تحفظ پاکستان ایکٹ ،2014آئین کے آرٹیکل 14,10,8سے متصادم

تحفظ پاکستان ایکٹ ،2014آئین کے آرٹیکل 14,10,8سے متصادم

  

                            لاہور(شہباز اکمل جندران/انویسٹی گیشن سیل) تحفظ پاکستان ایکٹ2014 ، آئین کے آرٹیکل 8، 10،14سے متصادم ہے۔ قانون کو کسی بھی اعلیٰ عدالتی فورم پر چیلنج کیا گیا تو کالعدم قرا ردےاسکتا ہے۔ معلوم ہواہے کہ سینٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی تحفظ پاکستان ایکٹ2014 کی منظوری دیدی ہے۔ جس کے بعد یہ بل قانونی شکل اختیار کر گیا ہے۔ مذکورہ قانون کے تحت کسی بھی شخص کو وارنٹ گرفتاری کے بغیر گرفتار کیا جاسکے گا۔اسے 60دنوں تک جسمانی ریمانڈ پر متعلقہ اتھارٹیوں کے سپرد کیا جاسکے گا۔ اور عدالت کے پاس بھی اختیار ہوگا کہ ایسے ملزم کو 60روز تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں رکھ سکے۔دوسری طرف اس قانون کے تحت گزٹیڈ افسر کی بجائے گریڈ 15کے ملازم کے حکم پر گولی مارنے کا اختیاردیا گیا ہے۔لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ قانون ملکی دستور کے خلاف ہے۔ اور ملک میں کوئی بھی قانون خلاف آئین نہیں بنایا جاسکتا۔آئین کے آرٹیکل 8کے مطابق کوئی قانون یا رسم یا رواج جو قانون کا درجہ رکھتا ہو ، غیر مطابقت کی اس حد تک کالعدم ہوگا۔جس حد تک وہ اس باب میں عطا کردہ حقوق کا تقیض ہو، مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کریگی۔ جو عطا کردہ حقوق کو سلب کرے یا کم کرے ہر وہ قانون جو اس شق کی خلاف ورزی میں وضع کیا جائے اس خلاف ورزی کی حد تک کالعدم ہوگا۔اسی طرح آئین کے آرٹیکل10کے مطابق کسی شخص کو جسے گرفتار کیا گیا ہو، مذکورہ گرفتاری کی وجوہ جس قدر جلد ہوسکے آگاہ کئے بغیر نہ تو نظر بند رکھا جائیگا۔اور نہ اسے اپنی پسند کے کسی قانون پیشہ شخص کو مشورہ کرنے اور اس کے ذریعہ صفائی پیش کرنے کے حق سے محروم کیا جائیگا۔ہر وہ شخص جسے گرفتا رکیا گیا ہو اور نظر بند کیا گیا ہو کو گرفتاری سے 24گھنٹے کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوگا۔اسی طرح آرٹیکل 10-Aکے تحت ملک کے ہر شہری کو شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ جبکہ آئین کے آرٹیکل 14کے تحت شرف انسانی اور قانون کے تابع گھر کی خلوت بہر صورت قابل حرمت ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحفظ پاکستان ایکٹ2014آئین کے متذکرہ بالا آرٹیکلز سے متصادم ہے۔اور کسی بھی اعلیٰ عدالتی فورم پر چیلنج ہونے کی صورت آئین سے متصادم قرار پائے جانے پر کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -