود کرپٹ عناصر ان پیچیدگیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام الناس کو تنگ کرینگے۔ اور یہ قوانین کرپٹ ملازمین کے لیے ناجائز آمدن کا ذریعہ بنیں گے۔اس سلسلے میں گفتگوکرتے ہوئے قانونی و آئینی ماہرین کا کہناتھا کہ یہ قانون غلط استعمال کیا جائیگا۔ سائیکل یا گدھا گاڑی سے ٹکرانے والا پروٹیکیشن آف پاکستان ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کروادیگا۔ انسداد دہشت گردی جیسے دیگر قوانین کی موجودگی میںاس قانون کی ضرورت نہیں تھی۔ ضرورت قانون پر صیح طرح سے عمل کرنے کی ہے۔ یہ قانون آئین و قانون کے خلاف ہے۔مذکورہ قانون کے نفاذ سے قبل پہلے سے موجود قوانین کو ختم کرنا یا ان میں ترمیم کرنا لازمی تھا۔

مزید :

صفحہ اول -