سانحہ ماڈل ٹاﺅن ،ٹربیونل پتہ کرائے کہ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا ،وکلاءکی استدعا

سانحہ ماڈل ٹاﺅن ،ٹربیونل پتہ کرائے کہ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا ،وکلاءکی ...

  

        لاہور(نامہ نگار خصوصی )جوڈیشل ٹربیونل نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے 4 زخمیوں کو بیانات قلمبند کروانے کیلئے 4 جولائی کو پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے،آٹھویں دن کی کارروائی میں بھی وکلا کی جانب سے استدعاکی گئی کہ ٹربیونل سب سے پہلے گولی چلانے کا حکم دینے والی شخصیت کا پتہ چلائے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل جوڈیشل ٹربیونل نے اپنی آٹھویں دن کی اوپن کارروائی کی، جناح ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالرﺅف نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ چار زخمی وقاص، معراج الدین، ارسلان اور ہارون ابھی بھی زیر علاج ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے، ٹربیونل کے استفسار پر ایم ایس جناح ہسپتال نے بتایا کہ چاروں زخمی بیان قلمبند کرانے کی پوزیشن میں ہیں، جس پر ٹربیونل نے چاروں زخمیوں کو چار جولائی کیلئے پیش ہونے کی ہدایت کر دی، ٹربیونل کے روبرو آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ٹربیونل کی تشکیل کو 14 دن گزر چکے ہیں جبکہ ٹربیونل نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی آٹھ کھلی سماعتیں بھی مکمل کر لی ہیں تاہم ابھی ٹربیونل اس بنیادی بات تک نہیں پہنچ سکا کہ 17جون کو پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں پر گولیاں چلانے کا حکم کس نے دیا، آفتاب باجوہ نے استدعا کی کہ ٹربیونل سابق سی سی پی او لاہور چودھری شفیق احمد سے پتہ کرائے کہ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، انہوں نے مزید استدعا کی کہ رانا ثنا اللہ سمیت حکومتی شخصیات کی پولیس افسران کے ساتھ گفتگوکا ریکارڈ بھی طلب کیا جائے۔ ٹربیونل نے تجاویز کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے کارروائی آج 3جولائی تک ملتوی کر دی۔

مزید :

صفحہ اول -