نئے قانون کے تانے بانے ایبڈو، پوڈہ ،پروڈا ،احتساب اور ڈیفنس رولز سے ملنےلگے

نئے قانون کے تانے بانے ایبڈو، پوڈہ ،پروڈا ،احتساب اور ڈیفنس رولز سے ملنےلگے ...

  

          لاہور(انویسٹی گیشن سیل) تحفظ پاکستان قانون کے تانے بانے ایبڈو، پوڈو ،پروڈا ، احتساب اور ڈیفنس آف پاکستان رولز سے ملنے لگے۔قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے اس قانون کے تحت ملک پاکستان، اس کے شہریوں اور اس کی افواج کے خلاف اسلحہ اٹھانے ،ملکی سالمیت کے خلاف دھمکی دینے یا جنگ کرنے والا شخص،آتش زنی، خود کش دھماکے،پولیو ورکروں کا قتل اور دفاعی و مواصلاتی تنصیبات پر حملہ کرنے والا اس قانون کی زد میں آئیگا۔اور ایسے شخص کو دوماہ تک حراست میں رکھا جاسکے گا۔ جبکہ جرم ثابت ہونے پر 20سال قید کی سزا دی جاسکے گی۔ معلوم ہواہے کہ قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے احتجاج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پروٹیکشن آف پاکستان بل2014 کی منظوری دیدی ہے سینٹ سے بل پہلے ہی منظور ہوچکا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحفظ پاکستان قانون کے تانے بانے ایبڈو، پوڈو ،پروڈا ، احتساب اور ڈیفنس آف پاکستان رولز سے ملنے لگے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوںکو خدشہ ہے کہ یہ قانون ماضی کی طرح سیاستدانوں ، سیاسی کارکنوں اور ان کے حمائتیوں کو ڈرانے دھمکانے اور سیاسی وفاداریاں خریدنے کے لیے استعمال ہوگا۔ پاکستان میں سیاستدانوں اور سیاسی حریفوں کو انتقام کا نشانہ بنانے، فلور کراسنگ، جوڑ توڑ اور سیاسی وفاداریاں خریدنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ 1949ءمیں عوامی نمائندوں کی نااہلی کا قانون ”پروڈا“ منظر عام پر آیا، اس قانون کے تحت مرکزی یا صوبائی اسمبلیوں کے ارکان یا وزارءوغیرہ کے خلاف اختیارات سے تجاوز کرنے، اقرباپروری، ناجائز اثاثہ جات، بدعنوانی اور رشوت ستانی جیسے مقدمات قائم کیے گئے۔ اس قانون کا نفاذ 14 اگست 1949 کے دن سے قرار دیا گیا، مذکورہ بالا الزامات کے تحت ایوب کھوڑو، پیر الٰہی بخش، حمید اسحق چودھری اور افتخار ممدوٹ وغیرہ کو سزائیں سنائی گئیں مذکورہ قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا ملزم کی 10 سال کے لیے کسی بھی عہدے کے لیے نااہلی مقرر کی گئی تھی، مذکورہ قانون کے نفاذ کے بعد حکومت کے سیاسی مخالفین شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے، اس قانون کے تحت حکومت چند ایک سیاستدانوں کے سوا تمام کی وفاداریاں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی، پروڈا کے بعد صدر ایوب کے دور میں پوڈو اور ایبڈو کے قوانین بنائے گئے، جن کے تحت سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ بیورو کریٹس اور دیگر سرکاری افسروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا، یہ قانون 1942ءکے بعد سے سرکاری عہدوں پر رہنے والے افراد کے لیے موثر قرار دیا گیا تھا، اس قانون کے تحت حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کو سختی سے ساتھ کچل ڈالا، بہت سے افسران قابو میں آئے اور سیاستدانوں کی وفاداریاں خریدی گئیں، اس قانون کے تحت عوامی نمائندوں کو 6 سال کے لیے نااہل قرار دیا جا سکتا تھا،1965کی جنگ کے ساتھ ہی ملک میں ڈیفنس آف پاکستان رولز کا نفاذ کردیا گیا۔جس کے تحت عوام کے بنیادی حقوق معطل کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ دشمن سے گٹھ جوڑ کرکے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔مذکورہ رولز ایوب دور کے بعد بھی نافذ العمل رہے۔اور سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کے بعد جنرل ضیا الحق نے بھی ان رولز کو نافذ رکھا۔ جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دور حکومت میں اگر چہ پروڈا یا پوڈو ، ایبڈو نافذ العمل نہ تھے، تاہم جنرل ضیاءالحق نے پیپلزپارٹی اور اپنے دیگر سیاسی مخالفین کو سبق سکھانے کے لیے متذکرہ بالا رولز اور دیگر قوانین ساتھ ساتھ فوجی عدالتوں کا سہارا لیا۔اور فوجی عدالتوں نے چن چن کر حکومت مخالف سیاستدانوں کو سزائیں دیں، جس سے بہت سے سیاستدانوں نے اپنی وفاداریاں بھی بدل ڈالیں، فوجی عدالتوں نے اپنے دوسرے دور حکومت میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی ”احتساب“ کے اس عمل کو جاری رکھا تاہم اس کی تکمیل سے قبل ہی 12 اکتوبر 1999ءکو جنرل پرویز مشرف نے ان کی حکومت ختم کرتے ہوئے، نیب آرڈیننس 1999کے تحتسیاسی حریفوں، سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور وزرائ، امراءکے خلاف کرپشن، بدعنوانی، اقرباپروری، ناجائز اثاثوں، آمدن سے زیادہ اخراجات اختیارات سے تجاوز کرنے اور رشوت لینے کے الزامات کے تحت ریفرنس بنائے گئے، متعدد سیاستدانوں اور بیورکریٹس و نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کو سزائیں سنائی گئیں، جس سے حکومت کے سیاسی مخالفین پریشان ہو گئے، اور بہت سے نامور سیاستدان اپنی وفاداریاں بدل کر حکومت کے ساتھ شامل ہو گئے۔ پاکستان میںمختلف ادوار میں متذکرہ بالا اور دیگر قوانین کے تحت زیر حراست لیئے جانے یا سزاپانے والے سیاستدانوں میں سابق وزیراعظم 3 ستمبر 1977ءکو ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، لاہور ہائی کورٹ نے بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی اور 4 اپریل 1979 کو علی الصبح سابق وزیر اعظم پاکستان ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو ، سابق صدر مملکت آصف علی زرداری،سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو، وزیر اعظم میاں نواز شریف، سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عارف نکئی، سابق وزیر اعلیٰ مہتاب احمد خان، سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاﺅ، سابق گورنر سردار ذولفقار کھوسہ، پرویز رشید، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، ایم کیوایم کے مرکزی رہنما فاروق ستار، سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ، غلام احمد مانیکا، اعظم ہوتی، سابق وفاقی وزیر حفیظ اللہ چیمہ ، سابق ایم پی اے ملک اعظم ، سابق صوبائی وزیر محمد سرمد خان کاکڑ، سابق صوبائی وزیر مہر محمد علی رند، تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جاوید ھاشمی، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی،سابق وزیر اعظم ملک معراج خالد، سابق وزیر مملکت معراج محمد خان، خان عبدالولی خان،خان عبدالقیوم خان،سابق وزیر اعظم حسین شہید سہروردی، مولانا عبدالستار نیازی اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ پیر الٰہی بخش اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ ایوب کھوڑو و دیگر سیاستدانوں کے نام شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق تحفظ پاکستان قانون کے تحت ملک پاکستان، اس کے شہریوں اور اس کی افواج کے خلاف اسلحہ اٹھانے ،ملکی سالمیت کے خلاف دھمکی دینے یا جنگ کرنے والا شخص اس قانون کی زد میں آئیگا۔اور ایسے شخص کو دو ماہ تک حراست میں رکھا جاسکے گا۔ اور ملک کے سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قانون ماضی کی طرح سیاستدانوں ، سیاسی کارکنوں اور ان کے حمائتیوں کو ڈرانے دھمکانے اور سیاسی وفاداریاں خریدنے کے لیے استعمال ہوگا۔

مزید :

صفحہ اول -